?>?> پاکستان میں دہشتگردی کے اصل مجرم کون - اسلام ٹائمز
11
Friday 3 Jul 2020 13:43

پاکستان میں دہشتگردی کے اصل مجرم کون

پاکستان میں دہشتگردی کے اصل مجرم کون
تحریر:  محمد سلمان مہدی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو بنیادی طور پر دو قسم کی مسلح دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ایک لسانی علیحدگی پسند مائنڈ سیٹ ہے تو دوسرا مذہبی انتہاء پسند مائنڈ سیٹ۔ مسلح گروہوں کے نام مختلف ہوسکتے ہیں لیکن مائنڈ سیٹ یہی دو ہیں۔ کہنے کو علیحدگی پسند بلوچستان کے ایشوز کی بات کرتے ہیں مگر حملے انہوں نے صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب میں بھی کئے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال پاکستان ایکس چینج کی عمارت ہے جو کراچی کی بندرگاہ سے بہت ہی قریب آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے۔ 29 جون 2020ء، بروز پیر اس عمارت پر دہشت گردانہ حملے کے لئے چار دہشت گرد آئے۔ پولیس اور رینجرز نے بروقت جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس افسر اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے تین محافظ شہید ہوئے جبکہ چار دہشت گرد موقع پر مارے گئے۔ امریکی کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔

چونکہ یہ ذمے داری ایک کالعدم دہشت گرد گروہ نے قبول کی ہے، اس لئے اس پر اور اس کی قیادت اور اس قسم کی دیگر تنظیموں سے متعلق بھی مختصراً چند اہم نکات کا تذکرہ ضروری ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی یا بی ایل اے کے موجودہ سربراہ حربیار مری ہیں۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں اس واقعہ سے متعلق جو تجزیہ یکم جولائی 2020ء کو اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا ہے، اس کے مطابق حربیار مری برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ نواب خیر بخش مری مرحوم کے بیٹے ہیں۔ حربیار کے بھائی غزین مری سال 2018ء میں علیحدگی پسندانہ سیاست سے تائب ہونے کا اعلان کرکے پاکستان آچکے ہیں۔ ان کے ایک اور بھائی چنگیز خان مری والد کے انتقال کے بعد قبیلے کے سردار بنے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی کی حیثیت سے بلوچستان حکومت میں وزیر بھی رہے۔ ان کے ایک بھائی مہران مری اور ہنزہ مری کبھی دبئی تو کبھی یورپی ممالک میں قیام پذیر رہتے آئے ہیں۔ غزین بھی دبئی میں رہا کرتے تھے۔ ہنزہ سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پولینڈ میں قیام پذیر ہیں۔

نواب خیر بخش مری کے بیٹوں کے علاوہ نواب اکبر بگٹی کے ایک بیٹے براہمداغ بگٹی بلوچ ری پبلکن پارٹی کے پلیٹ فارم سے پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آخری اطلاعات تک وہ سوئٹزر لینڈ میں خود ساختہ جلاوطنی کے روز و شب گزار رہے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں انہوں نے پڑاؤ ڈالا لیکن سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے براہمداغ بگٹی اور مہران مری کو پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ نومبر 2017ء میں براہمداغ نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ حکومت نے دو ملکوں کے ان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات کو جواز بنا کر پناہ نہیں دی۔ ان دوملکوں میں سے ایک پاکستان تھا۔ دوسرا ملک ان کے گمان کے مطابق چین تھا۔ سال 2018ء میں یہ خبریں آئیں تھیں کہ وہ بھارت کی شہریت یا پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس وقت وزیر دفاع پاکستان نے بھارتی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ایسے کسی فیصلے سے باز رہے۔

یعنی حربیار مری اور براہمداغ بگٹی یورپی ممالک میں رہتے ہوئے وہاں سے علیحدگی پسند مسلح تحریک کی ریموٹ کنٹرول قیادت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کی سرزمین بھی استعمال کی جاتی رہی ہے۔ اب بھی وہ ایسا ہی کر رہے ہیں۔ جرمنی، یونان، برطانیہ، سوئٹزر لینڈ سمیت یورپی ممالک ہی نہیں بلکہ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا میں بھی یہ علیحدگی پسند مہم چلا رہے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث بیرونی کرداروں میں سے ایک بھارت ہے، جس کا نام پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی لیتے رہتے ہیں۔ لیکن ایک بلوچ ایکٹیوسٹ نے بہت پہلے ہی یہ راز فاش کر دیا تھا کہ واشنگٹن میں بھارتی ہائی کمیشن (سفارتخانے) میں بھارتی ایجنسی "را" کے بلوچستان ڈیسک کو نجیش بھوشن چلا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے اور بھارتی ایجنسی "را" (بلوچ مسلح دہشت گردوں کو) عام پنجابی، پٹھان اور سندھی شہریوں کے قتل پر ابھار رہا ہے۔ یہ ایکٹیوسٹ امریکن فرینڈز آف بلوچستان کے بانی ہیں۔ اس تنظیم میں بھارت کی حامی سومیا چوہدری اور کرشنا گدی پتی نے میری لینڈ میں ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کی کہ احمر مستی خان کو تنظیم کے اندرونی معاملات مشتہر کرنے سے روکا جائے، لیکن میری لینڈ کورٹ نے اس اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ احمر مستی خان کراچی سے تعلق رکھنے والے بلوچ صحافی ہیں، جنہوں نے امریکا میں سکونت اختیار کی۔ وہ دی نیوز اخبار میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے صحافتی خدمات انجام دیا کرتے تھے۔ انہوں نے سال 2015ء میں گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مصداق یہ راز فاش کر دیئے تھے۔

جہاں تک بات ہے بلوچستان کی تو یہ پاکستان کا صوبہ ہے، کوئی متنازعہ علاقہ نہیں ہے۔ جہاں تک بات ہے بلوچستان کے احساس محرومی کی تو پاکستان کی مقننہ کے ایوان بالا سینیٹ کے موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی صوبہ بلوچستان کے بلوچ ہیں۔ مقننہ کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان میں بلوچ جنرل عبدالقادر کور کمانڈر کے عہدے تک رہ چکے ہیں۔ بلوچستان کے بلوچ میر ظفراللہ خان جمالی بھی وزیر اعظم پاکستان رہ چکے ہیں۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ، گورنر سبھی اسی صوبے سے لئے جاتے ہیں۔ یعنی کوئی پنجابی بلوچستان کا گورنر یا وزیراعلیٰ نہیں ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا الزام پنجابیوں پر لگایا جائے۔ جہاں تک بات ہے چین کی پاکستان میں اور خاص طور پر بلوچستان میں موجودگی اور سرمایہ کاری کی تو یہ قانونی ہے۔ لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں کو چین کی اقتصادی ترقی پسند نہیں۔ ساتھ ہی وہ پاکستان کے ساتھ چین کے تعلقات پر بھی معترض ہے۔ امریکا نے کھل کر سی پیک منصوبے کی مخالفت بھی کی اور آئی ایم ایف کو بھی اس مقصد کے لئے پاکستان اور چین کے خلاف استعمال کرنے کی دھمکی دی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں گومل زم ڈیم منصوبے پر کام کرنے والے دو چینی انجینیئروں کو جنوبی وزیرستان میں اغوا کیا گیا تھا۔ اس اغوا میں پاکستانی طالبان عبداللہ محسود گروپ ملوث تھا۔

اس کے بعد صوبہ بلوچستان میں چینی انجینیئرز اور ورکرز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ سلسلہ صوبہ سندھ اور پنجاب تک پھیل گیا۔ حالانکہ صوبہ سندھ اور بلوچستان دونوں ہی میں صدیوں سے بلوچ قبائل آباد ہیں۔ یہ بلوچستان سے نقل مکانی کرکے صدیوں پہلے آباد ہوئے تھے اور اس وقت صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار بلوچ قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ پنجابیوں کے صوبہ پنجاب پر بھی ایک بلوچ وزیراعلیٰ حاکم ہے۔ اسی طرح آپ صوبہ سندھ کے وزرائے اعلیٰ کی فہرست دیکھ لیں تو یہاں بھی آپکو بلوچ قبیلے سے تعلق رکھنے والے جتوئی سندھ کے حاکم مل جائیں گے اور اگر ان تین صوبوں میں آباد بلوچ قبیلے کے سرکردہ افراد کی فہرست مرتب کریں تو پاکستان کی مرکزی حکومت اور اداروں میں آپ کو جابجا بلوچ ہی بلوچ نظر آئیں گے۔ حتیٰ کہ اکبر بگٹی خود بھی پاکستان کی مرکزی کابینہ میں وزیر رہ چکے تھے۔ پنجاب کے کھوسہ، مزاری، لغاری یہ سب بلوچ قبائل ہیں۔ پاکستان کے سابق صدر فاروق لغاری بھی تو بلوچ ہی تھے۔ اس کے باوجود بھی احساس محرومی ہے تو اس کے اصل اسباب کیوں بیان نہیں کئے جاتے۔

اصل ایشو یہ ہے کہ ان علیحدگی پسندوں سے یہ پوچھا جائے کہ آپ تو ناز و نعم میں پلے شاہ زادے ہیں، آپ اور آپ کے بزرگان کے تعلیمی اداروں کے نام کیا ہیں؟ اور اس معیار کے تعلیمی ادارے آپ نے اپنے علاقوں میں کیوں قائم نہیں کئے۔ جب آپ پاکستان کے مرکزی اداروں میں رہے یا مرکزی حکومتوں کے اتحادی رہے تو ایچی سن کالج جیسا ایک کالج ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں کیوں قائم نہ کر دیا۔ کیا آپ کا اپنا طرز زندگی ایک عام بلوچ جیسا رہا ہے!؟ مرکزی حکومتوں کا اصل قصور یہ ہے کہ انہوں نے آپ جیسوں یا آپ کے بزرگان کو بلوچستان کے سیاہ و سفید کا حاکم بنا دیا۔ ورنہ اچھے تعلیمی ادارے، اسپتال اور جدید سہولیات فراہم کرنے میں مرکزی حکومت براہ راست خود مرکزی کردار ادا کرتی رہتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔ اس کے باوجود ہم یہ کہیں گے کہ ایک عام بلوچ کو جن مسائل کا سامنا ہے، ہر عام پاکستان روزمرہ کی زندگی میں انہی مسائل کا شکار ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ مسائل بلوچوں سے مخصوص ہیں۔ صوبہ پنجاب کا عام آدمی بھی مسائل سے دوچار ہے۔ مسئلہ اگر صرف بلوچ مسائل کا ہوتا یا بلوچستان تک ہوتا تو علیحدگی پسند تحریک بلوچستان کی حدود کے اندر ہی محدود رہتی۔ کبھی صوبہ پنجاب میں تو کبھی صوبہ سندھ میں یہ حملہ آور نہ ہوتے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی عمارت صوبہ سندھ کے صدر مقام کراچی میں واقع ہے، بلوچ احساس محرومی کا سندھ سے کیا تعلق۔؟

بلوچوں کے نام پر یا مذہب و مسلک کے نام پر پاکستان میں کی جانے والی مسلح دہشت گردی کا اصل تعلق امریکا اور اس کے اتحادیوں سے ہے۔ اس نے افغانستان کی سرزمین کو اس کام کے لئے چنا ہے۔ سابقہ سوویت یونین اور اس کے کمیونزم سے مقابلے کے بہانے امریکی اتحاد نے افغانستان پر اپنی پراکسیز کے ذریعے قبضہ کر لیا۔ لسانی بنیاد پر یا مذہبی و مسلکی اختلافات کو بہانہ بنا کر کی جانے والی دہشت گردی کا ریجنل مرکز افغانستان کو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے بنایا۔ بھارت کو بھی افغانستان میں لانے والا امریکا ہے اور امریکا، چین اور ایران دونوں ہی کے خلاف پراکسی وار میں مصروف ہے تو وہ کسی بھی نام سے کوئی بھی گروپ سامنے لے آتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کا اصل ماسٹر مائنڈ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک ہیں۔ یاد رہے کہ چینی انجینیئروں کو عبداللہ محسود طالبان گروپ نے اغوا کیا تھا۔ پہلے وہ چینیوں پر دہشت گردانہ حملے کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد بلوچ علیحدگی پسندی کے عنوان سے اسی پرانے امریکی ایجنڈا پر نئے عنوان سے پراکسی گروپس کام کرنے لگے۔

پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں امریکا سے خوفزدہ یا امریکی ڈکٹیشن پر اس کے تابعدار حکام بھارتی کردار کو تو نام لے کر بیان کرتے ہیں، لیکن امریکا، برطانیہ اور ان کے جی سی سی اتحادی ممالک کے کردار کو چھپا لیتے ہیں۔ یہ حکام ریٹائرمنٹ کے بعد انہی ممالک کے کسی ادارے میں ملازمت کر لیتے ہیں یا بعض ممالک میں شہریت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لئے جب نوکری پر ہوتے ہیں تو مذکورہ مستقبل کے لئے پاکستان کو یعنی ملک و قوم کو اپنے ذاتی مفاد پر قربان کر دیتے ہیں۔ سیاسی شخصیات بھی اس لئے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کا نام نہیں لیتیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان میں جو مستقل حکام ان کا میڈیا ٹرائل کرتے ہیں، عوام کی نظر میں ذلیل کرتے ہیں، ان کے شر سے بچنے کے لئے ایسے متاثرہ سیاسی رہنماؤں کو بحالت مجبوری امریکا، برطانیہ یا ان کے اتحادی ممالک میں سے کسی ایک ملک میں ہی پڑاؤ ڈالنا پڑے گا۔ تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ نواز شریف یا بے نظیر بھٹو نے خود ساختہ جلاوطنی کے لئے چین یا ایران کا رخ کیا ہو۔ یہ پاکستانی اور بین الاقوامی سیاسی رامائن ہے۔ اس لئے دہشت گردی یا اس نوعیت کی سازشیں ختم ہو جائیں، ایسا ہونا ممکن نہیں، کیونکہ اصل مجرم، اصل آقاؤں یعنی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے تو نام تک حکمرانوں کی زبان پر نہیں آتے۔
خبر کا کوڈ : 872264
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش