1
Thursday 13 Aug 2020 08:57

ہندوستانی استعمار کا بڑھتا جبر

ہندوستانی استعمار کا بڑھتا جبر
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ہندوستان بظاہر ایک سیکولر ملک ہے، جس میں تمام مذاہب کو آزادی حاصل ہے۔ کانگرس کا برہمن استعمار بڑا چالاک تھا، اس نے تمام مذاہب پر جبر کا مظاہرہ کیا، مگر  اس کا کبھی اظہار نہیں ہونے دیا۔ یاد رہے یہ کانگرس اور نہرو خاندان ہی تھا، جس نے کشمیر کے معاملات میں ہر موقع پر دھوکہ دیا اور ستر سال سے اہل کشمیر کو دبا کر رکھا ہوا ہے، جہاں ان کے انسانی حقوق معطل کر دیئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نوکریوں سے لے کر تعلیم و صحت کے میدان تک مسلمان دیگر تمام اقوام سے ایک مسلسل پالیسی کے تحت پیچھے رکھے گئے اور اب غریبی اور مسلمان ایک ہوگئے ہیں۔ جو بستیاں گندگی سے اٹی ہوں، جہاں کوئی تعلیمی ادارہ نہ ہو، جہاں صحت کا کوئی مرکز نہ ہو اور جہاں تنگ و تاریک گلیاں ہوں، وہ یقیناً مسلمانوں کا ہی محلہ ہوگا۔ ہندوستان میں کہیں بھی قتل کی کوئی واردات ہو جائے تو شک مسلمانوں پر ہی کیا جاتا ہے، دہشتگردی کے الزام میں سترہ سترہ سال مسلمان نوجوانوں کو جیلوں میں رکھا گیا۔

اب بی جے پی کا راج ہے، اب ہر چیز بدل چکی ہے، اب منافقت نہیں کی جاتی، اب ڈنکے کی چوٹ پر مسلمانوں کو بھرے بازار مارا جاتا ہے، اس کی باقاعدہ ویڈیو بنائی جاتی ہے اور پھر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا جاتا ہے، تاکہ مسلمان خوفزدہ ہوں۔ یہ سب کرنے کے باجود ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوتی، وہ چند دن مہمانوں کی طرح تھانے جاتے ہیں اور پھر واپس آجاتے ہیں۔ سپریم کورٹ پر بھی ہندتوا کا قبضہ ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق ججز چیخ رہے ہیں، مگر یہاں کوئی سننے والا نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے دو فیصلوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے قانون پر اعتبار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اہل کشمیر کا اعتبار تو اسی وقت اٹھ گیا تھا، جب افضل گرو کو دو ہزار تیرہ میں دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ اس کے خلاف ثبوت ناکافی تھے بلکہ بعد میں گرفتار ہونے والے ایک بڑے پولیس افسر کی سازش تھی، جس کی بنیاد پر افضل گرو کو پھانسی دی گئی۔ اس کی بنیاد فقط یہ تھی کہ اکثریت کو اطمنان اسی صورت ہوگا جب افضل گرو کو پھانسی دی جائے، مگر دراصل میں یہ پھانسی انڈین آئین اور دستور کی اور اس اعتبار کو پھانسی تھی، جو اہل کشمیر کا ایک طبقہ ہندوستانی اداروں پر کرتا تھا، اس کے بعد کے حالات دیکھ لیں، ہندوستانی اداروں پر اہل کشمیر نے اعتبار ختم کر دیا۔

بابری مسجد سینکڑوں سالوں سے قائم تھی، ایک فرضی کہانی جس کا تعلق ہزاروں سال پہلے سے ہے۔ جس کے بارے میں نیپال کے وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ رام کی پیدائش نیپال میں ہوئی تھی، خود ہندووں کی بڑی اکثریت یہی سمجھتی تھی۔ مگر یہ انتہاء پسند یہ کہاں سنتے ہیں؟ بات چلتے چلتے سپریم کورٹ پہنچی اور سپریم کورٹ نے وہ فیصلہ دیا، جو عدالتی تاریخ میں انڈیا کی سپریم کورٹ کے ماتھے کی کالک بن گیا۔ بغیر کسی ثبوت کے صرف اور صرف اکثریت کی تشفی کے لیے ان کی دھونس اور ان کی دھمکیوں پر  مسجد کی جگہ مندر بنانے کا کہا گیا۔ تو اگر یہاں مندر ہی تھا تو آپ نے مسجد کے لیے زمین کس خوشی میں دینے کا حکم دیا؟ جس طرح افضل گرو کی پھانسی نے اہل کشمیر کے اعتبار کو توڑا تھا، بالکل اسی طرح اس فیصلے نے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ریاست کا کام طاقتور کی لونڈی بننا نہیں ہوتا، بلکہ ریاست طاقتور کے مقابل مظلوم اور کمزور کی حمایتی ہوتی ہے۔ اسی لیے تو وہ ریاست ہوتی ہے، مگر انڈیا کی ریاست نے بار بار یہ ثابت کیا کہ وہ ظالم کے ساتھ اور مظلوم کو مزید دیوار سے لگائے گی۔

انڈیا کا وزیراعظم جاتا ہے اور مندر کا سنگ بنیاد رکھتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات جڑے ہیں، مگر وہ کسی بھی صورت میں ان کی پرواہ نہیں کرتا۔ اسے معلوم ہونا چاہیئے تھا کہ وہ صرف ہندووں کا وزیراعظم نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کا بھی وزیراعظم ہے، وہ اس مرحلے پر بھی اس مسجد کا بھی سنگ بنیاد رکھ دیتا، جو سپریم کورٹ نے بنانے کا حکم دیا تھا تو بھی کچھ جلدی راضی ہو جانے والوں کی تشفی ہوتی۔ مگر یہاں تو ہر صورت میں مسلمانوں کی دل آزاری کرنا مقصود ہے اور ہندوتوا کے ترجمانوں کے بیانات ملاحظہ کریں تو وہ ہر دوسرے بیان میں مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیتے ہیں اور مذہب تبدیل کرانے کی تو باقاعدہ مہم چل رہی ہے، جس میں آگرے کا واقعہ کچھ عرصہ پہلے بڑا مشہور ہوا تھا۔ پرسوں بنگلور کے رکن پارلیمنٹ کے عزیز نے نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کی، مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے اور وہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ لے کر تھانے پہنچے۔ تھانے میں ان کی شکایت تک درج نہیں کی جاتی ہے اور الٹا ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔ پھر ان پر سیدھی گولی چلائی جاتی ہے، جس سے دسیوں نہتے مسلمان زخمی ہو جاتے ہیں اور تین جام شہادت نوش کرتے ہیں۔

اس واقعہ سے پوری ریاست میں مسلمان خوفزدہ ہیں کہ ان کے مقدسات کی توہین ہو اور اس پر قانونی کارروائی کا مطالبہ ایسا جرم بن جائے کہ ان پر سیدھا فائر کیا جائے۔ اب جلاو گھراو کے الزام  میں مسلمانوں کو گرفتار کیا جائے گا اور سالوں جیلوں میں رہیں گے۔ ان سب سے وہ مسلمانوں کو تیسرے درجے کے شہری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جو کسی بھی صورت میں انڈیا میں سر اٹھائے مسلمانوں کو برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ انڈیا کے چہرے سے سیکولرازم کا نقاب الٹ رہا ہے اور اس کا اصل چہرہ سامنے آرہا ہے۔ ہندتوا تو ہندوازم کی تعلیمات کے مخالف ہے، ہندوتوا کا ہندوازم سے وہی تعلق ہے، جو صیہونیت کا یہودیت سے ہے۔ ہندوتوا سیاسی جبر اور معاشرتی دباو کے ذریعے مدمقابل کمیونٹیز کے استحصال کا نام ہے۔ ہندوتوا ہندوستان کو ایک فاشسٹ ریاست میں تبدیل کر رہی ہے، یہ بذات خود ہندوستان کے لیے ایٹم بم سے بڑا خطرہ ہے۔ تشدد کی نفسیات ہے کہ اس میں ٹھہراو نہیں ہوتا، جب ایک دشمن  تسلیم ہو جاتا ہے تو وہ اگلے دشمن کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔

اس طرح کی پالیسیاں بنانے والے لوگ ہندوستان کے اصل دشمن ہیں، جو ریاست کو دہشتگردی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی گیارہ ہندووں کو بھی قتل کر دیا گیا ہے، جو پاکستان سے بظاہر پناہ کے لیے انڈیا گئے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے برہمن استعمار کے اس چہرے اور ہندوتوا کے ان نظریات  کو اس وقت دیکھ لیا تھا، اس لیے انہوں نے برطانوی استعمار مکاری اور برہمن سامراج کی بغل میں چھری منہ میں رام رام  کی پالیسی کو یکسر مسترد کر دیا۔ جب بڑے بڑے جبہ و دستار کے مالک اور امام کہلانے والے اس جھانسے میں آگئے، اس وقت قائداعظم کی سیاسی بصیرت کو سلام کہ انہوں نے مسلمانوں کے لیے آزاد وطن کے لیے مسلسل جدوجہد کی اور اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
خبر کا کوڈ : 879959
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش