0
Wednesday 12 Aug 2020 10:42

محرم، فرقہ واریت، ملک دشمن قوتیں اور فوج

محرم، فرقہ واریت، ملک دشمن قوتیں اور فوج
تحریر: تصور حسین شہزاد

محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی ملک دشمن قوتوں نے نئے عزم کیساتھ ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ اس حوالے سے جو شواہد و قرائن سامنے آئے ہیں، ان میں انڈیا، اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب کا گٹھ جوڑ دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان میں جس دن سے سی پیک منصوبے کا اعلان ہوا ہے، اسی دن سے پاکستان مخالف قوتوں کی نیندیں اُڑی ہوئی ہیں۔ اس منصوبے کے حوالے سے سب سے زیادہ تکلیف بھارت محسوس کر رہا ہے۔ جس کا اظہار بھارتی وزیراعظم مودی کر بھی چکے ہیں۔ اس کیساتھ اسرائیل اور سعودی عرب کا بھی ساتھ شامل ہے۔ کشمیر کے معاملے میں سعودی عرب نے کبھی پاکستان کے موقف کی حمایت نہیں کی، جبکہ ریاض کا جھکاو اسلام آباد کی نسبت ہمیشہ دہلی کی جانب رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کشمیر میں بھارت سے اسی پالیسی پر عمل کروا رہا ہے، جو وہ خود فلسطین میں استعمال کر رہا ہے۔ یعنی کشمیر میں آبادی کا تناسب بگاڑا جا رہا ہے۔ انڈیا سے ہندووں کو لاکر کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ پیشکش بھارتی پنجاب کے سکھوں کو بھی کی گئی کہ وہ کشمیر میں جا کر آباد ہوں، لیکن سکھوں نے دہلی سرکار کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ اب ہندووں کو سبز باغ دکھا کر بالکل ایسے ہی کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے، جس طرح اسرائیل نے پوری دنیا کے یہودیوں کو سبز باغ دکھا کر فلسطین کی زمین پر لا آباد کیا تھا۔

اس محرم الحرام کو بہت ہی خطرناک دیکھا جا رہا ہے۔ بہت سے مذہبی رہنماوں نے ان تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ اس محرم الحرام میں پاکستان میں فرقہ واریت کی ہوا دی جائے گی۔ اس حوالے سے اہم ذرائع بھی کچھ خطرناک سگنلز دے رہے ہیں۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ فرقہ واریت کیلئے دونوں طرف سے لوگوں کو خریدا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے تحفظ بنیاد اسلام جیسے متنازع بل کا اچانک پنجاب اسمبلی سے پاس ہو جانا، اشرف جلالی کی جانب سے شانِ سیدہؑ میں گستاخی، پھر اس کے بعد قاری زوار بہادر کی جانب سے محرم کے جلوس روکنے کی دھمکیاں، یہ ساریاں کڑیاں بدامنی پھیلانے کی زنجیر سے ہی ملتی ہیں، جبکہ اہل تشیع میں ذاکرین کا ایک نیا پلیٹ فارم "امامیہ سپیکرز پاکستان" قائم کیا گیا ہے۔ اس گروہ کو برطانیہ کی جانب سے حمایت حاصل ہے۔ ممکن ہے کہ اس گروہ کو یہ ٹاسک دیا جائے کہ وہ اپنی تقریروں میں مخالف فرقہ کے مقدسات کی توہین کریں اور پھر اس کے ردعمل میں مخالف فرقے کے کچھ علماء کو ہائیر کیا گیا ہے، جو جوابی حملے کرکے فضا کو خراب کریں اور اس طرح ملک میں فرقہ واریت کا جن پھر بے قابو ہو جائے۔

اس سازش کے تانے بانے جہاں انڈیا سے ملتے ہیں، وہیں سی پیک کی وجہ سے دیگر پاکستان دشمن ممالک بھی انڈیا کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے چاہ بہار سمیت دیگر منصوبوں سے بھارت کو آوٹ کرنا، ساتھ ہی سی پیک میں شمولیت کا اعلان، پاکستان دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھایا۔ دوسری جانب او آئی سی میں پاکستان کیساتھ امتیازی سلوک نے پاکستان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ مانا کہ ملکوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں، مگر او آئی سی کا پلیٹ فارم انڈیا کے دفاع کیلئے نہیں بلکہ اُمت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا، مگر اس پلیٹ فارم کو ریاض کی جانب سے ہائی جیک کر لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ محمود قریشی کو بولنا پڑا کہ پاکستان او آئی سی میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے سوچ رہا ہے۔

موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ اس محرم کو خونیں بنانے کا کھیل تیار ہوچکا ہے۔ چند شرپسند عناصر اب کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ پاکستان کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی اور قبل از وقت ہی اس خطرے کا ادراک کرتے ہوئے ان شرپسندوں کو لگام دینا ہوگی۔ اس حوالے سے پاک فوج کا کردار لائق تحسین ہے۔ کل ہونیوالی کور کمانڈر کانفرنس میں آرمی چیف نے تمام کور کمانڈرز کو ان خطرات سے واضح انداز میں آگاہ کیا ہے اور اس حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کیلئے پاک فوج اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ اس حوالے سے دونوں مکاتب فکر کے جید علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے پیروکاروں کو پُرامن رہنے کی تلقین کریں، فرقہ وارانہ گفتگو کرنیوالوں کا محاسبہ کریں، سٹیج کو ایسے افراد کے ہاتھوں میں نہ جانے دیں، جو مخالف فرقے کے مقدسات کی توہین کرتا ہو، ایسے شرپسند دونوں طرف ہوسکتے ہیں۔

اس لئے جیسے قاری زوار بہادر نے محرم کے جلوس روکنے کی دھمکی دی ہے، اس کے جواب میں شیعہ علماء کی جانب سے سخت ردعمل دینے کی بجائے گیند ریاست کی کورٹ میں ڈالی جائے اور ایسے شرپسندوں کو خود جواب دینے کی بجائے حکومت کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے اور ایسے شرپسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اسی طرح کی ہرزہ سرائی کا جواب دینے سے معاملہ قانون کی نظر میں بیلنس ہو جاتا ہے، جس پر قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی کارروائی سے گریز کرتے ہیں یا پھر مخالف فریق اس ردعمل کو ہی بنیاد بنا کر مزید پروپیگنڈہ کرتا ہے۔ اہلسنت کے بہت سے علماء ایسے ہیں، جنہوں نے قیام امن کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، انہیں چاہیئے کہ فرقہ واریت کو ہوا دینے والوں کا محاسبہ کریں جبکہ اہل تشیع کے سرکردہ رہنما بھی ذاکرین کے نئے نئے بننے والے گروپوں پر نظر رکھیں اور بالخصوص ان کی تقاریر کو خصوصی طور پر نوٹ کیا جائے کہ یہ کسی مخالف فرقے کے مقدسات کی توہین کرکے فضا خراب نہ کریں۔

شرپسندی پھیلانے والے ذاکرین اور نام نہاد "علاموں" کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ یہ "سیزنل مقرر" ہوتے ہیں، جو محرم میں کماتے ہیں اور پورا سال کھاتے ہیں، ایسے  موسمی "علاموں" کا محاسبہ ضروری ہے۔ ان کا ایک بار بائیکاٹ ہوگیا تو ان کی عقل ٹھکانے آجائے گی۔ پاکستان کسی بھی فرقہ واریت، دہشت گردی یا تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ سازش بڑی ہے، اس کے تدارک کیلئے بھی بڑے بڑے اقدامات کرنا ہوں گے۔ فوج کی جانب سے فوری طور پر اس سازش کا ادراک کرتے ہوئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، جبکہ سول اداروں کی جانب سے بھی ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا کچھ حکومت کی "بُکل میں بھی چور" ہیں۔ جو اپنی ڈیرے داری برقرار رکھنے کیلئے حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں مصروف ہیں، حکومت کو ایسے عناصر پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ حکومت، قانون نافذ کرنیوالے اداروں، علمائے کرام اور عوام، ان تمام طبقات کا اپنا اپنا کردار ہے۔ چاروں طبقات نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کیا تو ملک دشمن قوتوں کے تمام منصوبے خاک ہو جائیں گے۔ مودی اور اس کے یار پہلے کی طرح ناکام و نامراد رہیں گے، ان شاء اللہ۔
خبر کا کوڈ : 879772
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش