7
Friday 22 May 2020 01:32

بیت المقدس پر زایونسٹ قبضہ کیسے ہوا؟(2)

بیت المقدس پر زایونسٹ قبضہ کیسے ہوا؟(2)
تحریر: محمد سلمان مہدی

بیت المقدس پر زایونسٹ نظریئے کے تحت منظم منصوبہ بندی کے ساتھ قبضہ کیا گیا۔ اس کے بعض اہم زایونسٹ کردار کا تذکرہ ہوا۔ لیکن اسرائیل کے قیام میں سب سے اہم کردار روتھس چائلڈ خاندان نے ادا کیا، جس کا اقرار چوتھے لارڈ نیدنیئل چارلس جیکب روتھس چائلڈ نے 2017ء میں کیا۔ برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بیلفور نے 2 نومبر 1917ء میں جو مشہور بیلفور اعلامیہ لکھا تھا، وہ اسی جیکب روتھس چائلڈ کے کزن لایونل والٹر روتھس چائلڈ (1868-1937) کے نام لکھا تھا۔ والٹر روتھس چائلڈبرطانوی زایونسٹ تھا اور حئیم ویزمین جو بعد ازاں اسرائیل کا پہلا صدر بنا، اس کا دوست تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی مسلح افواج میں ایک جیوش لیجین بھی یعنی یہودی فوجی ڈویژن بھی موجود تھی اور اس کے بانیوں میں نمایاں ترین نام ذیو ولادیمیر جیبوتنسکی (1880-1940ء)کا تھا۔ یہ بھی روسی سلطنت کے دور میں موجودہ یوکرینی شہر اوڈیسا میں پیدا ہوا تھا۔

یاد رہے کہ ہرزل کے یہودی ریاست کے دفاع میں دریفس معاملے (ڈریفس افیئرز) کو پیش کیا جاتا ہے کہ اس نے ہرزل کو ایسا سوچنے پر مجبور کیا۔ حالانکہ الفریڈ ڈریفس خود فرانس کی فوج میں کیپٹن تھا اور وہاں اس پر غداری کا الزام لگا۔ جرمنی کو فرانس کے فوجی راز فراہم کرنے پر اسے سزا سنائی گئی۔ جس پر فرانسیسی عوام نے ایک غدار کی حیثیت سے اس کی کھلے عام مذمت کی۔ یہ فرانس کا ایک داخلی معاملہ تھا۔ ورنہ فرانسیسی فوج میں جیوش آرٹلری کا ہونا اور یہودی کیپٹن کا ہونا خود یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس معاشرے میں بھی ٹھیک ٹھاک حیثیت رکھا کرتے تھے۔ اسی طرح برطانیہ میں بنیامین ڈسرائیلی دو مرتبہ وزیراعظم بنا۔ پہلی جنگ عظیم (1914-18ء) میں یہودی فوجی ڈویژن جیوش لیجین کا ہونا بھی یہ حقیقت ظاہر کرتا ہے کہ برطانیہ میں بھی یہودیوں کی حیثیت مستحکم تھی۔ پہلی جنگ عظیم سے بہت پہلے فرانس کی فوج میں بھی یہودی تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران بھی یہ فرانس کے اتحادی ملک سلطنت برطانیہ کی فوج میں تھے۔

قصہ مختصر یہ کہ برطانوی فوج کے جیوش لیجین کے بانی زایونسٹ ذیو ولادیمیر جیبوتنسکی (1880-1940ء) نے زایونسٹ تنظیم کے کہنے پر ہی نسل پرست مسلح دہشت گرد گروہ ہگانہ کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد جو نسل پرست زایونسٹ دہشت گرد تنظیمیں وجود میں آئیں، وہ اسی ہگانہ کے سرکردہ اراکین نے بنائیں۔ دہشت گرد گروہ ہگانہ کا یروشلم (بیت المقدس) میں کمانڈر جیبوتنسکی کا ساتھی اور اہم تیہومی (1903-1991ء) تھا، جس نے اور اہم اسٹرن (1907-1942ء) اور دیگر کے ساتھ مل کر 1931ء میں ایک نیا دہشت گرد گروہ بنا لیا۔ اس کو ارگن زوائی لیومی بھی کہا گیا اور ایزل کے نام سے بھی یاد رکھا گیا۔ تیہومی یوکرین کے شہر اوڈیسا میں پیدا ہوا تھا۔ تب یوکرین روسی سلطنت کا حصہ تھا اور اس نے بولشویک انقلاب کے دوران وہاں زایونسٹ مسلح گروہ منظم کیا تھا۔

اوراہم اسٹرن پولینڈ میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے فلسطین میں جیبوتنسکی کے ساتھ ہگانہ میں کام کیا۔ بعد ازاں تیہومی کے ساتھ ارگن کا بھی شریک بانی تھا اور اسی نے 1940ء میں ارگن سے الگ ہوکر لیہی کے نام سے ایک اور دہشت گرد تنظیم بنائی، جسے اس کے بانی کے نام کی وجہ سے اسٹرن گینگ بھی کہا جاتا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے غیر ملکی یہودی تھے، جو ایک منظم منصوبے کے تحت اپنے اپنے ملکوں سے عرب اکثریتی علاقے فلسطین پر قبضے کی نیت سے فلسطین کے مختلف حصوں میں جمع ہوئے تھے اور ایسا نہیں تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے پر برطانوی قبضے کے بعد یہاں یہ سب کچھ شروع ہوا، بلکہ نسل پرست زایونسٹوں نے سال 1907ء میں دہشت گرد تنظیم ہا شومر(چوکیدار) کے نام سے بنائی تھی۔ تب فلسطین ترک مسلمان سلطنت عثمانیہ کے انتظامی و سیاسی کنٹرول میں ہوا کرتا تھا۔ اس کا بانی اسحاق بن زوی (Yitzhak Ben-­Zvi)  1884ء میں یوکرین میں پیدا ہوا تھا اور بعد میں پولینڈ میں پیدا ہونے والے ڈیوڈ بن گوریان کا ساتھی بنا۔ یہ بھی برطانوی فوجی کی جیوش لیجین کے بانیان میں سے تھے۔ ڈیوڈ بن گوریان اسرائیل کا بانی اور بابائے قوم بنا۔ ویزمین کے بعد اسرائیل کا دوسرا صدر اسحاق بن زوی بنا۔

اسی طرح زرعی تحقیق کے نام پر آرون آرونسنس اور اس کی بہن سارہ نے بھی خفیہ جاسوسی و دہشت گرد نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ آرون بیک وقت ترک سلطنت عثمانیہ سے بھی اچھے تعلقات قائم کرچکا تھا تو ان کے دشمن برطانیہ سے بھی، جبکہ اسکو فلسطین میں زرعی تحقیقی مرکز کے نام سے یا یہودی آبادکاری کے لئے مالی مدد روتھس چائلڈ خاندان کی فرانسیسی شاخ نے فراہم کی تھی۔ یہ محض چند مثالیں ہیں، جس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کس طرح زایونسٹ دہشت گردوں نے فلسطینیوں کے خلاف سازش کرکے ان کی سرزمین پر غیر قانونی قبضہ کیا اور کس طرح دھونس، دھاندلی اور دہشت گردی کرکے انہیں ان کے آبائی وطن سے بے دخل کر دیا۔ انہی دہشت گرد اور سازشی زایونسٹ تنظیم کے سرکردہ افراد اسرائیل کے بابائے قوم، صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کے عہدیدار بنے۔

بیت المقدس سمیت فلسطین پر زایونسٹ قبضہ بہت ہی زیادہ تفصیل طلب تحریروں کا متقاضی ہے۔ خاص طور پر اسرائیل کے قیام میں زایونسٹ تنظیم اور مذکورہ دہشت گرد نسل پرست گروہوں اور ان سب کے پیچھے روتھس چائلڈ خاندان کے کردار کی تفصیل سمجھنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ زایونسٹ تاریخ سے متعلق ذیلی موضوعات بہت زیادہ ہیں اور عوام الناس کو بھی ان تفصیلات کا علم ہونا چاہیئے۔ مگر، اس تحریر میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان کو شامل کریں۔ قصہ مختصر یہ کہ اگر ان مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ بھی زایونسٹ سازش ہی کا حصہ تھی۔ کیونکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت طاقت کے بہت سے مراکز میں روتھس چائلڈ خاندان کا اثر و رسوخ بہت ہی زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ ان ممالک اور یونائٹڈ اسٹیٹس میں زایونسٹ نظریئے کے حامی افراد اہم عہدوں پر تھے یا پھر اہم فیصلہ ساز اداروں اور شخصیات میں ان کے بہترین نوعیت کے تعلقات بھی تھے۔

اس تحریر میں صرف ایک مثال نہر سوئز کی دی جاسکتی ہے۔ مصر بھی ترک سلطنت عثمانیہ کی قلمرو میں شامل تھا۔ وہاں سلطنت عثمانیہ کی جانب سے سعید پاشا مقامی حاکم تھا۔ فرانس کے ایک سفارتکار نے سعید پاشا سے نہر کی تعمیر کے لئے کمپنی قائم کرنے کی اجازت حاصل کرلی۔ آسٹریا کے انجینیئر نے نہر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ طے یہ ہوا کہ نہر کی تعمیر کے بعد جب یہ راستہ بین الاقوامی سمندری گذرگاہ کے طور پر کھلے گی، تب سے آئندہ 99 برسوں کی لیز پر یہ کمپنی کے پاس ہوگی۔ 15 دسمبر1858ء کو سوئز کینال کمپنی قائم ہوئی۔ 17 نومبر 1869ء میں یہ نہر کھول دی گئی۔ اس کمپنی کے حصص فروخت ہوئے۔ روتھس چائلڈ خاندان کے اپنے موقف کے مطابق سعید پاشا کے جانشین اسماعیل پاشا کے دور میں بیرونی قرضوں کے دباؤ کی وجہ سے وہ مصر کے حصے کے حصص کو فروخت کرنے پر مجبور ہوا۔ 1875ء میں یہودی بینکار لایونل ڈی روتھس چائلڈ کے لندن بینکنگ ہاؤس این ایم روتھس چائلڈ اینڈ سنز کے ذریعے برطانیہ کے وزیراعظم بنجامن ڈسرائیلی کو چالیس لاکھ پونڈ پیش کئے کہ وہ برطانوی حکومت کی جانب سے سوئز کینال کے حصص خرید لے۔ یہ ڈسرائیلی لایونل ڈی روتھس چائلڈ کا دست تھا۔

اس خطیر رقم کی فراہمی کے حوالے سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ لایونل ڈی روتھس چائلڈ اور برطانوی وزیراعظم کے مابین کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ البتہ پانچ ماہ میں اس قرض کی ادائیگی کر دی گئی تھی۔ بینکاری کے اصولوں کی رو سے  یہ غیر محفوظ ٹرانزایکشن تھی، جو صرف زبانی کلامی ضمانت پر دی گئی ہوگی، جبکہ برطانوی وزیراعظم نے بھی اس ضمن میں آئینی و قانونی و پارلیمانی تقاضوں کو پورا نہیں کیا اور بالا ہی بالا یہ معاملات طے پاگئے۔ مصر سمیت افریقہ میں برطانیہ، فرانس اور دیگر سامراجی طاقتیں پہلے سے مداخلت کرتی آرہیں تھیں۔ بعدازاں اسی نہر سوئز کو بین الاقوامی سمندری راستہ بنانے کے لئے کونسٹینٹینوپل کنوینشن پر قسطنطنیہ میں دستخط ہوئے۔ سلطنت عثمانیہ، برطانیہ، آسٹریا ہنگری، پرشیا (جرمنی)، فرانس، اسپین، اٹلی، نیدرلینڈ (ہالینڈ) اور روس نے اس پر دستخط کئے۔ یوں نہر سوئز گذرگاہ نیوٹرل زون قرار پائی۔ موجودہ پاکستان و ہندستان پر بھی برطانیہ ہی کا قبضہ تھا۔ لیکن مصر سمیت بہت سے موجودہ عرب ممالک پر سلطنت عثمانیہ مرکزی حکومت کی حیثیت رکھتی تھی۔

مصر، شام، لبنان، فلسطین، عراق، اردن تک اس دوران جو ڈیولپمنٹس ہوئیں۔ اس دوران سائیکس پیکو جیسے، نہ معلوم، کتنے معاہدے ہوئے ہوں گے۔ اسرائیل کا قیام انہی خفیہ منصوبوں اور سازشوں کا ایک نتیجہ ہے۔ امریکا اور برطانیہ کو خام تیل کے بہت بڑے ذخائر مل گئے۔ مگر زایونسٹ نسل پرستوں بلا کے چالباز ثابت ہوئے۔ شروع سے بادشاہ گر وہ ہی رہے۔ لگتا یوں ہے کہ وہ پہلے فرانس کو بڑی طاقت میں تبدیل کرکے اس خطے میں لائے۔ پھر برطانیہ کو سہانے سپنے دکھا کر مزے کروائے۔ دوسری جنگ عظیم میں فرانس اور جرمنی کا وہ حال ہوا کہ امریکا ان کا بڑا بھائی بن گیا۔ رہ گیا برطانیہ تو نہر سوئز کی جنگ میں اس نے بھی عالمی منظر نامے میں امریکا کے جونیئر پارٹنر کا رول خوشی خوشی قبول کرلیا۔

کہنے کو اسرائیل نسل پرست زایونسٹوں کا ملک ہے، لیکن درحقیقت یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا سے بیٹھ کر وہ دنیا پر راج کر رہے ہیں۔ طول تاریخ میں کسی نے اسرائیل کو بچانے کے لئے اقوام متحدہ میں ویٹو نہیں ڈالے جتنے امریکا نے۔ اس حقیقت کو دنیا میں صرف ایک عالمی رہنماء نے سمجھا اور انہوں نے دنیا کو ایک نیا نعرہ دیا مرگ بر امریکا اور اسی واحد عالمی مدبر نے دنیا کو ایک اور دن منانے کا کہا۔ عالمی یوم القدس۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مرگ بر امریکا سے ہی بیت المقدس نے آزاد ہونا ہے۔ زندہ باد امام خمینی!۔ دنیا میں زایونسٹ سازش کو ناکام کرنے کے لئے دنیا کے آزادی پسند انصاف پسند انسانوں کو اور خاص طور پر عرب و مسلمان ریاستوں کو یہ حقیقت جان لی چاہیئے کہ قدس کی آزادی کا راستہ وہی ہے، جو عالمی سیاست کے بت شکن خمینی نے بتایا ہے۔ مسلح مقاومت ورنہ ڈپلومیسی کو تو بہتر برس گذرچکے۔!
خبر کا کوڈ : 864147
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش