0
Saturday 11 Jul 2020 11:53

امریکہ ریاستی دہشتگردی کا جوابدہ ہے

امریکہ ریاستی دہشتگردی کا جوابدہ ہے
اداریہ
3 جنوری 2020ء کے دن بغداد ائیرپورٹ پر ایک المناک واقعہ پیش آیا۔ عراق کی دعوت پر ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اس تاریخ کو بغداد پہنچے تھے۔ جنرل قاسم سلیمانی کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے براہ راست حکم پر حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردی کا یہ واقعہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھا اور اسے عالمی و علاقائی اداروں نے خلاف قانون قرار دیا۔ امریکہ کی اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف ایران مختلف اداروں میں آواز اٹھاتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام ایک خط تحریر کیا ہے۔ خط میں انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ امریکی صدر کے براہ راست حکم کے نتیجے میں ہوا ہے، لہٰذا اس دہشت گردانہ اقدام کے حوالے سے امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر جواب دینا ہوگا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کا حکم دے کر آگ سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔ آج امریکہ کے خلاف خطے میں شدید نفرت پائی جاتی ہے اور حزب اللہ، انصار اللہ اور حشد الشعبی امریکہ کے خلاف فیصلہ کن جنگ کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔

ایران نے امریکہ کے عین الاسد اڈے پر حملہ کرکے اپنے انتقام کا آغاز کیا تھا، جس کا سلسلہ خطے سے امریکہ کے مکمل انخلاء کے مکمل ہونے تک جائیگا اور اس کے بعد خطے کے امن کے لیے اسرائیل کے تحفظ کے لیے سب سے بڑے خطرے یعنی صیہونی حکومت کو ٹارگٹ کیا جائیگا۔ امریکہ اسرائیل کے تحفظ کیلئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، لیکن استقامت و مقاومت کے بلاک نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو آزادی دلانے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریگا۔ امریکہ اور اسرائیل سے انتقام کے لیے ایران نے چند دن پہلے شام سے ایک سکیورٹی معاہدہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایران صیہونی بارڈر تک پہنچ گیا ہے۔ ایران اور استقامتی بلاک کے انتقام کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور اس کے اثرات اسرائیل کے اندر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تل ابیب پر جاری خوف و ہراس اسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 873856
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش