0
Friday 15 May 2020 11:12

یوم القدس اور نئی سازش

یوم القدس اور نئی سازش
اداریہ
امام خمینیؒ کی طرف سے جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دینا اور آپ کی رحلت کے بعد رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا اس پر تاکید کرنا نیز مختلف خطابات اور بیانات میں مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا سب سے اہم اور ترجیحی مسئلہ قرار دینا ایسا اقدام ہے، جس نے صیہونی لابی کی نیندوں کو حرام کر رکھا ہے۔ صیہونی لابی اپنے مغربی اور عربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ہر آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی نئی سازش تیار کرتی ہے، جس سے فلسطین اور فلسطینی مجاہدین کی تکالیف اور مصائب میں اضافہ ہوتا ہے۔ صیہونی لابی نے 1882ء سے 1891ء اور 1917ء سے 1948ء تک مختلف سازشیں انجام دیکر فلسطین کی سرزمین پر اپنے غاصبانہ قبضے کو عملی بنایا۔

اس ہدف تک پہنچنے کے لیے صیہونی درندوں نے دیریاسین، صلاح الدین اور بعد میں صابرہ و شتیلا میں غیر انسانی کارروائیاں انجام دیں، اس کا ذکر کرکے تاریخ شرمندہ ہو جاتی ہے۔ 1948ء میں جب صیہونیوں نے فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کیا تو اس وقت پورے فلسطین میں مشکل سے آٹھ فیصد یہودی آباد تھے، جبکہ اس وقت پورے فلسطین کی صرف 27 فیصد سرزمین صیہونی شہریوں کے پاس تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور برطانیہ کی مکمل حمایت سے صیہونیوں نے فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر اجنبی اور مہاجر بنا دیا۔

فلسطین کو تقسیم کیا گیا۔ متنازعہ دیوار بنائی گئی، صیہونی بستیاں تعمیر کی گئیں، غزہ کا محاصرہ کیا گیا اور فلسطینی مہاجرین کی واپسی کو ناممکن بنایا گیا۔ اوسلو اور کیمپ ڈیوڈ جیسے معاہدوں کے نام پر فلسطینیوں کا استحصال کیا گیا اور ساز باز، مذاکرات کے ذریعے ہر بار فلسطینیوں میں محرومیاں تقسیم کی گئیں۔ آج ایک بار پھر امریکہ اور صیہونی حکومت غرب اردن یعنی ویسٹ بنک کے حصے بخرے کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ وہ مغربی کنارے کے 35 فیصد حصے پر قبضے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اس بار یوم القدس ایسے عالم میں آرہا ہے کہ امت مسلمہ کو سنچری ڈیل کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس نئی سازش کو بے نقاب کرکے اسے بھی ناکام بنانا ہے۔
خبر کا کوڈ : 862891
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش