10
Monday 10 Aug 2020 01:47

لبنان پر حملہ عالمی و علاقائی سیاست کے تناظر میں(2)

لبنان پر حملہ عالمی و علاقائی سیاست کے تناظر میں(2)
تحریر: محمد سلمان مہدی

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بندرگاہ کے مقام پر جو دھماکہ یا حملہ ہوا، اس حوالے سے پچھلی قسط میں عرض کیا گیا کہ اگر یہ حملہ تھا، جیسا کہ امریکی جرنیلوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا، تو یقیناً اس حوالے سے حملہ آور کے پاس غلط معلومات تھیں۔ یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ حملہ آور یعنی اسرائیل نے اس گودام کو حزب اللہ کے اسلحے کا گودام سمجھ کر تخریب کاری کی ہو۔ کیونکہ پچھلے چند دنوں سے اسرائیل نے تواتر کے ساتھ دھمکیاں دیں تھیں اور سانحہ بیروت کے فوری بعد میڈیا اور سیاستدانوں کے ایک ٹولے نے بغیر کسی تحقیق کے اسرائیل کا موقف دہرانا شروع کر دیا تھا۔ حزب اللہ پر الزامات یا حزب اللہ سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ہوا اور اسی منصوبے پر ابھی تک مرحلہ وار عمل جاری ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ لبنان میں سیاسی عمل کو مفلوج کر دیا جائے۔ حکومت کو معطل کر دیا جائے، پارلیمنٹ کو معلق کر دیا جائے اور لبنان کو ایک اور مرتبہ بغیر منتخب جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ کے رکھ کر اہم فیصلوں پر لبنانی قوم کو مزید منقسم کر دیا جائے۔

اب تک 6 اراکین پارلیمنٹ مستعفی ہوچکے ہیں۔ اس ضمن میں اسرائیل نواز القوات اللبنانیہ کے سربراہ سمیر جعجع نے کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ کے استعفیٰ پر کام کر رہے ہیں، تاکہ قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کی راہ ہموار کی جاسکے۔ لبنان میں مئی2018ء میں انتخابات ہوئے تھے اور 11 فروری 2019ء کو یعنی نو ماہ کے طویل وقفے کے بعد پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لے کر لبنان کی نئی حکومت قائم ہوئی۔ لبنان کی نئی حکومت کے خلاف سازش تیار کے عنوان سے ہم نے 17 فروری 2020ء کو اسلام ٹائمز میں ایک مقالے کی صورت میں پیشن گوئی کر دی تھی کہ امریکی بلاک لبنان میں ایسے کسی سیٹ اپ سے راضی نہیں ہوگا کہ جو اسرائیل کو دشمن قرار دیتا ہو۔ چونکہ اسرائیل کے خلاف حزب اللہ ایک موثر مزاحمتی تحریک ہے، اس لیے امریکی بلاک ہر لبنانی حکومت سے یہی ایک مطالبہ رکھے گا کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرے۔ بالکل اسی طرح ہوا۔ اسرائیل اور اس کے ہمنوا لبنان کی آزادی و خود مختاری کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ وہ لبنانی عوام کو انکی آزاد و خود مختار حیثیت کی سزا دیتے آرہے ہیں، ماضی اس پر گواہ ہے۔

کہنے کو پوری دنیا میں کورونا اور سماجی فاصلہ و احتیاطی تدابیر کا شور مچایا جاتا رہا، لیکن لبنان میں کورونا وائرس کے ہوتے ہوئے ایک طبقہ لبنانی وزارت خارجہ پر قبضہ کرچکا ہے۔ ریٹائرڈ آرمی افسران کی قیادت میں ہفتہ 08 اگست کو اشرافیہ علاقے میں لبنانی وزارت خارجہ کی عمارت پر قبضہ ہوچکا ہے اور غیر قانونی قابضین نے اسے انقلاب کا ہیڈکوارٹر قرار دیا ہے۔ یعنی لبنان کو ایک نئے طریقے سے شام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  یعنی باقاعدہ خانہ جنگی کی سازش، جبکہ لبنان ایک طویل المدت خانہ جنگی سے بڑی مشکل سے باہر نکلا ہے۔  وزیراعظم حسن دیاب نے مستعفی ہونے کے خواہشمند وزراء سے بروز اتوار 09 اگست ملاقات کی ہے۔ خاتون وزیر اطلاعات پہلے ہی مستعفی ہوچکیں ہیں اور وزیراعظم بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ قبل از وقت انتخابات کی تجویز رسمی طور پر دیں گے۔ البتہ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر اصلاحات پر مل کر کام کریں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کہا کہ دو ماہ مزید وزارت عظمیٰ پر رہنے کے لیے تیار ہیں۔ ممکن نہیں کہ اس طرح بحران ٹل جائے یا مشکل حل ہو جائے۔ اس کا تعین لبنان کی دشمن طاقتیں امریکا کی قیادت میں کر رہیں ہیں۔

لبنان کے دشمن اور اسرائیل کے دوست سانحہ بیروت کی آڑ میں ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دینے کے جتن کر رہے ہیں، حالانکہ سانحہ بیروت میں حزب اللہ کے افراد بھی شہید و زخمی ہوئے ہیں۔ اس زاویے سے دیکھیں تو دشمن کی چالیں کامیاب دکھائیں دیتیں ہیں۔ لیکن ساتھ ہی امریکی بلاک کی غیر منطقی و غیر منصفانہ لبنان پالیسی کی حقیقت بے نقاب بھی ہو رہی ہے۔ امریکی بلاک دنیا کے سامنے یہ تاثر دیتا رہا ہے کہ وہ لبنانی ریاستی اداروں اور خاص طور پر مسلح افواج کے ساتھ ہے، لیکن سانحہ بیروت کے بعد امریکی بلاک بین الاقوامی تحقیقات کا شوشہ چھوڑ رہا ہے۔ یعنی امریکی بلاک کو خود کو لبنان کے ریاستی اداروں پر اعتماد نہیں ہے۔ اسی طرح بعض حلقے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عرب بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے انکوائری ہو۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحاد کی پریشانیاں کے عنوان سے ہم 24 نومبر 2019ء کو یہ عرض کرچکے کہ لبنان و عراق سے امریکا کی ناراضگی کی ایک وجہ چائنا فیکٹر بھی ہے۔ امریکی بلاک لبنان و عراق کے چائنا کے ساتھ تعلقات میں توسیع کا مخالف ہے۔ اسی طرح وہ روس کے ساتھ دیگر مسلم ممالک کے اچھے کاروباری تعلقات رکھنے والوں کو بھی بلیک میل کرتا رہا ہے۔

سانحہ بیروت کے ساتھ یا اس سے ایک آدھ دن پہلے یا بعد میں روس اور چین کے خلاف بھی امریکی حکومت نے اقدامات کئے۔ چین کو بلیک میل کرنے کے لئے امریکی وزیر صحت الیکس آذر نے دورہ تائیوان کا اعلان کر دیا تھا۔ جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہیں ہیں تو وہ تائیوان پہنچ چکے تھے۔ اسی طرح وہ روس کے نورڈ اسٹریم2 گیس پائپ لائن پروجیکٹ کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یعنی وہ یورپ میں بھی روس کے کردار کو ناپسند کرتا ہے۔ امریکی مغربی بلاک اسی طرح بیک وقت پوری دنیا میں کسی نہ کسی محاذ کو اولیت دے کر سبھی کو مصروف رکھتا ہے اور بلیک میلنگ کے ذریعے کہیں سودے بازی کرتا ہے اور کہیں کوئی مفاد حاصل کر لیتا ہے۔ ماضی بعید کی بجائے محض اکیسویں صدی کے آغاز سے دیکھیں تو بین الاقوامی سیاست میں امریکی بلاک روس اور چین کو بلیک میل کرکے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی مفاد کا تحفظ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایران پر اقوم متحدہ کی متفقہ پابندیاں۔ اگر روس اور چین یا ان میں سے کوئی ایک ویٹو کر دیتا تو پابندی نہ لگتی، لیکن انہوں نے پابندی لگنے دی۔ سبب کیا بنا۔ یوکرین اور جارجیا کے ایشوز پیدا ہوئے، چیچنیا وغیرہ کے ساتھ بھی گاہے بگاہے تنازعہ ہوتا رہا ہے۔ چائنا کو بلیک میل کرنے کے لیے پہلے شمالی کوریا کا ایشو کھڑا کیا جاتا رہا۔ ورنہ تبت، ہانگ کانگ اور تائیوان  ایشوز موجود ہیں۔

لیکن اس مرتبہ بعض تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ چائنا اور روس امریکی بلاک کو مسترد کرکے اپنی منوائیں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن لمحہ موجود کی حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے مفاد میں لبنان کو ایک اور مرتبہ اکھاڑہ بنانے کی منظم سازش تیار ہوچکی ہے اور فرانس اور سعودی عرب ایک اور مرتبہ بادشاہ گر کی اپنی پرانی حیثیت جتا رہے ہیں۔ حالانکہ اب حزب اللہ بھی لبنان میں ناقابل نظر انداز قانونی سیاسی اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک ہے اور اگر اس مرتبہ مارا ماری تک بات گئی تو کئی محاذ کھلیں گے۔ مقبوضہ فلسطین، مقبوضہ جولان اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں کی آزادی کی مشترکہ مسلح تحریک شروع ہوسکتی ہے اور قوی امکانات ہیں کہ آزادی کی یہ جنگ اس مرتبہ ان علاقوں میں بھی لڑی جائے گی، جن پر اسرائیل کے قبضے کو امریکا یا دنیا نے قانونی تسلیم کر رکھا ہے۔ یقیناً دونوں طرف سارے امکانات مدنظر رکھے جا رہے ہوں گے۔

ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ لبنان کے عوام کو اس سے کیا فائدہ ہوگا، تو جواب یہ ہے کہ فرانس اور سعودی عرب کے بادشاہ گر رہنے کے اس طویل عرصے میں انہیں کیا فائدہ ہوا۔ لبنان کے سیاہ و سفید کے مالک وہ بن بیٹھے اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے حکومت کرتے رہے۔ لبنانیوں کو لڑواتے رہے اور اسرائیل کا الو سیدھا کرتے رہے۔ کیا سانحہ بیروت سے پہلے لبنان کی اقتصادی مشکلات نہیں تھیں۔ عالمی مالیاتی نظام کے تحت عالمی مالیاتی اداروں نے اور لبنان میں مذکورہ غیر ملکی طاقتوں کے مقامی آلہ کار سیاستدانوں اور حکام نے مالی بدعنوانیوں کے ذریعے ہی لبنان کی لٹیا ڈبونے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ عالمی سامراج تقسیم کرو اور حکومت کرو کے نظریئے کا پیروکار ہے۔ دیگر آزاد و خود مختار ممالک پر قبضہ کرکے وہاں کی اقتصادی آزادی سلب کرکے کسی بھی قوم کو قومی غیرت و خود مختاری سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ پہلے تباہی پھیلاتا ہے، جیسا عراق و افغانستان، لبیا وغیرہ میں کیا اور بعد میں تعمیر نو کے بہانے مداخلت کرتا ہے۔ پوری دنیا کے باشعور خواص اس تلخ حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ لبنانی قوم کو بھی اس کا تجربہ ہے۔ سائیکس پیکو معاہدے کے تحت جو نامکمل رہ گیا تھا، اسے ڈیل آف دی سینچری کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے یہ سب کھیل کھیلا جا رہا ہے اور اس کی زد پر دیگر عرب علاقے بھی آنے ہیں۔ خدا خیر کرے۔
خبر کا کوڈ : 879306
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش