0
Sunday 31 May 2020 11:02

یوم انہدام جنت البقیع

یوم انہدام جنت البقیع
اداریہ
8 شوال 1349 ہجری قمری بمطابق 21 اپریل 1929ء تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے، جس دن آلِ سعود کی وہابی تکفیری حکومت نے عالم اسلام کے ایک تاریخی ورثے اور سرمائے کو اپنے غیر منطقی، غیر عاقلانہ اور تعصب سے لبریز اقدام کے ذریعے مسمار کر دیا۔ اس تاریخی قبرستان میں دختر رسولؐ گرامی حضرت فاطمہ زہراؑ سے منسوب قبر کے علاوہ حضرت فاطمہؑ بنت اسد، حضرت امام حسنؑ، حضرت امام زین العابدینؑ، حضرت امام محمد باقرؑ اور حضرت امام جعفر صادقؑ جیسی عظیم المرتبت ہستیوں کے مزارات اقدس موجود ہیں۔ ان ہستیوں کے علاوہ بھی صدر اسلام کی کئی مقدس ہستیاں اور اکابر اس قبرستان میں دفن ہیں۔ آلِ شیخ اور آلِ سعود خاندان کی مشترکہ سازشوں اور ملی بھگت سے عالم اسلام کے ایک سرمائے کو نابود کر دیا گیا۔

اتنی عظیم ہستیوں کے مزاروں سے یہ ناروا سلوک کسی غیر مسلم یا کافر و مشرک حکومت نے نہیں کیا بلکہ یہ اقدام خادم حرمین شریفین کہلانے والے سعودی حکمرانوں کے ناپاک فیصلوں کے تناظر میں انجام پایا۔ بعض تجزیہ نگار تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر آلِ سعود کو عالم اسلام کا ڈر خوف نہ ہو تو رسولِ اکرمؐ کے روضہ اقدس کو بھی منہدم کرنے سے دریغ نہ کرتے۔ آلِ سعود خاندان نے حجاج کرام کو لوٹنے کیلئے بظاہر حج کے انتظامات میں کافی بہتری لائی ہے، لیکن حج کے دوران مختلف ادوار میں پیش آنے والے حادثات اور حجاج کی اجتماعی اموات کو سامنے رکھ کر اگر فیصلہ کیا جائے تو آلِ سعود کی نااہلی اور ناکامی روز روشن کی طرح واضح و نمایاں ہو جاتی ہے۔ آلِ سعود نے نہ صرف جنت البقیع جیسے تاریخی قبرستان کو منہدم کیا ہے بلکہ مکہ مکرمہ شھر کے اندر بہت سی تاریخی اور رسولِ اکرم ؐ کی ذات گرامی سے منسوب مقدس جگہوں کو ہوٹلوں اور شاہی محلوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

حرم الہیٰ اس وقت بلند و بالا فائیو اسٹار ہوٹلوں اور آلِ سعود کے طاغوتی محلات کے سائے میں آچکا ہے۔ جس شھر سے توحید کا پیغام بلند ہوا تھا، اُس میں کئی صیہونی اور یہودی علامات کو باقاعدہ سازش کے تحت نصب کیا گیا ہے۔ تاریخی اسلامی طرزِ تعمیر کے ماہرین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ جس شھر کو ہر حوالے سے اسلامی طرزِ تعمیر اور صدرِ اسلام کی علامات کا نمونہ ہونا چاہیئے تھا، اب وہاں صیہونی شیطانی طرزِ تعمیر کو رواج دیا جا رہا ہے۔ جنت البقیع کے حوالے سے آلِ سعود اور آلِ شیخ کا منفی رویہ عالم اسلام کی دل آزاری کا باعث بن رہا ہے۔ سعودی عرب پر مسلط حکمران طبقہ کو اسلامی روایات و علامات کا خیال رکھنا ہوگا، ورنہ جنت البقیع کو منہدم اور مسمار کرنے والا دنیا و آخرت دونوں میں مسمار و منہدم ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 865841
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش