1
Tuesday 7 Apr 2020 19:27

عراق میں ناکام ہوتا امریکی کھیل

عراق میں ناکام ہوتا امریکی کھیل
تحریر: ہادی محمدی

گذشتہ کچھ عرصے سے امریکی حکام نے مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے جیوپولیٹیکل میدان میں عراق کو اپنی پالیسیز اور حکمت عملی کا مرکز بنا رکھا ہے۔ ان کا تصور ہے کہ وہ خام تیل کی پیداوار سے حاصل دولت، جیوپولیٹیکل صلاحیتوں اور خطے کے اصلی کھلاڑی ہونے کے ناطے اسلامی جمہوریہ ایران کو متاثر کرنے کی قابلیتوں کے پیش نظر عراق میں اپنی موجودگی باقی رکھیں۔ اس مقصد کیلئے امریکی حکام نے عراق میں اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ عراق میں اپنی فرمانبردار حکومت لا کر اب تک خطے میں ہونے والی گذشتہ ناکامیوں اور نقصانات کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یمن سے فلسطین تک، لبنان سے شام تک اور آخرکار عراق میں پائی جانے والی موجودہ صورتحال امریکی عزائم اور اہداف کے حق میں نہیں بلکہ اس کے باعث امریکہ کی پوری اسٹریٹجی اور اب تک انجام پانے والے تمام اقدامات بے فائدہ ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔ یاد رہے گذشتہ عراقی وزیراعظم محمد توفیق علاوی کی جانب سے استعفی پیش کئے جانے کے بعد عراقی پارلیمنٹ کو نئے وزیراعظم کا نام پیش کرنے کیلئے دو ماہ کی مہلت فراہم کی گئی تھی لیکن وہ ایسا نہ کر سکی۔

اگرچہ شام، یمن، لبنان اور فلسطین میں امریکی ناکامیوں کی اچھی مثالیں موجود ہیں لیکن ہم امریکی منصوبے میں مرکزی کردار کے حامل ملک یعنی عراق میں اس کی ناکامیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ امریکی حکام نے ہمیشہ سے اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کیلئے دہشت گردانہ، غیر قانونی، انسان مخالف اور بحری قزاقوں والا انداز اپنایا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی حکام اس وہم و گمان کا شکار تھے کہ وہ خطے کی آمر حکومتوں کے حمایت یافتہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے مقابلے میں مصروف دو مرکزی کمانڈرز یعنی جرنل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کو قتل کر کے عراق میں اپنا اثرورسوخ بحال کر سکتے ہیں۔ امریکہ اس غلط فہمی کا شکار تھا کہ وہ ان دو عظیم کمانڈرز کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد عراق میں جوکر نما کرائے کے قاتلوں اور دل میں امریکی شہریت اور گرین کارڈ کی امید بسائے جاسوسوں کے تعاون سے عراق میں قومی طاقت کے تمام مراکز پر اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن امریکہ کے ان اوہام کے برعکس جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی شہادت نے خطے میں امریکہ اور عالمی استکبار کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد میں مصروف اسلامی مزاحمتی بلاک میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا۔

یوں ان دو عظیم شخصیات کی شہادت کے بعد اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل گروہوں نے پہلے سے زیادہ باعزم ہو کر خطے سے امریکہ اور غاصب صہیونی رژیم کے ناپاک وجود کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسلامی مزاحمت سے وابستہ بعض عراقی گروہوں نے ایک ہفتے کے اندر امریکی فوجی اڈوں کے اردگرد تقریبا 30 علامتی فوجی اقدامات انجام دیے ہیں۔ ان کا مقصد امریکہ کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا تھا کہ ان کے تمام مراکز مکمل طور پر اسلامی مزاحمت کے نشانے پر ہیں اور وہ جب چاہیں اس پر کاری ضرب لگا سکتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے عراق میں عین الاسد اور حریر فوجی اڈوں کے علاوہ باقی تمام مراکز بند کر کے اپنے فوجی ان دو اڈوں میں جمع کرنے کی یہی وجہ تھی۔ دوسری طرف ڈٰونلڈ ٹرمپ اور مائیک پمپئو کی جانب سے اسلامی مزاحمتی گروہوں کے خلاف دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی اسی وجہ سے سامنے آیا۔ دوسری طرف شمال سے لے کر جنوب تک عراق میں موجود امریکی جاسوس اور جوکر نما دہشت گرد بھی اسلامی مزاحمت کی ایک یلغار پر کھسیانی بلی کی طرح اپنی بلوں میں گھس گئے ہیں۔

امریکہ بہت اچھی طرح اسلامی مزاحمت کے عزم اور حوصلے سے آگاہ ہے لہذا عراق سے انخلاء پر مبنی مکمل طور پر قانونی اور اخلاقی مطالبے کے مقابلے میں کھوکھلی دھمکیاں دینے میں مصروف ہے۔ عراق میں سوشل میڈیا پر سرگرم امریکی پٹھووں اور سیاسی میدان میں حاضر امریکی ایجنٹس نے فوجی اڈے خالی کرنے پر مبنی ناکامی چھپانے اور شیعہ گروہوں کو امریکہ کا کٹھ پتلی وزیراعظم قبول کرنے پر مجبور کرنے کیلئے بھرپور مہم کا آغاز کر دیا ہے اور اس مقصد کیلئے ناصریہ میں بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ امریکہ عراق کے بعض اراکین پارلیمنٹ کو خرید کر عدنان الزرفی کیلئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے درپے ہے۔ دوسری طرف پارلیمنٹ میں موجود سنی اور کرد پارلیمانی گروہوں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ شیعہ اکثریتی پارلیمانی گروہ کی جانب سے پیش کردہ نام کی حمایت کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عدنان الزرفی کی چھٹی ہو چکی ہے اور نئے آنے والے وزیراعظم کا اصلی ایجنڈہ ملک سے امریکی فوجیوں کو نکال باہر کرنے پر مشتمل ہو گا۔ اسی طرح کرپشن کا خاتمہ بھی اس وقت ایک قومی مطالبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ کرپشن کا مقابلہ بھی امریکیوں کو نکال باہر کئے بغیر انجام نہیں پا سکتا کیونکہ یہ کرپشن امریکہ کی ہی پیدا کردہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 855241
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش