1
Tuesday 7 Jul 2020 16:22

امریکہ کس طرح زوال پذیر ہو رہا ہے؟

امریکہ کس طرح زوال پذیر ہو رہا ہے؟
تحریر: الیگزینڈر کولی

عالمی نظام (ورلڈ آرڈر) شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے اور اس بحران کو سمجھنے کیلئے بہت سی علامات موجود ہیں۔ کرونا وائرس کے پھیلاو کا مقابلہ کرنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر بے ہنگم ردعمل، کووڈ 19 وبا پھیلنے سے پیدا شدہ اقتصادی جمود، نیشنل ازم پر مبنی پالیسیز کا دوبارہ مقبول ہو جانا اور بین الاقوامی سطح پر آمدورفت میں درپیش مشکلات۔ یہ تمام حقائق بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون میں کمی اور ایک کمزور عالمی نظام کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حتی کرونا وائرس کے پھیلاو سے پہلے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بین الاقوامی معاہدوں کو نظرانداز کرتے رہے، لبرل ازم کی اقدار پر سوال اٹھاتے رہے اور عالمی سطح پر لبرل نظام کی تشکیل میں امریکہ کی ذمہ داریوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ امریکہ کے زوال کی پیشن گوئی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1980ء کے عشرے میں بھی بہت سے سیاسی تجزیہ کار اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ امریکہ کی سربراہی زوال کی جانب گامزن ہے۔ لیکن سابق سوویت یونین کے زوال، جاپان کا "گمنام عشرے" میں داخل ہونے اور مغربی جرمنی کی جانب سے مشرقی جرمنی کے ساتھ متحد ہونے میں درپیش مشکلات کے باعث امریکہ ایک عشرے تک غیر متوقع طور پر ترقی کرتا رہا۔
 
لیکن اس بار صورتحال مکمل طور پر مختلف ہے۔ وہی قوتیں جنہوں نے 1980ء کے عشرے میں امریکہ کے اقتدار اور اثرورسوخ میں اضافہ کیا تھا آج امریکی اثرورسوخ کے خاتمے پر کمربستہ ہیں۔ ان دنوں جن ممالک کو اچھی طاقتیں کہا جاتا تھا آج بری طاقتوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ چین اور روس کے سامنے آنے اور نان لبرل آمرانہ نظاموں نے امریکہ کی لیڈرشپ کو چیلنج کر رکھا ہے۔ اس بار امریکہ کا زوال عارضی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ہو گا۔ ماضی میں مغرب کی طاقت اور اثرورسوخ میں تبدیلی اس قدر ناقابل تصور تھی کہ اکثر ماہرین مغربی لبرل ازم کی طاقت ہمیشگی ہونے کے قائل تھے۔ اس وقت حتی سعودی عرب جیسی آمرانہ حکومتوں کی حمایت پر مبنی منافقانہ استثنائی رویے بھی لبرل نظام کی طاقت میں اضافے کا باعث بنتے تھے کیونکہ امریکی حکمران لبرل اقدار پر پختہ عقیدہ رکھتے تھے۔ 2006ء سے 2018ء تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش آنے والے ایشوز میں سے 86 فیصد میں چین اور روس نے ایکدوسرے کی حمایت کی تھی۔ دوسری طرف 2005ء سے اب تک چین اور امریکہ نے صرف 21 فیصد ایشوز میں ایکدوسرے کی حمایت کی ہے۔
 
گذشتہ چند سال کے دوران چین نے ثابت کیا ہے کہ وہ ماسکو کو درپیش مشکلات اور پریشانیاں برطرف کرنے کیلئے تیار ہے۔ 2008ء میں رونما ہونے والے مالی بحران میں چین ان ممالک کا اہم ترین مالی اسپانسر بن گیا جنہیں مغربی مالی اداروں اور مراکز تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ 2014ء کے بعد چین دیگر ممالک کو مالی امداد فراہم کرنے کے میدان میں امریکہ سے آگے نکل چکا ہے۔ اس وقت ایسے ممالک نے بھی اقتصادی لحاظ سے مغرب پر انحصار کرنا چھوڑ دیا ہے جو کسی زمانے میں معیشتی اور سکیورٹی اعتبار سے مکمل طور پر مغرب کے محتاج تصور کئے جاتے تھے۔ البتہ امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ کو درپیش ایسے چیلنجز جن کا زیادہ تر تعلق متعلقہ لیڈران کے شخصی اور سیاسی حالات سے ہے زیادہ خطرناک نہیں ہیں۔ دوسری طرف موجودہ صدی کے ابتدائی سالوں میں رونما ہونے والے رنگی انقلاب اور کچھ عرصہ پہلے جنم لینے والی عرب اسپرنگ بذات خود انسانی حقوق کی حمایت اور جمہوریت کے فروغ کیلئے آمرانہ حکومتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی تھیں۔ دو اہم واقعات ایسے ہیں جنہوں نے نان لبرل سوچ اور رویوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک 2008ء میں رونما ہونے والا عظیم اقتصادی بحران اور دوسرا 2015ء میں یورپ کی جانب مہاجرین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ۔
 
موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں اور اقدامات بھی عالمی نظام کیلئے بہت بڑا خطرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کی جانب سے مسلسل عالمی معاہدوں سے دستبرداری نے بین الاقوامی سطح پر امریکی اثرورسوخ کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے۔ مزید برآں، کرونا وائرس کے نتیجے میں کووڈ 19 وبا کے پھیلاو نے بھی امریکی زوال کی تیزی میں اضافہ کر دیا ہے۔ حتی اگر امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ کا مرکز باقی رہ جاتا ہے اور امریکہ اور یورپی یونین اپنی اقتصادی اور فوجی صلاحیتیں محفوظ رکھنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تب بھی انہیں ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکلات سے بھرپور عالمی نظم سے روبرو ہونا پڑے گا۔ اس کا کوئی سادہ راہ حل موجود نہیں۔ حتی اگر آئندہ صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے کر برسراقتدار آ جاتے ہیں تب بھی امریکی زوال جاری رہے گا۔ کیا امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ کے ضامن قریبی اتحادی اسے چھوڑ دیں گے؟ امریکہ کس حد تک عالمی سطح پر اپنی کرنسی کی بالادستی برقرار رکھ پائے گا؟ یہ وہ اہم سوالات ہیں جن کا جواب آسانی سے نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ میں چین اور دیگر نئی ابھر کر سامنے آنے والی طاقتوں سے مقابلہ کرنے اور ان سے آگے نکل جانے کا پختہ ارادہ اور صلاحیت نظر نہیں آ رہی۔ واشنگٹن اس حقیقت کو قبول کر لے کہ اب دنیا یونی پولر نہیں رہی اور ماضی کی جانب بھی نہیں پلٹے گی۔
خبر کا کوڈ : 873044
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش