0
Saturday 9 May 2020 19:14

کریم اہل بیت امام حسن مجتبٰی (1)

کریم اہل بیت امام حسن مجتبٰی (1)
تحریر: سیدہ ایمن نقوی

آپ پندرہ رمضان ۳ ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، ولادت سے قبل ام الفضل نے خواب میں دیکھا کہ رسول اکرم کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں آ پہنچا ہے، خواب رسول کریم سے بیان کیا، آپ نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ میری لخت جگر فاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کروگی۔ مورخین کا کہنا ہے کہ رسول (ص) کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی، آپ کی ولادت نے رسول کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورہ کوثر کی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔ دنیا جانتی ہے کہ انہی امام حسن علیہ السلام اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کثرت نصیب ہوئی۔
 
 ولادت کے بعد آپکا اسم گرامی حمزہ تجویز ہو رہا تھا لیکن سرور کائنات نے بحکم خدا، موسٰی کے وزیر ہارون کے فرزندوں کے شبر و شبیر نام پر آپ کا نام حسن اور بعد میں آپ کے بھائی کا نام حسین رکھا، بحارالانوار میں نقل ہے کہ امام حسن کی پیدائش کے بعد جبرئیل امین نے سرورکائنات کی خدمت میں ایک سفید ریشمی رومال پیش کیا جس پرحسن لکھا ہوا تھا۔ ماہر علم النسب علامہ ابوالحسین کا کہنا ہے کہ خداوند عالم نے فاطمہ کے دونوں شاہزادوں کا نام دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رکھا تھا، یعنی ان سے پہلے حسن و حسین نام سے کوئی موسوم نہیں ہوا تھا۔ کتاب اعلام الورٰی کے مطابق یہ نام بھی لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوا تھا۔ حضرت امام حسن علیہ السلام کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تربیت نصیب ہوئی۔ آپ عادات و اطوار، عقل و فہم میں پیغمبر خدا (ص) کا پرتو تھے۔

علل الشرائع میں ہے کہ جب امام حسن کی ولادت ہوئی اور آپ کو سرور کائنات کی خدمت میں لایا گیا تو رسول کریم بے انتہا خوش ہوئے اور ان کے دہن مبارک میں اپنی زبان اقدس دیدی۔ بحارالانور میں ہے کہ آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں آذان میں اور بائیں کان میں اقامت کہنے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسن اسے چوسنے لگے اس کے بعد آپ نے دعا کی، خدایا! اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ امام حسن کو لعاب دہن رسول (ص) سے کم اور امام حسین کو زیادہ چوسنے کا موقع دستیاب ہوا تھا اسی لیے امامت نسل حسین میں مستقر ہو گئی۔ آپ کی ولادت کے ساتویں دن سرکار کائنات نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی صدقہ کی۔ 1

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن علیہ الاسلام پیغمبر اسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزند رسول کا درجہ دیا ہے اور اپنے دامن میں جابجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی ہے، خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشاد فرمائی ہیں: ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ "میں حسنین کو دوست رکھتا ہوں اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں"۔ ایک صحابی کا بیان ہے کہ میں نے رسول کریم کو اس حال میں دیکھا ہے کہ وہ ایک کندھے پر امام حسن کو اور ایک کندھے پر امام حسین کو بٹھائے ہوئے لیے جا رہے ہیں اور باری باری دونوں کا منہ چومتے جاتے ہیں۔ ایک اور صحابی کا بیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین آپ کی پشت پرسوار ہو گئے کسی نے روکنا چاہا توحضرت نے اشارہ سے منع کردیا۔ 2 ایک صحابی کا بیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کو بہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں انکی ریش مبارک سے کھیلتے دیکھا۔ 3

امام بخاری اور امام مسلم لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت رسول خدا امام حسن کو کندھے پر بٹھائے ہوئے فرما رہے تھے "خدایا میں اسے دوست رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر"۔ حافظ ابو نعیم ابوبکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت نماز جماعت پڑھا رہے تھے کہ ناگاہ امام حسن آ گئے اور وہ دوڑ کر پشت رسول پر سوار ہو گئے، یہ دیکھ کر رسول کریم نے نہایت نرمی کے ساتھ سراٹھایا، اختتام نماز پر آپ سے اس کاتذکرہ کیا گیا تو فرمایا "یہ میرا گل امید ہے" "ابنی ہذا سید" یہ میرا بیٹا سید ہے اور دیکھو یہ عنقریب دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔ امام نسائی عبداللہ ابن شداد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نمازعشاء پڑھانے کے لیے آنحضرت تشریف لائے آپ کی آغوش میں امام حسن تھے آنحضرت نمازمیں مشغول ہوگئے، جب سجدہ میں گئے تو اتنا طول دیاکہ میں یہ سمجھنے لگا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے، اختتام نماز پر آپ سے اس کا ذکر کیا گیا، تو فرمایا کہ میرا فرزند میری پشت پر آ گیا تھا، میں نے یہ نہ چاہاکہ اسے اس وقت تک پشت سے اتاروں، جب تک کہ وہ خود نہ اترجائے، اس لیے سجدہ کو طول دینا پڑا۔

جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ آل محمدکی سرداری مسلمات میں سے ہے، علماء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ سرورکائنات نے ارشادفرمایاہے "الحسن والحسین سیدا شباب اہل الجنة و ابوہما خیر منہما" حسن اورحسین جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے والد بزرگوار یعنی علی بن ابی طالب ان دونوں سے بہتر ہیں۔ جناب حذیفہ یمانی کا بیان ہے کہ میں نے آنحضرت کو ایک دن بہت زیادہ مسرور پاکر عرض کی مولا! آج افراط شادمانی کی کیا وجہ ہے؟ ارشاد فرمایا کہ "مجھے آج جبرئیل نے یہ بشارت دی ہے کہ میرے دونوں فرزندحسن و حسین جوانان بہشت کے سردار ہیں اور ان کے والد علی ابن ابی طالب ان سے بھی بہتر ہیں"۔ 4 اس حدیث سے اس کی بھی وضاحت ہوگئی کہ حضرت علی صرف سید ہی نہ تھے بلکہ فرزندان سیادت کے باپ تھے۔  حکیم ترمذی، نسائی اور ابوداؤد نے لکھا ہے کہ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ حسنین آگئے اور حسن کے پاؤں دامن عبا میں اس طرح الجھے کہ زمین پرگرپڑے، یہ دیکھ کر آنحضرت نے خطبہ ترک کردیا اور منبر سے اتر کر انہیں آغوش میں اٹھا لیا اور منبر پرتشریف لے جا کرخطبہ شروع فرمایا۔ 5

رسول خدا کی ہی تربیت کا اثر تھا کہ آپ کی پوری زندگی انتہائی نظم و ضبط اور طہارت سے عبارت تھی۔ بچپن میں رسول اکرم آپکو اپنے ساتھ باقاعدگی سے مسجد نبوی لے کر جاتے۔ اپ کی عظمت اور بزرگی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ کم سنی کے باوجود رسول اکرم نے آپکو معاہدوں میں گواہ ٹہرایا۔ دستور دنیا کے مطابق اولاد کی نسبت باپ کی جانب ہوتی ہے مگر پیغمبر نے اپنے ان دونوں نواسوں کی یہ خصوصیت صراحت کے ساتھ بتائی کہ انہیں میرا نواسہ ہی نہیں بلکہ میرا فرزند کہنا درست ہے۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السّلام کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے مل کر اپکے ہاتھ پر  بیعت کی، عنان حکومت کا آپ کے ہاتھ میں آنا تھا کہ سوئے ہوئے فتنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ آپ فطری طور پر اپنے والد علی ابن ابی طالب کی مانند بہت شجاع تھے اور جنگ صفین اور جنگ جمل میں کارہائے نمایاں سر انجام دیئے، مگر یہاں حالات کی نزاکت  اور مستقبل کے حالات کا صحیح اندازہ کرتے ہوئے اسی وقت لوگوں پر صاف صاف شرط عائد کردی اور کہا اگر میں صلح کروں تو تم کو صلح کرنا ہوگی اور اگر میں جنگ کروں تو تمھیں میرے ساتھ مل کر جنگ کرنا ہوگی، سب نے اس شرط کو قبول کرلیا۔

آپ نے انتظامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لیا۔ اطراف میں عمال مقرر کئے، حکام متعین کئے اور مقدمات کے فیصلے کرنے لگے۔ یہ وقت وہ تھا کہ دمشق میں حاکم شام معاویہ کا سلطنت پر قبضہ مضبوط ہوچکا تھا۔ مستقبل نے اس بات کو واضع کیا کہ آپ کی دور اندیشی اور دانشمندی ہی تھی جس نے حالات کو سنبھالے رکھا۔ آپ بلاشبہ ہر جہت سے حسن تھے۔ امام حسن علیہ السّلام کی ایک غیر معمولی صفت "حلم" تھی، جس کے دوست اور دشمن سب معترف تھے، حکومت ُشام کے ہوا خواہ صرف اس لیے جان بوجھ کر سخت کلامی اور بد زبانی کرتے تھے کہ امام حسن علیہ السّلام کو غصہ آ جائے اور کوئی ایسا اقدام کردیں جس سے آپ پر عہد شکنی کا الزام عائد کیا جاسکے اور اس طرح خونریزی کا ایک بہانہ ہاتھ آئے مگر آپ ایسی صورتوں میں حیرت انگیز قوت برداشت سے کام لیتے تھے جو کسی دوسرے انسان کاکام نہیں ہے۔ آپ کی سخاوت اور مہمان نوازی بھی عرب میں مشہور تھی۔

علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ امام حسن کا یہ وطیرہ تھاکہ آپ انتہائی کم سنی کے عالم میں اپنے نانا پر نازل ہونے والی وحی من و عن اپنی والدہ ماجدہ کو سنا دیا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ اے بنت رسول میرا جی چاہتا ہے کہ میں حسن کو ترجمانی وحی کرتے ہوئے خود دیکھوں، اور سنوں، سیدہ نے امام حسن کے پہنچنے کا وقت بتادیا ایک دن امیرالمومنین حسن سے پہلے داخل خانہ ہوگئے اور گوشئہ خانہ میں چھپ کر بیٹھ گئے، امام حسن حسب معمول تشریف لائے اور ماں کی آغوش میں بیٹھ کر وحی سنانا شروع کردی لیکن تھوڑی دیر کے بعد عرض کی "یا اماہ قدتلجلج لسانی وکل بیانی لعل سیدی یرانی" مادرگرامی آج زبان وحی ترجمان میں لکنت اور بیان مقصد میں رکاوٹ ہو رہی ہے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے میرے بزرگ محترم مجھے دیکھ رہے ہیں۔ یہ سن کرحضرت امیر المومنین نے دوڑ کر امام حسن کو آغوش میں اٹھا لیا اوربوسہ دیا۔ 6 امام بخاری رقم طراز ہیں کہ ایک دن کچھ صدقہ کی کھجوریں آئی ہوئی تھیں امام حسن اور امام حسین اس کے ڈھیر سے کھیل رہے تھے اور کھیل ہی کھیل کے طور پر امام حسن نے ایک کھجور دہن اقدس میں رکھ لی، یہ دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "اے حسن کیا تمہیں معلوم نہیں ہے؟ کہ ہم لوگوں پر صدقہ حرام ہے۔ 7

حضرت حجة الاسلام شہید ثالث قاضی نور اللہ شوشتری تحریر فرماتے ہیں کہ امام پر اگرچہ وحی نازل نہیں ہوتی لیکن اس کو الہام ہوتا ہے اور وہ لوح محفوظ کا مطالعہ کرتا ہے، جس پرعلامہ ابن حجر عسقلانی کا وہ قول دلالت کرتا ہے جو انہوں نے صحیح بخاری کی اس روایت کی شرح میں لکھا ہے جس میں آنحضرت نے امام حسن کے شیرخوارگی کے عالم میں صدقہ کی کھجور کے منہ میں رکھ لینے پر اعتراض فرمایا تھا "کخ کخ اما تعلم ان الصدقة علینا حرام" تھوکو تھوکو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم لوگوں پرصدقہ حرام ہے اور جس شخص نے یہ خیال کیاکہ امام حسن اس وقت دودھ پیتے تھے آپ پر ابھی شرعی پابندی نہ تھی آنحضرت نے ان پر کیوں اعتراض کیا تو اس کا جواب علامہ عسقلانی نے اپنی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں دیا ہے کہ امام حسن اور دوسرے بچے برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ "ان الحسن یطالع لوح المحفوظ" امام حسن شیرخوارگی کے عالم میں بھی لوح محفوظ کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ 8 یہ بات بھی مسلمات میں سے ہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام علم لدنی کے مالک ہیں، وہ دنیا میں تحصیل علم کے محتاج نہیں ہوا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بچپن میں ہی ایسے مسائل علمیہ سے واقف ہوتے تھے جن سے دنیا کے عام علماء اپنی زندگی کے آخر تک بے بہرہ رہتے تھے۔

امام حسن علیہ السلام جو خانوادہ رسالت کے ایک فرد اکمل اور سلسلہ عصمت کی ایک مستحکم کڑی تھے، کے بچپن کے حالات و واقعات دیکھے جائیں تو اس دعوی کا ثبوت مل جائیگا۔ مناقب ابن شہر آشوب میں بحوالہ شرح اخبار قاضی نعمان مرقوم ہے کہ ایک سائل حضرت ابوبکر کی خدمت میں آیا اور اس نے سوال کیا کہ میں نے حالت احرام میں شترمرغ کے چند انڈے بھون کر کھا لیے ہیں، بتائیے کیا مجھ پر کفارہ واجب الادا ہوا؟ سوال کا جواب چونکہ ان کے بس کا نہ تھا اس لیے عرق ندامت پیشانی خلافت پر آگیا ارشاد ہوا کہ اسے عبدالرحمٰن بن عوف کے پاس لے جاؤ، جو ان کے سامنے سوال دہرایا تو وہ بھی خاموش ہوگئے اور کہاکہ اس کا حل توا میرالمومنین کرسکتے ہیں_ سائل حضرت علی کی خدمت میں لایا گیا، آپ نے سائل سے فرمایا کہ میرے دو چھوٹے بچے جو سامنے نظر آرہے ہیں ان سے دریافت کرلے، سائل امام حسن کی طرف متوجہ ہوا اور مسئلہ دہراہا۔ امام حسن علیہ السلام نے جواب دیاکہ تونے جتنے انڈے کھائے ہیں اتنی ہی عمدہ اونٹیاں لے کر انہیں حاملہ کرا اور ان سے جو بچے پیدا ہوں انہیں راہ خدا میں ہدیہ خانہ کعبہ کر دے۔ امیرالمومنین نے ہنس کر فرمایاکہ بیٹا جواب تو بالکل صحیح ہے لیکن یہ بتاؤ کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ کچھ حمل ضائع ہو جاتے ہیں اور کچھ بچے مر جاتے ہیں۔

عرض کی باباجان بالکل درست ہے مگر ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ کچھ انڈے بھی خراب اور گندے نکل جاتے ہیں یہ سن کر سائل پکار اٹھا کہ ایک مرتبہ اپنے عہد میں سلیمان بن داؤد نے بھی یہی جواب دیا تھا جیسا کہ میں نے اپنی کتابوں میں دیکھا ہے۔ اسی طرح ایک روز امیرالمومنین مقام رحبہ میں تشریف فرماتے تھے اور حسنین بھی وہاں موجود تھے ناگاہ ایک شخص آکرکہنے لگا کہ میں آپ کی رعایا اور اہل بلد (شہری) ہوں، حضرت نے فرمایا کہ تو جھوٹ کہتا ہے تو نہ میری رعایا میں سے ہے اور نہ میرا شہری ہے بلکہ تجھے بادشاہ روم نے بھیجا ہے، تجھے اس نے معاویہ کے پاس چند مسائل دریافت کرنے کے لیے بھیجا تھا، اور اس نے میرے پاس بھیجدیا ہے۔ اس نے کہا یاحضرت آپ کا ارشاد باکل درست ہے مجھے معاویہ نے پوشیدہ طور پر آپ کے پاس بھیجا ہے اور اس کا حال خداوند عالم کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہے مگر آپ بہ علم امامت سے سمجھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ اچھا اب ان مسائل کے جوابات ان دو بچوں میں سے کسی ایک سے پوچھ لے وہ امام حسن کی طرف متوجہ ہوا چاہتا تھا کہ سوال کرے امام حسن نے فرمایا: اے شخص تو یہ دریافت کرنے آیا ہے کہ 1۔ حق و باطل میں کتنا فاصلہ ہے؟ 2۔ زمین و آسمان تک کتنی مسافت ہے؟ 3۔ مشرق و مغرب میں کتنی دوری ہے؟ 4۔ قوس قزح کیا چیز ہے؟

5۔ مخنث کسے کہتے ہیں؟ 6۔ وہ دس چیزیں کیا ہیں جن میں سے ہر ایک کو خداوند عالم نے دوسرے سے سخت اور فائق پیدا کیا ہے؟۔ اے شخص تو سُن! حق و باطل میں چار انگشت کا فرق و فاصلہ ہے اکثر و بیشتر جو کچھ آنکھ سے دیکھا حق ہے اور جو کان سے سنا باطل ہے۔ (آنکھ سے دیکھا ہوا یقینی، کان سے سنا ہوا محتاج تحقیق ہے۔ فرمایا زمین اور آسمان کے درمیان اتنی مسافت ہے کہ مظلوم کی آہ اور آنکھ کی روشنی پہنچ جاتی ہے۔ مشرق و مغرب میں اتنافاصلہ ہے کہ سورج ایک دن میں طے کرلیتا ہے اور قوس و قزح اصل میں قوس خدا ہے اس لئے کہ قزح شیطان کا نام ہے۔ یہ فراوانی رزق اور اہل زمین کے لیے غرق سے امان کی علامت ہے اس لئے اگریہ خشکی میں نمودار ہوتی ہے تو بارش کے حالات میں سے سمجھی جاتی ہے اور بارش میں نکلتی ہے تو ختم باران کی علامت میں سے شمار کی جاتی ہے۔ مخنث وہ ہے جس کے متعلق یہ معلوم نہ ہوکہ مرد ہے یا عورت اور اس کے جسم میں دونوں کے اعضاء ہوں اس کا حکم یہ ہے کہ تا حد بلوغ انتظار کریں اگر محتلم ہو تو مرد اورحائض ہو اور پستان ابھر آئیں تو عورت۔ اگر اس سے مسئلہ حل نہ ہو تو دیکھنا چاہیئے کہ اس کے پیشاب کی دھاریں سیدھی جاتی ہیں یا نہیں اگر سیدھی جاتی ہیں تو مرد،ورنہ عورت۔ اور وہ دس چیزیں جن میں سے ایک دوسرے پرغالب و قوی ہے وہ یہ ہیں کہ خدا نے سب سے زیادہ سخت قوی پتھر کو پیدا کیا ہے مگر اس سے زیادہ سخت لوہا ہے جو پتھرکو بھی کاٹ دیتا ہے اور اس سے زائد سخت قوی آگ ہے جو لوہے کو پگھلا دیتی ہے اور آگ سے زیادہ سخت قوی پانی ہے جو آگ کو بجھا دیتا ہے۔ 

اور اس سے زیادہ سخت و قوی ابر ہے جو پانی کو اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہے اور اس سے زیادہ قوی ہوا ہے جو ابرکو اڑائے پھرتی ہے اور ہوا سے زیادہ سخت و قوی فرشتہ ہے جس کی ہوا محکوم ہے اور اس سے زیادہ سخت و قوی ملک الموت ہے جو فرشتہ باد کی بھی روح قبض کرلیں گے اور موت سے زائد سخت و قوی حکم خدا ہے جو موت کو بھی ٹال دیتا ہے۔ یہ جوابات سن کرسائل ششدر رہ گیا۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھاکہ ایک شخص کے ہاتھ میں خون آلود چھری ہے اور اسی جگہ ایک شخص ذبح کیا ہوا پڑا ہے، جب اس سے پوچھا گیا کہ تونے اسے قتل کیا ہے،تو اس نے کہا ہاں، لوگ اسے جسد مقتول سمیت جناب امیرالمومنین کی خدمت میں لے چلے، اتنے میں ایک اور شخص دوڑتا ہوا آیا، اور کہنے لگا کہ اسے چھوڑ دو اس کا قاتل میں ہوں۔ ان لوگوں نے اسے بھی ساتھ لے لیا اورحضرت کے پاس لے گئے، سارا قصہ بیان کیا آپ نے پہلے شخص سے پوچھاکہ جب تو اس کاقاتل نہیں تھا تو کیا وجہ ہے کہ اپنے کو اس کا قاتل بیان کیا، اس نے کہا مولا میں قصاب ہوں گوسفند ذبح کر رہا تھا کہ مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی، اسی طرح خون آلود چھری لیے ہوئے اس خرابہ میں چلاگیا وہاں دیکھاکہ یہ مقتول تازہ ذبح کیا ہوا پڑا ہے، اتنے میں لوگ آگئے اور مجھے پکڑلیا میں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس وقت جبکہ قتل کے سارے قرائن موجود ہیں میرے انکار کو کون باور کرے گا میں نے اقرارکرلیا۔ پھر آپ نے دوسرے سے پوچھا کہ تو اس کاقاتل ہے اس نے کہا جی ہاں، میں ہی اسے قتل کرکے چلا گیا تھا جب دیکھاکہ ایک قصاب کی ناحق جان چلی جائے گی تو حاضر ہوگیا۔

آپ نے فرمایا میرے فرزند حسن کو بلاؤ وہی اس مقدمہ کا فیصلہ سنائیں گے امام حسن آئے اور سارا قصہ سنا، فرمایا دونوں کو چھوڑ دو یہ قصاب بے قصورہے اور یہ شخص اگرچہ قاتل ہے مگر اس نے ایک نفس کو قتل کیا تودوسرے نفس (قصاب) کو بچا کر اسے حیات دی اور اسکی جان بچالی اورحکم قرآن ہے کہ "من احیاہا فکانما احیا الناس جمیعا" 9 یعنی جس نے ایک نفس کی جان بچائی اس نے گویا تمام لوگوں کی جان بچائی۔ لہٰذا اس مقتول کا خون بہا بیت المال سے دیا جائے۔  علی ابن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ شاہ روم نے جب حضرت علی کے مقابلہ میں معاویہ کی چیرہ دستیوں سے آگاہی حاصل کی، تو دونوں کو لکھا کہ میرے پاس ایک ایک نمائندہ بھیج دیں، حضرت علی کی طرف سے امام حسن اور معاویہ کی طرف سے یزید کی روانگی عمل میں آئی یزید نے وہاں پہنچ کر شاہ روم کی دست بوسی کی اور امام حسن نے جاتے ہی کہا کہ خدا کاشکر ہے میں یہودی، نصرانی، مجوسی وغیرہ نہیں ہوں بلکہ خالص مسلمان ہوں۔ شاہ روم نے چند تصاویر نکالیں، یزید نے کہا میں ان سے ایک کو بھی نہیں پہچانتا اورنہ بتا سکتا ہوں کہ یہ کن حضرات کی شکلیں ہیں، امام حسن نے حضرت آدم، نوح، ابراہیم، اسماعیل، اور شعیب و یحٰی کی تصویریں دیکھ کر پہچان لیں اور ایک تصویر دیکھ کر آپ رونے لگے، بادشاہ نے پوچھا یہ کس کی تصویر ہے فرمایا میرے جد نامدار کی۔

اس کے بعد بادشاہ نے سوال کیا کہ وہ کون سے جاندار ہیں جو اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوئے؟ آپ نے فرمایا! اے بادشاہ وہ سات جاندارہیں :1۔2 ۔آدم وحوا 3۔ دنبہ ابراہیم 4۔ ناقہ صالح  5۔ ابلیس 6۔ موسٰی کا اژدھا 7۔ وہ کوا جس نے قابیل کی دفن ہابیل کی طرف رہبری کی۔ بادشاہ نے یہ تبحر علمی دیکھ کرآپ کی بڑی عزت کی اور تحائف کے ساتھ واپس کیا۔ علامہ ابن طلحہ شافعی بحوالہ تفسیر وسیط واحدی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس اور ابن عمر سے ایک آیت سے متعلق ”شاہد و مشہود“ کے معنی دریافت کئے ابن عباس نے شاہد سے یوم جمعہ اور مشہود سے یوم عرفہ بتایا اور ابن عمر نے یوم جمعہ اوریوم النحرکہا، اس کے بعد وہ شخص امام حسن کے پاس پہنچا، آپ نے شاہد سے رسول خدا اورمشہود سے یوم قیامت فرمایا اور دلیل میں آیت پڑھی، "یا ایھا النبی انا ارسلناک شاہدا و مبشرا و نذیرا"۔ 10 اے نبی! ہم نے تم کو شاہد و مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ "ذالک یوم مجموع لہ الناس و ذالک یوم مشہود"۔ 11 قیامت کا وہ دن ہوگا جس میں تمام لوگ ایک مقام پرجمع ہوں کردیئے جائیں گے، اور یہی یوم مشہود ہے۔ سائل نے سب کا جواب سننے کے بعد کہا، "فکان قول الحسن احسن" امام حسن کا جواب دونوں سے بہترین ہے۔ 12
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع و مآخذ:
1۔ (اسدالغابة جلد ۳ ص ۱۳)
2۔ (اصابہ جلد ۲ ص ۱۲)
3۔ (نورالابصارص ۱۱۹)
4۔ (کنزالعمال ج ۷ ص ۱۰۷، صواعق محرقہ ص ۱۱۷)
5۔ (مطالب السؤل ص ۲۲۳)۔
6۔ (بحارالانوار، جلد ۱۰ ص ۱۹۳)
7۔ (صحیح بخاری پارہ ۶ ص ۵۲)
8۔ (احقاق الحق ص ۱۲۷)
9۔ (سورہ مائدہ، آیہ 32)
10۔ (سورہ الحزاب، آیہ 45)
11۔ (سورہ ہود، آیہ 103)
12۔ (مطالب السؤل ص ۲۲۵)

 
خبر کا کوڈ : 861669
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش