0
Tuesday 26 May 2020 15:31

کورونا کا قہر اور مسلمان

کورونا کا قہر اور مسلمان
تحریر: ڈاکٹر محمد ممتاز علی، ملائیشیا

اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس سے شدید طور پر متاثر ہوچکی ہے، کورونا سے متاثر ہونے والوں میں ہم تمام مسلکوں کے مسلمان یعنی شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، قادری، چشتی، صوفی، روایت پسند، جدت پسند اور امیر و غریب سے لے کر سربراہان مملکت تک سب شامل ہیں۔ پوری دنیا میں مساجد بند کردی گئیں ہیں۔ ہر شہر اور گاؤں میں عبادتوں پر روک لگا دی گئی۔ یہاں تک کہ کرہ ارض پر سب سے مقدس مقام خدا کا گھر خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے بند کر دیئے گئے۔ یورشلم میں بیت المقدس پر بھی تالے لگ گئے۔ دنیا کے سارے مسلمان ایک طرح سے مکمل طور پر اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ حج جو کہ اسلام کا ایک عظیم رکن ہے، اس سال اس کے منسوخ کئے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ویسے بھی طواف و عمرہ پر پہلے ہی روک لگا دی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کرونا وائرس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، کیا کرونا وائرس کوئی ایسی طاقت ہے، جو ہر شیء پر غالب آگئی ہے، اس نے مسلمانوں کو مساجد جانے سے روک دیا ہے؟ کیا حج کرونا وائرس کے سبب منسوخ ہوا۔

ہم اس صورتحال کی کیا توجیہہ پیش کریں گے اور امت مسلمہ کہاں غلط ہوگئی ہے کہ کورونا نام کا کوئی وائرس ہمیں کنٹرول کر رہا ہے۔ حکومت کے تمام ادارے اور مختلف شعبہ حیات کے ماہرین مسلسل غور و فکر میں لگے ہوئے ہیں کہ اس وبا پر کیسے قابو پایا جائے۔ اس مقصد کیلئے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہوگئے ہیں۔ مذہبی طبقہ خالقِ کائنات سے دعائیں مانگنے کی اپیل کر رہا ہے۔ کچھ علمائے کرام اس آسمانی قہر کو ہمارے اعمال کا نتیجہ قرار دے کر مسلمانوں کو اپنے گناہوں سے معافی مانگنے اور رجوع الى الله کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سیکڑوں پیغامات اور ویڈیوز راقم الحروف کی نظر سے گزرے، جن میں اس وائرس سے خود کو محفوظ رکھنے کے سلسلے میں احتیاطی تدابیر کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت جن میں نام نہاد مذہبی گروہ اور مسلم اسکالرز شامل ہیں، وائرس کے اس خطرناک حملے کو عذاب الہیٰ کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خدا انسانوں کو اس کی نافرمانی اور دنیا میں ہو رہی ظلم و ناانصافی کے نتیجے میں یہ سزا دے رہا ہے۔ اس ہلاکت خیز وباء کی ذمہ داری وہ عام مسلمانوں کے گناہوں اور دیگر اقوام کی غلط کاریوں پر ڈال رہے ہیں۔ جہاں تک ہماری قوم کی اکثریت کا تعلق ہے تو میری ذاتی رائے میں مسلمان ان کبیرہ گناہوں میں ملوث نہیں ہیں، جن کی وجہ سے‌ انہیں‌ یہ سزا مل رہی ہے۔

مسلمان پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں۔ بروز جمعہ مساجد نمازیوں سے بھری رہتی ہیں۔ ہر سال مسلمان لاکھوں کی تعداد میں حج و عمرہ کی سعادت سے سرفراز ہوتے ہیں۔ پابندی کے ساتھ سالانہ زکوۃ ادا کرکے غرباء و مساکین کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں نکاح کرکے خاندان کو بڑھانے میں ہمارا کردار سب سے زیادہ ہے۔ نمازوں کے بعد خدا کے حمد و ثناء اور ذکر و تسبیح کا خاص اہتمام بھی ہماری روزمرہ کی عبادت میں شامل ہے۔ گھروں اور مساجد میں محفلیں منعقد ہوتی ہیں، جن میں کثرت سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔ میری نظر میں تو ہم مسلمان عبادات و وظائف کو ادا کرنے کی وجہ سے صحیح لفظوں میں توحید کے علمبردار کہلائے جا سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کو نہ اس وباء کا شکار ہونا چاہیئے اور نہ انہیں اس کے پھیلنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

تاہم جب ہم اپنے مذکورہ بالا دعوے کے دوسرے پہلو پر نظر ڈالتے ہیں تو امر واقع ہمیں کوئی دوسرا ہی منظر نامہ نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت جن میں خاص طور پر مسلم ممالک کا حوالہ دیا جاسکتا ہے، وہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ وہاں مسلمان فرائض و عبادات سے انحراف کی روش پر گامزن ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت روزوں کا اہتمام نہیں کرتی۔ استطاعت کے باوجود حج و عمرہ کی ادائیگی کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ مساجد خدا کے بندوں سے بھری رہتی ہیں، مگر کتنے فیصد مسلمان مسجدوں کا رخ کرتے ہیں۔ بے جا اسراف کرنے میں مسلمان دوسری اقوام سے کہیں آگے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی اور قتل و غارت گری میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ سود کھانا ان کے لیے بالکل بھی حرام نہیں رہا۔ آج بوڑھے والدین اور بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کوئی گناہ یا معیوب بات نہیں رہی۔ اس کے علاوہ ہم جنس پرستی اور بدفعلی جیسے خبیث اعمال میں مسلمان ملوث ہیں۔ دوسری طرف امت کے نام نہاد علماء ایک دوسرے پر کفر کے فتوے صادر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اپنے مسلک کی شدت پسندی میں بریلوی علماء تبلیغی جماعت کی اور سلفی اکابرین دیگر جماعتوں کی کس طرح تحقیر و تذلیل کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ حقیقت یہ ہے کہ عام مسلمانوں سے لے کر علمائے دین کا کردار اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ بحیثیت امت مسلمہ دوسروں کو نیکی کی دعوت دینا اور برائیوں سے روکنا ہماری اولین ذمہ داری تھی، لیکن برخلاف اس کے ہم خود تمام برائیوں میں برابر کے شریک بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کو ان کی بداعمالیوں پر پانچ بڑی سزائیں دیں، جو کسی اور قوم کو نہیں دیں گئی۔ آج یورپ، امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا وغیرہ میں ہم جنس پرستی کا قانون پاس کرکے اسے جائز قرار دے دیا گیا، کسی مسلم ملک نے اس قبیح فعل والے قانون کی مخالفت نہیں کی اور نہ اجتماعی طور پر اس کے خلاف کوئی موثر صدائے احتجاج بلند کی، بلکہ بعض مسلم سکالرز نے اس شرمناک طرز زندگی کو انسانی حقوق اور شخص کی شخصی آزادی کے نام پر اس کا دفاع کیا۔ دبئی، بحرین، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں آج الکحل کا استعمال عروج پر ہے۔ نائٹ کلب اور بے حیائی کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کئے ہوتے تو نہ دنیا کی مساجد ہمارے لئے بند ہوتیں اور نہ مقدس سرزمین پر حج و عمرہ کی پابندی لگتی۔ اچانک مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو کا نافذ کیا جانا بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس قیامت خیز صورتحال کے پیچھے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

میرے احساسات:
اس حوالے سے میرا احساس یہ ہے جو صحیح یا غلط بھی ہوسکتا ہے، مگر میں اس کو یہاں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں، تاکہ ان مشاہدات کے نتیجے میں میرے استدلال سے دین اسلام کی صحیح تصویر اور امت مسلمہ کے رول کو اخلاص کے ساتھ سمجھنے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت کا احساس پیدا ہو۔ میرے مشاہدے اور تجزیہ کے مطابق مسلمانوں نے اپنی ذمہ داریوں کو کہیں انفرادی اور کہیں اجتماعی طور پر ادا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ساتھ ہی اجتماعی طور پر کچھ ایسی سنگین کوتاہیوں کے مرتکب ہوئے، جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نظر میں عظیم گناہ اور بڑے جرائم کے دائرے میں آتے ہیں، جن کے لئے خدا نے سخت سزائیں مقرر کی ہیں، جن میں چند حسب ذیل ہیں۔

اسلام کو مذہب کی سطح تک گھٹانا:
دو سو سال قبل دہلی کے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے دور سے ہم پر واضح ہوا کہ اسلام صرف مذہب نہیں بلکہ دین ہے۔ اسی دور میں اور بھی کئی مسلم دانشوروں اور مفکرین جو مذہبی نظام تعلیم اور ماڈرن مغربی سیکولر نظام تعلیم پر گہری نظر رکھتے تھے، موجود تھے، جنہوں نے اسلام کو پوری قوت کے ساتھ عالمی حالات کے تناظر میں اسے ایک مکمل نظام حیات اور ضابطہ اخلاق کے طور پر پیش کیا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ اسلام دیگر مذاہب کی طرح کوئی مذہب نہیں بلکہ دین یعنی طریقہ زندگی ہے۔ جو براہ راست انسان اور سوسائٹی کو مخاطب کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ کائنات اور حیات انسانی کی حقیقتوں سے روشناس کراتا ہے۔ یہی انسانی تہذیب و تمدن کا ماخذ بھی ہے۔ مسلمانوں کے اندر دین کے اس تصور کو عام کرنے کے لیے جو علماء نے جدوجہد کی، ان پر نہ صرف بنیاد پرست یا انتہاء پسند ہونے کا الزام لگایا گیا، بلکہ دین کی اس تعبیر کو عدم برداشت اور تشدد سے جوڑ دیا گیا۔ نیویارک کے شہر کے ٹوِن ٹاور پر حملے کے بعد مغربی طاقتوں کے دباؤ کی وجہ سے عام مسلمان اور مسلم اسکالرز کی سوچ میں بڑی تبدیلی آگئی اور پھر اسلام کو صرف ایک مذہب ثابت کرنے کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں اور آرٹیکلز لکھے گئے۔ مذہبی مقررین سے بھی کام لیا گیا۔

مختلف پروگرامز، سیمینارز اور جمعہ کے خطبوں کے ذریعے مسلمانوں میں غلط فہمیاں پیدا کی گئیں کہ اسلام ایک مذہب یعنی چند رسوم و روایات کا پلندہ ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے دنیا میں یہ بھی  کوششیں ہو رہی ہیں کہ مذہبی اسکالرز مسلمانوں کو یہ درس دے رہے ہیں کہ اگر وہ انفرادی طور پر عبادات اور نیکیوں کا اہتمام کر لیں تو ان کے لئے کافی ہے۔ انہیں مطمئن کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہی مطلوب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انفرادی حیثیت میں خدا کی بندگی اور نیکی و پرہیزگاری اختیار کرنا بھی لازم ہے، لیکن یہ پیغام اور اس طرح کے طرز عمل سے اسلام کی حقیقی تصور کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے اور منفی تاثر یہ پیدا ہوگیا ہے کہ موجودہ سیکولر نظام تعلیم کی وجہ سے قومی و عالمی سطح پر سماج کے مختلف طبقوں اور فرقوں میں تہذیبی، تمدنی، سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے جو انحطاط اور بگاڑ پیدا ہوگیا ہے، اس کا کوئی حل نظریہ اسلام میں موجود نہیں ہے۔ ہم یہ کیسے بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی تعلیمات، اصولوں اور احکامات کے ذریعے معاشرہ، ریاست اور حکومت کی یکساں طور پر ترقی اور فلاح و بہبود کی ضمانت دیتا ہے۔

کئی ایسے اسلامی اقدار و قوانین ہیں، جن پر شخصی حیثیت میں عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے ایک سوشل سسٹم اور نظمِ اجتماعی کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر کئی دہائیوں پہلے مسلم ممالک میں مہم شروع کی گئی تھی کہ نظریہ تعلیم میں اسلامی خطوط پر تبدیلی ناگزیر ہے۔ چنانچہ اسے اسلامی بنیادوں پر ترقی دینے کے لیے مزید اقدامات روبۂ عمل لائے گئے۔ اسلامی اسکالرز کے درمیان اس موضوع پر مباحثے ہوئے، جن کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت جن کلچرل، سیاسی، تمدنی، سماجی اور ارتقائی مسائل کے بحرانوں سے گزر رہی ہے، اس کا حل تلاش کیا جاسکے۔ مگر بدقسمتی سے دنیا کی وہ قومیں جو انسانی حقوق اور اظہار خیال کی آزادی کی چیمپئن بنی ہوئی ہیں، انہوں نے امت مسلمہ کی ان مثبت کاوشوں کو نہ صرف لائق اعتناء سمجھا بلکہ اس نظریۂ تعلیم کو انتہا پسندانہ سوچ پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اپنی پاور، وسائل اور دولت کا استعمال کرکے دنیا میں وہی مادیت پرستانہ نظریۂ تعلیم کو جاری رکھا، جو دنیا کو بلاشبہ مادی ترقیوں سے ہم کنار تو کرسکتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ انسانوں میں اخلاقی پستی، خدا بیزاری اور خود غرضی کی نفسیات کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔ افسوس کہ امت مسلمہ نے بھی اس صورتحال کو قبول کر لیا۔ ترقی کے اصل مفہوم کو بھلا کر اسلام کے محدود تصور کے ساتھ خود کو مذہب کے حوالے کر دیا۔

حقیقت کو چھپانا:
امت مسلمہ کا دوسرا بڑا گناہ اور ناکامی میری نظر میں یہ ہے کہ انہوں نے خدا کی کتاب قرآن حکیم کی حقیقی دعوت کو جیسا کہ قرآن میں بیان ہوئی ہے، دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا۔ ‘‘ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں، جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں، جو فاسق ہیں۔’’ (البقرۃ :۹۹) یعنی کائنات کا سارا نظم انسانی عقل و فہم سے ماوراء ہے، یہاں تک کہ ان پوشیدہ حقیقتوں کا مشاہدہ و احاطہ طاقتور ترین سائنس اور ٹیکنالوجی کے آلات سے بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کے لیے ناممکن ہے کہ خدا کی ذات و صفات اور اس کی ماہیت کو سمجھ سکے کہ وہ کائنات کا خالق ہے، مالک ہے، رب ہے۔ وہی علم اور عقل کا ماخذ ہے۔ مختصر یہ کہ یہ ماوراء عقل حقیقتیں بڑے بڑے حکیم و مفکر، فلسفی، سائنسدان یا اولیاء وغیرہ کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ لہذا اپنے آپ کو مکمل طور پر خدا کے حوالے کر دینا ہی دانشمندی ہے، اسی کی رہنمائی میں انسانیت کی ترقی اور بھلائی مضمر ہے۔ دنیا اور آخرت میں کامیابی کا یہی یقینی راستہ ہے۔ امت مسلمہ احساس کمتری کا شکار ہو کر دنیا کی چکاچوند کو قبول کرچکی ہے۔ یہی نام نہاد ترقی انسانوں کے لئے بحرانوں کا سبب بنی ہوئی ہے‌۔ مسلمانوں نے ان کو چیلنج نہیں کیا کہ وہ سب عارضی ہیں اور ان کی اساس انسان اور کائنات کے بارے میں جھوٹے مفروضات پر قائم ہے۔

مسلمان اس کام کے مکلّف ہیں کہ دنیا کے سامنے مکمل حق کے پیغام کو پیش کریں، نہ کہ اس کے صرف کچھ حصے کو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ وہ یہ غلطی نہ دہرائیں۔ یعنی وہ اپنی قوم کو اللہ کی پوری شریعت کی تعلیم نہیں دیتے تھے۔ مسلمانوں کو اس سے سبق حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی، لیکن ‌مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے سخت تنبیہ کے باوجود وہی غلطی کا اعادہ کر رہے ہیں، جو بنی اسرائیل نے کی۔ ‘‘تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو اور میرے غضب سے بچو، باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔’’ (البقرۃ ٤٢-٤١) بنی اسرائیل کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ اس عمل سے باز رہیں۔ ‘‘تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہىں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیئے جائیں۔’’ (البقرۃ :٨٥)

مسلمانوں کے موجودہ منظر نامہ کو قرآن کی  ان آیات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے: ‘‘ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے، ان حالات میں جو لوگ صبر کریں، ان کو خوشخبری دیں، جب کوئی مصیبت پڑے گی تو کہیں ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔’’ (البقرۃ: ١٥٥-١٥٦) آج امت مسلمہ کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کی تعلیمات، جو اس کتاب میں بیان کی گئی ہیں، اسے دنیا کے سامنے بے خوف و خطر پیش نہیں کیا۔ صرف اپنے تک محدود رکھا، حالانکہ دین کے اس فریضے کو دنیا کی پوری انسانیت تک جرات مندی کے ساتھ پہنچانا ان کی ذمہ داری تھی۔ ‘‘اے اہل کتاب! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو‌، کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو۔’’ (آل عمران :٧١) ‘‘اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو، سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔’’ (آل عمران ١٠٢-١٠٣)

بہرحال یہ ایک منظرنامہ مسلمانوں کا ہے اور ایک منظرنامہ کورونا وائرس کی شکل میں ہمارے سامنے آیا ہے۔ قرآن کی رو سے ہمیں خبردار کر دیا گیا ہے کہ ہم دین اسلام کو بطورِ دین کے تصور کے ساتھ دنیا پر واضح کریں کہ انسانوں کا بنیادی فریضہ ہے کہ انسان کی زندگی میں ترقی اور تمدنی و ثقافتی پاکیزگی کا سرچشمہ اسلام ہی ہے۔ اس بات کا یقین بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شیء پر قادر ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کورونا جیسے قہر سے ہم محفوظ رہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے اللہ کے دین کے بارے میں نقطہ نظر کو درست کرنا ہوگا اور اخلاص کے ساتھ اسلام کے مکمل احکامات اور ہدایات کو اپنا نہ ہوگا۔ اس وقت ہم 2020ء کے دور میں ہیں۔ 2020ء کے اس سال رواں میں ہم پر خدا کی طرف سے کورونا وائرس کی شکل میں وباء کا جو ظہور ہوا ہے، اگر ہم اسے ہدایت الہیٰ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تو ہم اس پر عمل نہیں کرسکتے۔ ایک وقت تھا، جب سیکولرزم اور کمیونزم کو دنیا نے نئے خدا کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ آج ہم تاریخ کے جس دور سے گزر رہے ہیں، اس میں سرمایہ داری، مفاد پرستی اور حرص و ہوسِ نفسانی نے انسانوں پر غلبہ پا لیا ہے۔ اسی ذہنیت کے حامل افراد تمام انسانوں کی زندگی کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ مسلمان اس وقت ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے جو رویّہ اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ ایک نامعقول اور قابل رحم موقف ہے۔ انہوں نے خدا کو راضی کرنے اور نفسانی خواہشات کی پیروی کے درمیان اسلامی روایات کو خلط ملط کر دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 864864
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش