0
Saturday 4 Jul 2020 07:03

​​​​​​​امریکہ کے یوم آزادی پر امریکی سماج کا ایک پہلو(1)

​​​​​​​امریکہ کے یوم آزادی پر امریکی سماج کا ایک پہلو(1)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

چار جولائی کے دن امریکہ میں یوم آزادی منایا جاتا ہے۔ امریکی معاشرہ میں آزادی و خود مختاری کس قدر ہے، اس کی تفصیلات آج ہر ٹی وی چینل دکھا رہا ہے۔ تیس فیصد اور امریکہ کی سب سے بڑی اقلیت سیاہ فام آبادی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہر باشعور شخص آشنا ہے۔ امریکی معاشرے کا ایک مسئلہ ہتھیاروں کی فراوانی ہے، اس مضموں میں اس بحران کی طرف سرسری اشارہ کیا گیا ہے۔ 19 اگست 2019ء کی اشاعت میں ٹائم میگزین نے اپنے ٹائیٹل پر جو تصویر شائع کی، اس میں ایک ایسا نقشہ دکھایا گیا تھا، جس میں ان علاقوں کو دکھایا گیا، جہاں اس سال فائرنگ کے مختلف واقعات انجام پائے اور درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس نقشے پر جلی حروف میں لکھا تھا "بہت ہوگیا۔" امریکہ میں فائرنگ اور تشدد آمیز واقعات مِں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے اور اب اس طرح کے واقعہ کی خبر ایک دن میڈیا میں آتی ہے اور غائب ہو جاتی ہے۔ پھر اس کے کچھ دن اس طرح کا واقعہ پیش آتا ہے، چند خبریں لگتی ہیں اور عوام اور حکومت ان سانحات کو بھلا دیتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ مواقع کا شہر ہے اور امریکہ اپنے عوام کو دیگر مواقع کے ساتھ اس بات کا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ایک شہری ہتھیار اٹھا کر آئے اور کسی بھی جگہ اندھا دھند فائرنگ کرکے چند شہریوں کو موت کی نیند سلا دے۔ شہری زندگی میں فائرنگ کے واقعات کا جب بھی ذکر آتا ہے تو امریکہ اس میں سب سے آگے ہے۔ امریکہ میں ہر سال ریکارڈ تعداد نامعلوم شہریوں کے ہاتھوں اندھا دھند فائرنگ سے ہلاک ہوتی ہے۔ امریکہ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق 2013ء سے 2017ء تک ہر روز 310 امریکی شہری فائرنگ کا شکار ہوتے ہیں جبکہ متوسط 100 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مرنے والوں سو افراد میں سے 21 بچے یا نوجوان ہوتے ہیں۔ امریکی میڈیا کی رپوٹوں کے مطابق امریکہ میں آتشیں ہتھیاروں سے مرنے والوں کی تعداد کل مرنے والے افراد میں سے تیسرے نمبر پر ہے۔

امریکہ میں فائرنگ اور خودکشی سے مرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ میں فلسفہ کے پروفیسر جان کوزی اس بات کے قائل ہیں کہ افغانستان جانے سے امریکہ میں زندگی گزارنا زیادہ خطرناک ہے۔ بعض امریکی ہتھیاروں سے تشدد پھیلا کر لذت اٹھاتے ہیں۔ رومن گلادی اوتوم قتل دیکھنے کے لیے Galidiator اسکوائر پر جاتے تھے۔ لیکن امریکہ میں آپ کھڑکی کھول کر اپنی گلی میں یہ منظر باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ امریکہ میں 2017ء میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ہر سو افراد کے پاس 120 سے زیادہ ہتھیار موجود ہیں، دوسرے الفاظ میں آبادی سے زیادہ ذاتی ہتھیار موجود ہیں۔ تشدد پسندی امریکی معاشرے کو کلچر بنتا جا رہا ہے۔ امریکی اب اس کا باقاعدہ اظہار کرکے اسے اپنی پہچان اور ثقافت بنا رہے ہیں۔

ہالی وڈ کی فلموں میں ہتھیاروں کے کلچر کی نمائش کی جاتی ہے اور ہر فلم میں ہیرو اور ولن دونوں کے پاس ہتھیار دکھائے جاتے ہیں اور اب امریکی عوام میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ ہتھیار اچھے اور برے دونوں انسانوں کے پاس ہوتا ہے، بدی کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بہترین اسلحہ سے بدی کا پرچار کرنے والے کو قتل کر دیا جائے اور ہالی وڈ کی اکثر فلموں کا نتیجہ بھی یہی دکھایا جاتا ہے۔ امریکہ کی سڑکوں پر اچھے اور برے کی تمیز مشکل ہوگئی ہے۔ کون اچھا ہے، کون برا ہے اور کون برائی کے خاتمے کے لیے برے شخص کو ہتھیار سے ختم کر دے گا، امریکہ میں اب ہر مسئلے کا راہ حل ہتھیاروں کے استعمال میں نظر آ رہا ہے۔ یہ فائرنگ یا قتل کسی اسکول میں بھی ہوسکتا ہے، کسی ریسٹورنٹ میں بھی۔ کسی کلیسا میں بھی اور کسی پلے گرائونڈ میں بھی۔ گذشتہ دہائی میں امریکہ کے کئی تعلیمی اداروں میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔

آج امریکہ کی جس طرح ہایوڈ اور میک ڈونالڈ کے فوڈ پہچان ہیں، اسی طرح تعلیمی اداروں میں فائرنگ بھی امریکہ کی شناخت بن چکی ہے۔ آج سے سے بیس سال پہلے اپریل 1999ء میں کلراڈو ریاست میں کولمبیس نامی اسکول میں دو نوجوانوں جن کی عمریں 17 اور 18 برس کے لگ بھگ تھیں، اسکول میں وحشیانہ انداز میں فائرنگ کرتے ہیں اور بارہ طالبعلوں اور ایک ٹیچر کو قتل کر دیتے ہیں۔ فائرنگ کرنے کے بعد دونوں خودکشی کر لیتے ہیں۔ فائرنگ کے اس واقعہ میں 21 افراد شدید زخمی بھی ہوتے ہیں۔ امریکی تاریخ میں اس واقعہ کو ایک منصوبہ بند پرتشدد کارروائی قرار دیا جاتا ہے۔ حملہ آوروں نے اس واقعہ سے پہلے پولیس کی توجہ منحرف کرنے کے لیے شہر کی مختلف شاہرائوں پر دستی بم بھی نصب کر رکھے تھے، اگرچہ ان کا منصوبہ پوری طرح عملی جامہ نہیں پہن سکا تھا، لیکن اس سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ چند طلباء نے کس انداز سے عام شہریوں کو قتل کرنے کی خوفناک منصوبہ بندی کی تھی۔

اس واقعہ کو بعد میں دو فلموں بولنگ فار کولمبیس اور ہاتھی نامی میں باقاعدہ فلمایا گیا۔ چند دن پہلے اسی واقعہ کی یاد میں نیویارک ٹائمز میں ایک مقالہ شائع ہوا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس اسکول کی تعمیر پر کئی ملین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور اس اسکول کو محفرظ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ اس طرح کے واقعات دہرائے نہ جا سکیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے تشویش میں ہرگز کمی نہیں آسکتی۔ ایسویسی ایٹڈ پریس کے ایک سروے کے مطابق 74 فیصد والدین کا یہ کہنا ہے کہ موجودہ تعلیمی ادارے 1999ء کے کولمبیس اسکول سے زیادہ غیر محفوظ ہیں اور ان میں اس طرح کے واقعات باآسانی انجام پاسکتے ہیں، گویا امریکہ میں والدین تعلیمی اداروں کو اپنے بچوں کے لیے غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 872350
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش