?>?> امام زمانہ ؑ، آئمہ معصومین ؑ اور بیعتِ طاغوت(1) - اسلام ٹائمز
1
1
Friday 7 Aug 2020 15:33

امام زمانہ ؑ، آئمہ معصومین ؑ اور بیعتِ طاغوت(1)

امام زمانہ ؑ، آئمہ معصومین ؑ اور بیعتِ طاغوت(1)
تحریر: سید آصف نقوی

اس اہم ترین موضوع پر غور و فکر کے ساتھ مطالب کو بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آئمہ معصومینؑ سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں۔ اس مقالہ میں ہم ان روایات میں سے چند ایک کا ذکر کرکے ان سے جو مفاہیم اخذ کیے جاسکتے ہیں، ان کو بیان کریں گے۔
۱) امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ ’’یقوم القائم ولیس لأحد فی عنقہ عھد ولا عقد ولا بیعۃ۔‘‘(الغیبۃ،ص؍۸۹) ’’جب قائمؑ ظہور کرے گا تو ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی۔‘‘
۲) امام زین العابدینؑ سے روایت ہے کہ ’’القائم منا یخفی علیٰ الناس ولادتہ حتیٰ یقول لم یولد بعد لیخرج حین یخرجولیس لأحد فی عنقہ بیعۃ۔‘‘(بحار الانوار، ج۵۱، ص۱۳۵) ’’ہمارے قائم کی ولادت عام لوگوں سے مخفی ہوگی۔ یہاں تک کہ بعض لوگ یہ کہیں گے کہ وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ جب وہ ظہور کریں گے۔ ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی۔‘‘
۳) حسن بن فضال امام رضاؑ سے نقل کرتے ہیں کہ’’کأنی بالشیعۃ عنہ فقد انھم الرابع من ولدی یطلبون المرعیٰ فلا یجدونہ،قلت:ولم ذلک یابن رسول اللہ؟قال:لأن امامھم یغیب عنھم، فقلت: ولم؟ قال:لئلّا یکون لأحد فی عنقہ بیعۃ اذا قام بالسیف۔‘‘(کمال الدین، ص۴۸۰) ’’گویا میں اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ میرے تیسرے بیٹے (امام حسن عسکریؑ) کی شہادت کے وقت اپنے امامؑ (مہدی) کو جگہ جگہ تلاش کر رہے ہیں لیکن وہ اسے نہیں پائیں گے۔ میں نے عرض کی کہ کیوں وہ انھیں نہیں پائیں گے۔ (کیوں غیبت اختیار کریں گے) تو آپؑ نے فرمایا تاکہ جب وہ تلوار لے کر قیام کرے تو اس کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہو۔‘‘

۴) اسی طرح امام زمانہؑ کی جانب سے ایک توقیع اسحاق بن یعقوبؑ کے لیے محمد بن عثمان بن سعید عمری کے توسط سے صادر ہوئی۔ حضرت نے اس توقیع میں فرمایا: ’’وأما علۃ ما وقع من الغیبۃ فان اللہ عزّ وجلّ یقول:’یا ایھا اللذین آمنوا لا تسئلوا عن اشیاء ما تبدلکم تسوکم‘انہ لم یکن لأحد من آبائی علیھم السلام الّا وقد وضعت فی عنقہ بیعۃ لطاغیۃ زمانہ وانی اخرج حین اخرج ولا بیعۃ لأحد من الطواغیت فی عنقی۔‘‘ (سورۂ مائدہ۱۰۱؛ الاحتجاج، ج ۲، ص ۴۷۱) ’’میرے آباو اجداد علیہم السلام میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا، جس کے گلے میں طاغوت زمانہ کی بیعت نہ لٹکائی گئی ہوں، تاہم میں نکل آیا، جب بھی نکلا میرے گلے میں کسی بھی طاغی کی بیعت نہیں ہے۔‘‘ مذکورہ بالا روایات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امامؑ جب ظہور فرمائیں گے تو ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی، لیکن مفہوم بیعت جو ان روایات میں نقل ہوا ہے، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں ایک سوال بھی ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا امام زمانہؑ سے پہلے تمام آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے دور کے طاغوت کی بیعت کی تھی۔؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ان روایات میں لفظ بیعت سے ظاہری بیعت مراد ہے، ورنہ حقیقی بیعت تو امامؑ کی سب کی گردن پر ہوتی ہے اور کسی کو امامؑ سے بیعت لینے کا کوئی حق نہیں۔ یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ پہلے امام علیؑ سے لے کر امام حسن العسکریؑ تک سب آئمہ معصومینؑ نے اپنے اپنے وقت کے مختلف حاکموں کے دور میں زندگی گزاری ہے اور ان غیر شرعی حاکموں نے اپنے دور میں اپنے مروجہ قوانین پوری سلطنت اسلامیہ میں نافذ کیے ہوئے تھے اور ہر امامؑ اپنے دور کے حاکم کے نافذ کردہ قوانین کے اندر زندگی گزارنے پر مجبور تھا۔ اس لیے ہر امامؑ نے ان قوانین اور مجبوریوں کے اندر رہ کر اپنا شرعی وظیفہ بھی ادا کرنا تھا۔ چنانچہ ہر امام نے دین کی تبلیغ اور مومنین کی جان و مال کی حفاظت کے لیے مختلف لائحہ عمل ترتیب دیا اور بہترین طریقے سے اپنے فرائض ادا کیے، جن کی نظیر نہیں ملتی۔ امام زمانہؑ اپنی توقیع میں اسی نقطے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ تمام آئمہ معصومین طاغوتی حکمرانوں کے ادوار میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ ظالم و جابر اور طاغوت کی بیعت تو ایک عام مومن کے لیے بھی روا نہیں، آئمہ معصومینؑ سے تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

ایک نقطہ قابل غور ہے کہ پیغمبر اور آئمہ معصومینؑ چونکہ خداوند عالم کی طرف سے منسوب ہوتے ہیں، اس لیے ان کو کسی قسم کی بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی، یعنی خدا کی طرف سے منسوب نبی یا امام کی اطاعت خدا کی طرف سے واجب ہوتی ہے۔ چاہے کسی نے بیعت کی ہو یا بیعت نہ کی ہو۔ دوسرے الفاظ میں مقام نبوت اور امامت کا لازمہ اطاعت کا واجب ہونا ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے: "یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُم۔"  ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول (ص) اور صاحبان امر کی اطاعت کرو، جو تم میں سے ہیں۔"(سورہ نساء آیت ۵۹) یہاں ایک سوال پیدا ہوتا کہ پھر رسول اکرم (ص) نے کچھ مواقع پر اپنے اصحاب سے بیعت کیوں لی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح کی بیعت رسول اکرمؐ نے اپنے اصحاب سے لی تھی، اس طرح کی بیعت وفاداری کے عہد و پیمان جیسی ہوتی ہے، جو خاص مواقع پر انجام پاتی ہے، خصوصاً بعض سخت مقامات اور حوادث میں اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

اہل سنت کے نزدیک خلفاء کے سلسلے میں لی جانے والی بیعت کا مطلب ان کی خلافت کا قبول کرنا ہے۔ یعنی لوگ خلیفہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ اگرچہ اہل تشیع کے نزدیک خلافت رسولؐ کوئی ایسا منصب نہیں ہے کہ جس کو بیعت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہو یا لوگ اس کا انتخاب کرسکیں بلکہ خلیفہ خداوند عالم کی طرف سے پیغمبر ؐیا پہلے والے امام کے ذریعے متعین ہوتا ہے۔ ایک اور نقطہ بھی بہت اہم ہے کہ اگر کسی سے زبردستی بیعت لی جائے یا لوگوں سے غفلت کی حالت میں بیعت لی جائے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ غور و فکر کے بعد اپنے صوابدیدی اختیار اور آزادی سے کی جانے والی بیعت کی اہمیت ہوتی ہے۔
اہل سنت کے نزدیک بھی بیعت کی مختلف شرائط ہیں:
۱) جس کی بیعت کی جا رہی ہو، اس میں استطاعت کی شرط کا لحاظ کیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری، ج۸، ص ۱۲۲)
۲) جبری بیعت کو شرعی لحاظ سے فاسد کہا گیا۔ (عبدالمجید، البیعہ عند مفکری اہل السنۃ والعقد الاجتماعی ص ۱۳۹۱۴۰)

امام زمانہ کی بیان کردہ توقیع سے یہی مراد ہے کہ جس طرح ان کے آباء و اجداد طاغوت اور ظالم حکومتوں کے دور میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ امام زمانہؑ پر ایسی کوئی مجبوری نہیں ہوگی کہ بلکہ وہ خود آکر ایک الہیٰ حکومت تشکیل دیں گے ۔(ان شاءاللہ) ظاہری بیعت کو مزید سمجھنے کے لیے تقیہ کے مفہوم کو بھی سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آخر تقیہ ہے کیا۔؟
تقیہ:
تقیہ کے لغوی معنی حفاظت کرنا، بچانا، پرہیز کرنا اور امور کی اصلاح کرنا ہیں۔ تقیہ کے اصطلاحی معنی بیان کرنے کے لیے بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں۔ علماء و مفسرین نے تقیہ کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ ہم تقیہ کی جامع اور سادہ تعریف بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ "تقیہ تدبیر اور حکمت عملی ہے، جس کے ذریعے انسان کو نظم و انضباط کے ساتھ نظریاتی جدوجہد اور مبارزے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ تقیہ ہر اس قوم کے لیے ایک ڈھال و سپر ہے، جس پر اکثریت کا غلبہ ہو اور وہ اکثریت اس اقلیت کو اظہار عقیدہ اور اس کے مطابق عمل کرنے کی اجازت نہ دیتی ہو۔ ایسی اقلیت عقلی و شرعی رخصیت سے استفادہ کرتے ہوئے فطرت انسانی کے عین مطابق اہم ترین مقاصد کی خاطر تقیہ کا سہارا لیتی ہے۔"

تمام آئمہ معصومین ؑنے اپنے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے اپنا لائحہ عمل ترتیب دیا، نہ کہ طاغوت کی بیعت کی اور آئمہ معصومینؑ نے متعدد روایات میں اپنے دور کے طاغوت کی مذمت کی اور ان کو غاصب قرار دیا۔ یہاں ہم کچھ آئمہ معصومینؑ کے حالات زندگی اور روایات مختصراً بیان کرتے ہیں، تاکہ مفہوم مزید واضح ہوسکے۔
امام علیؑ اور خلفاء کی بیعت:
شیعہ و سنی تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ مولا علیؑ نے کسی بھی خلیفہ کی بیعت نہیں کی تھی۔ اس سلسلے میں محمد بن اسماعیل بخاری نے لکھا ہے کہ
"و عاشت بعد النبی صلی الله عليه و سلم، ستة أشهر فلما توفيت دفنها زوجها علی ليلا و لم يوءذن بها أبابكر و صلی عليها و كان لعلی من الناس وجه حياة فاطمة فلما توفيت استنكر علی وجوه الناس فالتمس مصالحة أبی بكر و مبايعته و لم يكن يبايع تلک الأشهر۔" ’’فاطمہ زہراؑ رسولؐ خدا کے بعد چھ مہینے زندہ رہیں۔ جب وہ دنیا سے گئیں تو ان کے شوہر نے ان کو رات کو مخفیانہ طور پر دفن کیا اور حضرت ابوبکر کو خبر تک نہ دی اور خود انؑ پر نماز پڑھی۔ جب تک فاطمہؑ زندہ تھیں، لوگ علیؑ کا احترام کیا کرتے تھے، لیکن وہ دنیا سے چلی گئیں تو لوگوں نے علیؑ سے منہ پھیر لیا۔ ایسے حالات میں علیؑ نے ابو بکر سے صلح کرنے کا سوچا۔ علیؑ نے ان چھ ماہ میں جب تک فاطمہؑ زندہ تھیں ابو بکر کی بیعت نہیں کی تھی۔"(صحیح البخاری، جلد۵، ص۸۲)

یہ بات غور طلب ہے کہ امام علی (ع) اور حضرت فاطمہ (س) دونوں معصوم ہیں، اگر دونوں نے چھ مہینے تک حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی تو بعد میں امام علی (ع) نے بیعت کیسے کر لی؟ اگر بیعت ابوبکر سے انکار حق تھا تو چھ مہینے بعد بیعت کر لینا کیسے حق ہوسکتا ہے؟ اور اگر بیعت کرنا حق تھا تو جناب سیدہ (س) نے پھر پوری زندگی اس حق کی مخالفت کیوں کی اور حضرت علی (ع) چھ مہینے تک اس حق سے کیوں روگرداں رہے؟ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ بیعت نہ کرنا ایک بات ہے اور مشورہ طلب کرنے پر مشورہ دینا الگ بات ہے اور مخالف ہوتے ہوئے بھی جنگ نہ کرنا ایک تیسری بات ہے۔ ان چھ ماہ کے بعد کی صورت احوال خود مولا علیؑ کی زبان سنیں نہج البلاغہ خطبہ نمبر۲۸، میں امام علیؑ فرماتے ہیں کہ: إنّی كنت أقاد كما يقاد الجمل المخشوش حتی أبايع ’’مجھے میرے گھر سے گھسیٹ گھسیٹ کر مسجد لے گئے۔ جس طرح ایک اونٹ کو اس کی لگام سے پکڑ کر لے جاتے ہیں کہ وہ نہ تو فرار کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی اس میں ارادہ و اختیار ہوتا ہے۔‘‘

تاریخ گواہ ہے کہ جب امیرالمومنینؑ کو مسجد لایا گیا تو انھوں نے حضرت علیؑ سے کہا کہ فقالوا له: بايع. فقال: إن أنا لم أفعل فمه؟! قالوا: إذا والله الذی لا إله إلا هو نضرب عنقک! قال: إذا تقتلون عبد الله و أخا رسوله، و أبو بكر ساكت لا يتكلم۔
’’ابوبکر کی بیعت کرو۔ حضرت امیرؑ نے فرمایا کہ اگر میں بیعت نہ کروں تو کیا ہوگا؟ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم، ہم تمھارے سر کو قلم کر دیں گے۔ اس پر حضرت علی ؑ نے فرمایا کہ اس صورت میں پھر تم لوگ خدا کے بندے اور رسول خدا کے بھائی کو قتل کرو گے۔" (الامامۃ والسیاسۃ بتحقیق الشیری:۳۱ باب کیف کانت بیعۃ علی ابن ابی طالب) مسعودی کی کتاب اثبات الوصیۃ میں آیا ہے کہ "فروی عن عدی بن حاتم أنه قال : و الله ، ما رحمت أحدا قط رحمتی علی بن أبی طالب عليه السلام حين اتی به ملببا بثوبه يقودونه إلی أبی بكر و قالوا : بايع ، قال : فإن لم أفعل ؟ قالوا : نضرب الذی فيه عيناک ، قال : فرفع رأسه إلی السماء ، و قال : اللهم إنی اشهدک أنهم أتوا أن يقتلونی فإنی عبد الله و أخو رسول الله ، فقالوا له : مد يدک فبايع فأبی عليهم فمدوا يده كرها ، فقبض علی أنامله فراموا بأجمعهم فتحها فلم يقدروا ، فمسح عليها أبو بكر و هی مضمومة ...، ’’امیرالمومنین کو جب مسجد میں ابو بکر کے پاس لے کر گئے اور ان سے کہا کہ اب تم کو ضرور بیعت کرنی ہوگی۔ علیؑ کا ہاتھ مٹھی کی صورت میں بند تھا۔ سب نے مل کر زور لگایا کہ حضرت علیؑ کے ہاتھ کو کھولیں اور ان کے ہاتھ کو ابو بکر کے ہاتھ پر رکھیں، لیکن سب مل کر بھی ان کے ہاتھ کو نہ کھول سکے۔ یہ دیکھ کر خود ابو بکر اٹھ کر آگے آیا اور اپنے ہاتھ کو حضرت علیؑ کے بند ہاتھ پر بیعت کے عنوان سے رکھ دیا۔" (اثبات الوصیۃ المسعودی،۱۴۶۔ الشافی،ج۳، ص۲۴۴۔ علم الیقین، ج۲، ص ۳۸۶ و ۳۸۸۔ بیت الحزان للمحدث القمی، ۱۱۸ وغیرہ)

حضرت امام علیؑ کا سیرتِ شیخین کو غیر شرعی جاننا:
اگر امام علیؑ ان کی خلافت کو شرعی و جائز جانتے تو کیوں شوریٰ والے دن جب چھ بندوں نے تین مرتبہ امیرالمومنین حضرت علیؑ کو کہا اگر آپؑ ابوبکر و عمر کی سنت کے مطابق عمل کریں گے تو ہم آپؑ کی بیعت کرکے آپ کو اپنے خلیفہ کے طور پر انتخاب کر لیں گے، لیکن حضرت علیؑ نے پورے عزم کے ساتھ اعلان کیا کہ میں اگر خلیفہ بن گیا تو میری خلافت فقط کتاب خدا اور سنت رسول ؐکے مطابق ہوگی اور ابوبکر و عمر کی روش و طریقے پر عمل نہیں کروں گا۔ احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اس بات کو عبدالرحمن بن عوف کی زبان سے یوں نقل کیا ہے کہ: "عن أبی وائل قال قلت لعبد الرحمن بن عوف كيف بايعتم عثمان و تركتم عليا رضی الله عنه قال ما ذنبی قد بدأت بعلی فقلت أبايعک علی كتاب الله و سنة رسوله و سيرة أبی بكر و عمر رضی الله عنهما قال فقال فيما استطعت قال ثم عرضتها علی عثمان رضی الله عنه فقبلها" ’’ابی وائل کہتا ہے کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف سے کہا کہ کیا ہوا کہ تم نے علیؑ کو چھوڑ کر عثمان کی بیعت کر لی ہے؟ عبدالرحمن نے کہا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ میں نے علیؑ سے کہا کہ میں تمھاری بیعت کر لیتا ہوں، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ کتاب خدا، سنت رسولؐ اور ابوبکر و عمر کی سیرت کے مطابق عمل کرو گے، اس پر علیؑ نے فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں کرسکتا اور میں نے یہی بات عثمان سے کہی تو اس نے اس بات کو قبول کر لیا۔ لہٰذا میں نے عثمان کی بیعت کرلی۔" (مسند احمد بن حنبل، ج۱، ص ۷۵۔ تاریخ مدینہ دمشق ابن عساکر ج۳۹، ص ۲۰۲)

اسی واقعہ کو یعقوبی نے تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص ۱۶۲ میں بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس واقعہ میں امیر المومنین حضرت علی ؑیہ بتانا چاہ رہے تھے کہ قرآن اور سنت رسولؐ خدا میں کوئی نقص اور کمی نہیں ہے کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کی سیرت کو بھی ملایا جائے، یعنی میں ان کی سیرت و سنت کو شرعی و جائز نہیں سمجھتا۔ لہٰذا میں ان کی سیرت کو اسلام کا جز نہیں بنا سکتا۔ اگر امیرالمومنین ان کی سیرت و خلافت کو شرعی و قانونی جانتے ہوتے تو اس حساس موقع پر عبدالرحمن بن عوف کی شرط کو مان لیتے اور رسول خداؐ کے وصال کے بعد مزید بارہ سال گھر نہ بیٹھتے۔ اس شورای میں سے کسی بھی شخص نے مولا علی (ع) سے یہ نہیں کہا کہ آپ تو ابوبکر و عمر کی بیعت کرچکے تھے تو پھر ان کی سیرت پر چلنے سے انکار کیوں ہے؟ اور نہ ہی بعد میں کسی نے مولا علی علیہ السلام سے ایسا کہا۔ لہذا بے تعصبی سے اگر غور کیا جائے تو صاف ظاہر ہو جائیگا کہ حضرت علی (ع) نے ان حضرات کی بیعت نہیں کی تھی اور نہ ہی ان کی سیرت کو پسند کرتے تھے۔

مولا علیؑ خلافت رسولؐ کو اپنا حق سمجھتے تھے:
مولا علی (ع) نہج البلاغہ خطبہ 72 میں فرماتے ہیں کہ: لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّی أَحَقُّ النَّاسِ بِهَا مِنْ غَيْرِی وَ اللَّهِ لَأُسْلِمَنَّ مَا سَلِمَتْ أُمُورُ الْمُسْلِمِينَ وَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا جَوْرٌ إِلَّا عَلَيَّ خَاصَّةً الْتِمَاساً لِأَجْرِ ذَلِک وَ فَضْلِهِ وَ زُهْداً فِيمَا تَنَافَسْتُمُوهُ مِنْ زُخْرُفِهِ وَ زِبْرِجِهِ ’’بے شک تم جانتے ہو کہ دوسروں کی نسبت میں خلافت کے لیے موزوں تر ہوں۔ خدا کی قسم جو کچھ تم لوگوں نے انجام دیا ہے۔ میں اس کو برداشت کر لیتا ہوںو تاکہ مسلمانوں کے حالات تھوڑے بہتر ہو جائیں اور ان میں فتنہ و اختلاف ایجاد نہ ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ تمھارے اس کام سے فقط مجھ پر ظلم ہو (اسلام کو نقصان نہ ہو) اور اس صبر و سکوت کرنے پر میں فقط خداوند سے اجر چاہتا ہوں اور جس درہم و دینار کے لیے تم ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہو میں اس سے دوری اختیار کرتا ہوں۔‘‘ اسی طرح ابن ابی الحدید کی نقل کے مطابق، حضرت امیر نے فرمایا کہ: و غصبونی حقی، و أجمعوا علی منازعتی أمرا كنت أولی به. "قریش نے میرے حق کو غصب کیا اور جس خلافت کے لیے میں سب سے زیادہ حقدار تھا، اسکے لیے انھوں نے مجھ سے جھگڑا اور اختلاف کیا۔"(شرح نہج البلاغہ لابن أبی الحديد، ج ۴، ص۱۰۴، ج۹، ص۳۰۶)

مولا علیؑ حضرت ابو بکر و حضرت عمر کی خلافت و حکومت کو غصبی جانتے تھے:
روایت میں نقل ہوا ہے کہ مولا علیؑ نے حضرت ابوبکر سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ
و لكنّک استبددت علينا بالأمر و كنّا نری لقرابتنا من رسول اللّه صلی اللّه عليه و سلم نصيباً حتّی فاضت عينا أبی بكر ’’اے ابو بکر تم نے میرے ساتھ ظلم کیا اور رسول خداؐ سے قربت کی وجہ سے خلافت میرا مسلم حق تھا۔ حضرت علیؑ کی یہ بات سن کر حضرت ابو بکر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔‘‘ (صحیح بخاری، ج۵، ص ۸۲، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، صحیح مسلم، ج۵، ص۱۵۴(چاپ جدید: ص۷۲۹، ح۱۷۵۸)، کتاب الجھاد، باب قول النبیؐ لا نورث ما ترکناہ صدقۃ) روایت صحیح مسلم میں حضرت عمر سے نقل ہوئی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت علیؑ اور حضرت عباسؓ سے کہا کہ: فلمّا توفّی رسول اللّه صلی اللّه عليه و آله، قال أبو بكر: أنا ولی رسول اللّه... فرأيتماه كاذباً آثماً غادراً خائناً... ثمّ توفّی أبو بكر فقلت : أنا وليّ رسول اللّه صلی اللّه عليه وآله، ولی أبی بكر، فرأيتمانی كاذباً آثماً غادراً خائناً ! و اللّه يعلم أنّی لصادق، بارّ، تابع للحقّ!۔ ’’رسول خداؐ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر نے کہا کہ میں رسول خداﷺ کا جانشین ہوں اور تم دونوں (حضرت علیؑ اور حضرت عباسؓ) حضرت ابو بکر کو جھوٹا، گناہ گار، حیلے گر اور خائن کہتے ہو اور حضرت ابو بکر کے مرنے کے بعد میں رسول خدا ﷺ اور حضرت ابو بکر کا جانشین ہوں اور تم دونوں مجھے بھی، جھوٹا، گناہ گار، حیلے گر اور خائن کہتے ہو۔" (صحیح مسلم، ج۵، ص ۱۵۲، (چاپ جدید: ص۷۲۸، ح۱۷۵۷) کتاب الجھاد باب۱۵، حکم الفئ حدیث۴۹، فتح الباری، ج۶، ص ۱۴۴)

حضرت علی ؑکا حضرت عثمان کے خلیفہ منتخب ہونے پر شدید اعتراض:
عثمان کے خلیفہ کے طور پر منتخب ہونے پر بھی علی ؑنے واضح طور پر اپنے اعتراض و مخالفت کا اظہار کیا، یہاں تک کہ عبد الرحمن ابن عوف نے ان حضرت علیؑ کو قتل کی دھمکی دی تھی: قال عبد الرحمن بن عوف : فلا تجعل يا علی سبيلاً إلی نفسک ، فإنّه السيف لا غير. "عبد الرحمن ابن عوف نے کہا: اے علی اس اعتراض سے اپنے آپ کو شمشیر سے قتل ہونے کے در پے پر قرار نہ دو..."(الامامۃ و السياسۃ، تحقيق الشيری ج۱، ص۴۵، تحقيق الزينی ج ۱، ص۳۱)
حضرت علی ؑکا حضرت عمر کی بنائی ہوئی چھے بندوں کی شورای پر اعتراض:
حضرت علیؑ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں کہ فَيَا لَلَّهِ وَ لِلشُّورَی مَتَی اعْتَرَضَ الرَّيْبُ فِيَّ مَعَ الْأَوَّلِ مِنْهُمْ حَتَّی صِرْتُ أُقْرَنُ إِلَی هَذِهِ النَّظَائِرِ لَكِنِّی أَسْفَفْتُ إِذْ أَسَفُّوا وَ طِرْتُ إِذْ طَارُوا فَصَغَا رَجُلٌ مِنْهُمْ لِضِغْنِهِ وَ مَالَ الآخَرُ لِصِهْرِهِ مَعَ هَنٍ وَ هَنٍ إِلَی أَنْ قَامَ ثَالِثُ الْقَوْمِ نَافِجاً حِضْنَيْهِ بَيْنَ نَثِيلِهِ وَ مُعْتَلَفِهِ وَ قَامَ مَعَهُ بَنُو أَبِيهِ يَخْضَمُونَ مَالَ اللَّهِ خِضْمَةَ الْإِبِلِ نِبْتَةَ الرَّبِيعِ إِلَی أَنِ انْتَكَثَ عَلَيْهِ فَتْلُهُ وَ أَجْهَزَ عَلَيْهِ عَمَلُهُ وَ كَبَتْ بِهِ بِطْنَتُهُ. "خدا کی پناہ اس شوریٰ سے! میں کب اس شوریٰ میں موجود افراد کے مساوی تھا کہ اب مجھے ان کی طرح کا ایک شمار کر رہے ہیں، اس کے با وجود بھی میں نے ان کا ساتھ دیا۔ ان میں سے ایک مجھ سے کینہ رکھنے کی وجہ سے مجھ سے دور ہوگیا اور دوسرے نے اس کا داماد ہونے کی وجہ سے دامادی کو حقیقت پر ترجیح دی اور وہ دونوں (طلحہ و زبیر) کہ ان کا نام لینا ہی میرے لیے بہت برا ہے۔ یہاں تک کہ تیسرا بھی خلیفہ بن گیا، اس کے باپ کی طرف سے رشتے دار یعنی بنی امیہ، اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور بیت المال کو ایسے غارت و تباہ کرنا شروع کر دیا، جیسے ایک بھوکا اونٹ بہار کے موسم میں اگنے والی گھاس پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ عثمان نے اس قدر فضول خرچی کی کہ اس کا سب کچھ لوگوں کے سامنے آگيا۔ اسی وجہ سے لوگ قیام کرنے پر مجبور ہوگئے۔"(نہج البلاغہ، خطبہ۳)

درج بالا روایات اور مطالب کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح اور عیاں ہو جاتی ہے کہ حضرت امیر المومنین امام علی ؑ بن ابی طالبؑ نے کبھی اور کسی موقع پر بھی خلفاء میں سے کسی کی بیعت نہیں کی۔ کیونکہ اگر بیعت کر لی ہوتی تو پھر خلفاء کو غیر شرعی اور غاصب قرار دینے کا کوئی جواز نہ تھا۔ جیسا کہ اہل سنت کی معتبر کتابوں میں بھی مولا علیؑ نے متعدد مواقع پر خلفاء کو غیر شرعی اور غاصب قرار دیا اور منصب خلافت کے لیے اپنے حق کا دفاع کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 878918
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

حیدر
Pakistan
ماشاء اللہ۔۔۔ زبردست انداز میں نقطہ نظر کو بیان کیا گیا ہے۔۔۔۔
منتخب
ہماری پیشکش