0
Friday 10 Jul 2020 10:30

ایران شام سکیورٹی معاہدہ

ایران شام سکیورٹی معاہدہ
اداریہ
ایران اور شام کے درمیان ایک اہم سکیورٹی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس نے علاقے کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایران کی مسلح افواج کے چیف جنرل باقری اور شامی وزیر دفاع علی عبداللہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں دفاع، سکیورٹی اور فوجی امور میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ایران اور شام کے درمیان تعلقات دیرینہ ہیں اور اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لیکر آج تک دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی موضوعات پر ایک پیج پر رہے ہیں۔ موجودہ صدر بشار الاسد سے پہلے حافظ الاسد مرحوم بھی ایران سے بہت نزدیک تھے۔ 2011ء میں دنیا بھر کے دہشت گردوں نے امریکہ، اسرائیل اور بعض عرب ممالک کی ایماء پر شام اور عراق پر حملہ کر دیا۔

اس وقت ایران نے جس انداز سے بشار الاسد کی حمایت کی، اس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔ موجودہ معاہدہ سے پہلے بھی ایران نے دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی، دفاع اور فوجی امور میں شام کی زبردست حمایت کی تھی، لیکن گذشتہ روز دونوں ممالک نے باقاعدہ ایک معاہدے کے تحت مستقبل میں مزید تعاون کو فروغ دینے کا سرکاری سطح پر اعلان کیا ہے۔ شام کے وزیر دفاع نے معاہدہ پر دستخط کرتے ہوئے بڑا معنی خیز جملہ کہا کہ اگر امریکہ کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی بھی یہ معاہدہ نہ ہونے دیتا۔ بہرحال اس وقت دونوں ممالک ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت اپنے دفاع اور سکیورٹی کے معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔

اس معاہدے نے امریکہ اور اس کے حواریوں بالخصوص اسرائیل کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب اسرائیل آئے دن شام پر حملہ کرنے سے پرہیز کرے، کیونکہ اب شام کا ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم صرف روس کے رحم و کرم پر نہیں ہے، بلکہ اس معاہدے میں شام کے ائیر ڈیفینس سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی شق شامل کی گئی ہے۔ اسرائیل کو اب خبردار ہو جانا چاہیئے کہ اس کی سرحدیں ایک ایسے ملک سے ملتی ہیں، جس کا ایران سے دفاعی معاہدہ ہوچکا ہے، بہرحال کاش دیگر عرب ممالک بھی ایران کے ساتھ ایسا مشترکہ دفاعی معاہدہ کر لیتے تو نہ صرف امریکہ سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدنے کی ضرورت نہ پڑتی، بلکہ ان ممالک کو ٹرامپ اور کوشنر کے تلوے چاٹنے سے بھی نجات مل جاتی۔
خبر کا کوڈ : 873617
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش