0
Wednesday 15 Jul 2020 10:10

امریکہ کی وعدہ خلافیوں کا پانچواں سال

امریکہ کی وعدہ خلافیوں کا پانچواں سال
اداریہ
14 جولائی کو ایران اور پانچ بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کو پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، چین اور روس نے یورپی یونین کی میزبانی میں ہونے والے تیرہ سال کے طویل مذاکرات کے بعد چودہ جولائی دو ہزار پندرہ کو ایران کے جامع ایٹمی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو محدود پیمانے پر پرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی اور جوہری پروگرام کو آگے نہ بڑھانے کے بدلے میں ایران کے خلاف تمام پابندیوں کو ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 2231 کے ذریعے اس معاہدے کی نو شقیں رکھی گئی تھیں۔ ایران نے ایٹمی معاہدے کے تحت طے شدہ مدت کے دوران اپنے تمام وعدے پورے کر دیئے اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای نے بھی اب تک اپنی تمام رپورٹوں میں اس کی تصدیق کی ہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود آٹھ مئی دو ہزار اٹھارہ کو امریکہ یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے نکل گیا اور اس نے ایران کے خلاف وہ تمام پابندیاں یکطرفہ طور پر دوبارہ عائد کر دیں، جو ایٹمی معاہدے کے تحت ہٹائی گئی تھیں۔ امریکہ کے نکل جانے کے بعد ایٹمی معاہدے کے یورپی فریقوں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین نے معاہدے میں باقی رہنے کی صورت میں تہران کو امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے اقتصادی پیکج دینے کا وعدہ کیا، لیکن دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یورپی ٹرائیکا جمع یورپی یونین نے اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ایٹمی معاہدے کو پانچ برس مکمل ہونے پر اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ ایٹمی معاہدے کا کوئی نعم البدل موجود نہیں ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاہدے کا ایران کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کسی بھی غیر ذمہ دارانہ رویئے کے خلاف سنجیدہ قدم اٹھائے گا۔ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جوہری معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے غیر قانونی رویئے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے قانون اور سفارتکاری کی تذلیل نے دنیا میں اس کی ساکھ کو برباد کرکے عالمی سلامتی کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ ایٹمی معاہدے کی بقاء تین یورپی فریقوں کی جانب سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد میں مضمر ہے، بصورت دیگر معاہدے کے مکمل ناکام ہونے کی تمام تر ذمہ داری سب سے پہلے امریکہ اور اس کے بعد یورپی ملکوں پر عائد ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 874748
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش