11
Friday 7 Aug 2020 13:36

لبنان پر حملہ عالمی و علاقائی سیاست کے تناظر میں(1)

لبنان پر حملہ عالمی و علاقائی سیاست کے تناظر میں(1)
تحریر: محمد سلمان مہدی

منگل چار اگست 2020ء کو لبنان ایک سانحہ سے دوچار ہوا، جس میں پانچ ہزار سے زائد زخمی اور درجنوں لاپتہ ہوچکے ہیں۔ البتہ مرنے والوں کی تعداد آخری اطلاعات تک 137 بتائی گئی تھی۔ زخمیوں کی اتنی بڑی تعداد کے پیش نظر یقیناً اموات کی تعداد میں بھی اب تک اضافہ ہوچکا ہوگا۔ یہ تو ہوئیں وہ خبریں جو ایک عام آدمی بھی جانتا ہی ہوگا، لیکن لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر جو کچھ ہوا، کیا یہ محض ایک اتفاقی دھماکہ تھا۔ اگر عالمی و علاقائی سیاسی ڈیولپمنٹس کو مدنظر رکھیں تو بیروت بندرگاہ سمیت پورا لبنان یا پورا خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ایک منظم سازش کی لپیٹ میں ہے اور یہ سازش کیا ہے، اس تحریر میں اختصار کے ساتھ وہ معلومات شامل کی جا رہی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ ذہن میں رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندگان کے سامنے آن ریکارڈ کہا کہ امریکی فوجی جرنیلوں کو لگتا ہے کہ بیروت میں جو کچھ ہوا، یہ اٹیک یعنی حملہ تھا۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا نہیں ابھی کچھ بھی نہیں کہہ سکتے، لیکن ان کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف نے صدر ٹرمپ کے موقف کا دفاع کیا کہ یہ اٹیک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر دفاع خود(اس حوالے سے کچھ بھی) نہیں جانتے۔(حوالہ: این بی سی ٹی وی چینل وڈیو رپورٹ)

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق بیروت میں دھماکہ لبنان کے مقامی وقت کے مطابق شام کے 6 بجے ہوا، لیکن منگل چار اگست کو اسرائیلی وزیراعظم کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شام کے چار بج کر نو منٹ پر جو دو ٹوئیٹس موجود ہیں، وہ پڑھ لیں۔ البتہ انہوں نے اس سے پہلے کیا کیا، یہ اسرائیلی وزیراعظم نے چار بج کر آٹھ منٹ پر ٹوئیٹ میں موجود ہے۔ ترتیب کے ساتھ انگریزی ٹوئیٹس پیش ہیں:
https://twitter.com/IsraeliPM/status/1290605488665554944
PM of Israel
@IsraeliPM
PM Netanyahu: "I have just finished a tour of IDFHFC along with the Defense Minister. I was deeply impressed by the industrial enterprise here for cutting the chain of infection. Great efforts are being made here.
4:08 PM · Aug 4, 2020·Twitter Web App
https://twitter.com/IsraeliPM/status/1290605718429749249
PM Netanyahu: "These are not vain words; they have the weight of the State of Israel and the IDF behind them and this should be taken seriously."
4:09 PM · Aug 4, 2020·Twitter Web App
https://twitter.com/IsraeliPM/status/1290605716911337473
Prime Minister Netanyahu: "We hit a cell and now we hit the dispatchers. We will do what is necessary in order to defend ourselves. I suggest to all of them, including Hezbollah, to consider this.
4:09 PM · Aug 4, 2020·Twitter Web App
https://twitter.com/IsraeliPM/status/1290605718429749249


انہوں نے اسرائیل کے سارے مخالفین کو کھلی دھمکی دی کہ انہوں نے ایک سیل کو ہٹ کیا اور اب ڈسپیچرز کو ہٹ کرنا ہے۔ مزید کہا کہ وہ یعنی اسرائیلی وزیراعظم، ان کی فوج اور (پوری ریاستی مشنری) اسرائیل کو بچانے کے لیے جو کچھ ضروری ہوا، وہ کریں گے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ بیروت سمیت پوری دنیا کو لگ پتہ گیا۔ اس نوعیت کی تباہ کن سازش سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ اسرائیل اور اسکے سرپرست، دوست اور اتحادی مرجاؤ یا مار دو والے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ اب وہ مارکر بھی مان نہیں رہے، یعنی خوفزدہ بھی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ایسی تباہ کن تخریب کاری کی ذمے داری قبول کرنا منقسم عالمی رائے عامہ کو بھی انکے خلاف کرنے کا سبب بنے گی اور یہ بھی معلوم ہے کہ عرب و مسلمان دنیا کی طرف سے اپنی امریکی اتحادی حکومتوں پر دباؤ میں شدت آئے گی اور ساتھ ہی یہ کہ لبنان اور فلسطین کی مزاحمت مقبوضہ عرب علاقوں کی آزادی اور ایسے حملوں کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر حملہ آور ہوں گے۔ لہٰذا انہوں نے سانحہ بیروت کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

انہوں نے جس طرح کا پروپیگنڈا کیا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیروت پر اٹیک کی وجہ اسرائیل اور امریکا اور ان کے اتحادیوں کے پاس بعض انٹیلی جنس معلومات تھیں۔ یعنی انہیں خبر ملی ہوگی کہ اس وقت حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ مشرقی بیروت میں موجود ہیں۔ اسی لیے حزب اللہ کے مخالف ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی اور سوشل میڈیا پر بھی سید حسن نصر اللہ سے متعلق فیک نیوز چلوائیں گئیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مس کیلکیولیشن ہوئی ہو۔ یعنی جو اصل ہدف تھا، اس کے لیے یہ تخریب کاری کی گئی ہو، لیکن تخریب کار اپنے اہداف میں ناکام رہے ہوں اور لینے کے دینے پڑگئے۔ ضروری نہیں کہ اسرائیل نے میزائل مارا ہو یا نیوکلیئر حملہ ہی کیا ہو۔ اگر یہ اس گودام میں آگ کی وجہ سے ہوا ہے تو کوئی بھی اس گودام میں یہ کارروائی کرسکتا تھا۔ البتہ بعد کے حالات بھی اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہ تباہی پہلے سے طے شدہ تھی۔

جس طرح فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے لبنان میں انٹری ڈالی اور جس طرح لبنان مخالف ذرائع ابلاغ نے ان کی میڈیا پروجیکشن کی، اس سے تو لگتا ہے کہ کوئی سپرمین، بیٹ مین ٹائپ کی کوئی ہستی وہاں نازل ہوئی ہے اور اس نے اب سب ٹھیک کر دیا ہے اور مضحکہ خیز نکتہ یہ ہے کہ اب ہر طرف سے لبنان کے نئے سیاسی نظام کا نعرہ لگ رہا ہے۔ کوئی فرانس اور سعودی عرب سے یہ تو پوچھے کہ لبنان میں اب تک جو سیاسی نظام تھا یا اب تک جو قومی مفاہمت کے فارمولا کے تحت بٹوارہ کیا گیا، وہ کس نے کیا تھا!؟ یہ فرانس اور سعودی عرب ہی تو تھے جو لبنان کے اصل حاکم بنے ہوئے تھے۔ لیکن کیا فرانس اور سعودی عرب نے لبنان کا دفاع کیا!؟ کیا 1978ء میں فرانس اور سعودی عرب لبنان کو اسرائیل سے بچانے آئے، کیا ان دونوں نے اسرائیل کو سزا دی!؟ کیا اقوام متحدہ نے اسرائیل کو لبنان میں گھس کر قبضہ کرنے اور لبنانیوں کا قتل عام کرنے کی سزا دی۔ بعد کی جنگوں کو تو چھوڑ ہی دیں۔ کیا یہ عرب لیگ اور خود سعودی عرب اور انٹرنیشنل کمیونٹی نہیں تھی، جو لبنان کی خانہ جنگی کے دوران شام کو لبنان میں لائے!؟ اگر لبنان میں شام کا آنا غلط تھا، تب بھی ذمے دار سعودی عرب اور فرانس سمیت یہ نام نہاد انٹرنیشنل کمیونٹی ہی تھی۔

یہ کس طرح لبنان کے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ ان کا تو ہدف ہی اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہے اور آج بھی اگر یہ لبنان سے ہمدردی کا ڈرامہ کر رہے ہیں تو مقصد یہی ہے کہ اسرائیل کے مفادات کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اب اس ڈرامے کی نئی قسط میں یہی کردار ادا کریں۔ لبنان کی موجودہ حکومت جیسی بھی تھی، اس نے لبنان کی قومی غیرت اور آزادی و خود مختاری کا دفاع کیا۔ لبنان کی موجودہ حکومت نے لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والے ہر ملک کا راستہ روکا۔ اسی حکومت نے امریکا کی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا۔ اسی حکومت نے جرمنی کی حکومت کی لبنان دشمن پالیسی پر شدید احتجاج کیا اور جرمن سفیر کو بھی وزارت خارجہ طلب کیا۔ لبنان کو اقتصادی مشکلات سے دوچار کرنے والے خود یہی ممالک ہیں یا ان کے حمایت یافتہ مقامی بدعنوان سیاستدان و حکام۔

آج بیروت میں لبنان میں قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف سڑکوں پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ فرانس کے صدر کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے۔ یہ دو منظر ہی اس کھلی حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ لبنان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف سازش میں بھی یہی اسرائیل دوست مغربی اور عرب ممالک شامل ہیں۔ سانحہ بیروت کی تحقیقات میں ایک زاویہ یہ بھی ہونا چاہیئے کہ لبنان کے زیر سمندر قدرتی ذخائر کو تو ہدف نہیں بنایا گیا!؟ سمندر کی تہہ میں جو گیس کے ذخائر ہیں، یا جو دیگر قدرتی ذخائر ہیں، جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا تھا، وہاں تو کچھ گڑ بڑ نہیں کی گئی۔ یعنی ایسا دھماکہ کیا کہ زیر سمندر ذخائر کا رخ لبنان سے اس حد میں جا پہنچے جو نام نہاد انٹرنیشنل لاء کے مطابق اسرائیلی سمندر ہے۔

میری نظر میں اسرائیل دوست امریکی مغربی و عربی زایونسٹ بلاک نے سانحہ بیروت کے ذریعے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اس صورتحال کے چند رخ ہیں، جنہیں بیان کیا گیا، مزید حقائق گلی قسط میں علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں پیش کریں گے۔ لیکن اشارتاً یہ حقیقت ہرگز فراموش نہ کریں کہ لبنان، فلسطین، شام سمیت یہ پورا خطہ جن مشکلات کو بھگتتا رہا ہے، اس کے اصلی ذمے دار برطانیہ، فرانس، امریکا، سعودی عرب اور دیگر اتحادی ہی ہیں اور ان تمام بحرانوں کی جڑ سائیکس پیکو معاہدہ ہے اور موجودہ بحران اسی سائیکس پیکو معاہدے کی توسیع یا تسلسل ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس کے تحت جو مراحل نامکمل رہ گئے تھے، ان کی تکمیل کے لیے انسانیت، اسلام اور عربوں کے دشمن مار دو یا مرجاؤ والے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیل آف دی سینچری کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ طبل جنگ بجا دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا کے انسانیت دوست عوام اور اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے ہمدرد تاحال درست تحلیل کرکے اپنی ذمے داری انجام دینے میں سستی سے کام لے رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
https://www.nbcnews.com/now/video/trump-says-u-s-generals-believe-beirut-explosion-was-an-attack-89547333756
https://www.politico.com/news/2020/08/05/mark-esper-beirut-lebanon-explosion-391987

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 878919
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش