0
Thursday 13 Aug 2020 10:39

سعودی عرب کے بارے میں وزیر خارجہ کا بیان اور پالیسی شفٹ کا ہنگامہ(2)

سعودی عرب کے بارے میں وزیر خارجہ کا بیان اور پالیسی شفٹ کا ہنگامہ(2)
تحریر: ثاقب اکبر

پاکستان میں ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات کا پاکستان کو فائدہ زیادہ ہے یا نقصان زیادہ۔ یہ بحث سعودی عرب کے مختلف مطالبات کی وجہ سے اور بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ بھارت کے ساتھ اس کے روابط نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور کشمیر کے بارے میں اس کی سرد مہری نے خاموش لبوں کو بھی حرکت دے دی ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان کے سینیئر سفارتکار شمشار احمد نے DW کو انٹرویو دیتے ہو کہا کہ ”سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلم امہ کا رہنما ہے، لیکن اس نے مسلم امہ کے لیے اب تک کیا کیا ہے۔؟ سوڈان اور انڈونیشیا کو توڑ دیا گیا۔ کشمیر میں لاکھوں افراد کو ایک بڑے زندان میں بند کیا ہوا ہے۔ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، لیکن کیا سعودی عرب کو یہ پتہ نہیں چلا کہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، جو ملک کشمیر کے ساتھ نہیں، وہ ہمارے ساتھ بھی نہیں۔“

ان کا مزید کہنا تھا کہ ”پاکستان کو اپنی سعودی پالیسی کو تبدیل کرنا چاہیے، بہت باتیں ہوگئیں مسلم امہ کی۔ اب پاکستان کو ان اسلامی ممالک کی طرف دیکھنا چاہیے، جو مسلم امہ کا حقیقی معنوں میں درد رکھتے ہوں اور اپنے معاشی و مالی مسائل امہ کے مفاد میں قربان کرنے لیے تیار ہوں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عرب ممالک مالی معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ایک طرف کشمیریوں پر ظلم ہو رہا ہے اور دوسری طرف وہ مودی کے ملک میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرکے چین کے خلاف مودی کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔“ اسلام آباد کی پرسٹن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن نے بھارت پر سعودی نوازشات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں سعودی سرمایہ کاری نے پاکستانیوں کو بہت دکھی کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کیونکہ سعودی عرب مسلم امہ کا چیمپئن ہونے کا دعوے دار ہے، اس لیے پاکستانیوں نے ہمیشہ یہ توقع کی ہے کہ ریاض کشمیر کے مسئلے پر پاکستانیوں کی حمایت کرے گا، لیکن سعودی حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستانیوں کو مایوس کیا ہے۔ اب محمد بن سلمان کے دور میں سعودی عرب کا بنیادی مفاد تجارتی اور معاشی امور ہیں، ان کے لیے بھارت بڑی مارکیٹ ہے جبکہ پاکستانیوں کو وہ زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

پاکستان میں خارجہ امور اور کرنٹ افیئرز کے دیگر ماہرین بھی سعودی عرب کے طرز عمل کے پیش نظر حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جائے اور پاکستان کے مفاد میں ایسی خارجہ پالیسی اختیار کی جائے، جس سے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملتی ہو۔ علاوہ ازیں سعودی یا امریکی ڈکٹیشن کے بجائے آزاد حکمت عملی بروئے کار لائی جائے۔ کئی ایک دانشوروں کی رائے یہ ہے کہ سعودی عرب ایک طویل عرصے سے پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ معروف اینکر عمران خان نے پاک سعودی تعلقات پر متعدد وی لاگ کیے ہیں۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے: سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان ایران سے دوستی نہ کرے۔ اس سے تجارت نہ کرے، گیس نہ لے، اسی طرح سعودی عرب پاکستان کے ترکی سے بھی اچھے تعلقات نہیں چاہتا، کیونکہ ترکی خلافت عثمانیہ کی باتیں کرتا ہے اور سعودی عرب کبھی خلافت عثمانیہ کا حصہ ہوا کرتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ملائیشیا سے بھی اچھے تعلقات نہیں چاہتا، کیونکہ ملائیشیا ایک نئے اسلامی بلاک اور مسلم ٹریڈ کی بات کرتا ہے۔ چین سے دوستی بھی سعودی عرب کو پسند نہیں اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان واپس امریکی بلاک میں شامل ہو جائے، امریکی خواہشات پوری کرے، سی پیک کو رول بیک کر دے۔ عمران خان کی رائے یہ بھی ہے کہ سعودی عرب کو گوادر بندرگاہ سے بھی مسئلہ ہے، کیونکہ گوادر پورٹ فنکشنل ہوگئی تو یہ عربوں کے مالی مفادات پر ایک ضرب ہوگی۔ یہ سب باتیں دیگر تجزیہ کار بھی کر رہے ہیں۔ اس وقت ایک نئی بات گردش میں ہے اور وہ یہ کہ سعودی عرب نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلقات کو پرانی نہج پر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان وزیر خارجہ کی قربانی دے۔ یعنی شاہ محمود قریشی کو ہٹا کر کسی اور کو وزیر خارجہ بنایا جائے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ پاکستان سعودی عرب کے اتنا دباﺅ میں آئے گا کہ ایک ذرا سی بات جو سارے پاکستانیوں کے دل کی آواز ہے، کہنے پر وزیر خارجہ کو ان کے منصب سے ہٹا دیا جائے گا۔ اگرچہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شاہ محمود قریشی کو امریکہ کے ناراض ہونے کی بنا پر وزارت خارجہ سے ہٹایا جاچکا ہے۔ یہ مثال کوئی اچھی نہیں ہے، امید ہے کہ اسے نہیں دہرایا جائے گا۔

اس مرحلے پر کچھ ٹھہر کر یہ بھی سوچنا ہے کہ کیا پاکستان سعودی عرب سے تعلقات کو معمول پر رکھنے کے لیے اس کی تمام شرائط مان بھی سکتا ہے یا نہیں۔ علاوہ ازیں کیا پاکستان وہ راستہ اختیار کرسکتا ہے، جو محمد بن سلمان نے عالمی سطح پر اختیار کیا ہے۔ اس کے تین بنیادی عناصر ہیں، ایک امریکہ کی فرمانبرداری، دوسرا بھارت پر نوازشات اور دوستانہ تعلقات اور تیسرا اسرائیل کی نازبرداری۔ جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے تو سعودی عرب کے اس سے بڑھتے ہوئے تعلقات اب کوئی خبر نہیں رہے۔ فلسطین کی آزادی کی تحریکوں کو جن میں حماس بھی شامل ہے، سعودی عرب پہلے ہی دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی پالیسیاں یکساں ہیں۔ ان تینوں سے دوستی کا مقصد مسلمانوں کے مفادات کی نفی ہی نہیں بلکہ پست درجے کی غلامی بھی ہے۔

کیا پاکستان سی پیک کو رول بیک کرنے کا رسک مول لے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح سے کیا پاکستان ملائیشیا اور ترکی سے سرد مہری اختیار کر سکتا ہے؟ اس کا جواب بھی ہے: ہرگز نہیں۔ کیا پاکستان سعودی عرب کی خواہش پر ایران سے مستقل دشمنی اختیار کرسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ جب سعودی عرب اس طرح کے مطالبات جاری رکھے گا تو پاکستان کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو نئی صورت حال کے مطابق نئے سرے سے ترتیب دے۔ عالمی حالات کی تبدیلی پاکستان کو نئی خارجہ پالیسی کے لیے ڈکٹیٹ کرتی ہے۔ چین کے ایران سے تعلقات جس درجے پر آپہنچے ہیں، پاکستان اپنے آپ کو اس سے الگ نہیں رکھ سکتا۔ چین کا ون روڈ ون بیلٹ کا منصوبہ پاکستان کو اور دیگر ریاستوں کو خود بخود آپس میں جوڑتا ہے۔ جہاں تک امریکہ کی پابندیوں کا تعلق ہے، وہ چین اور روس پر بھی لگی ہوئی ہیں۔ دنیا کی یہ بڑی طاقتیں ان پابندیوں سے نکلنے کے لیے باہم تعاون کے راستے پر گامزن ہیں۔ پاکستان کو بھی اس سلسلے میں سوچنا ہوگا۔

روس کے بھی اس خطے میں تمام ممالک سے تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ خود پاکستان کے ساتھ بھی یہ روابط فروغ پذیر ہیں۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد بہت بڑی تبدیلی نظر آرہی ہے۔ ایسے میں ریجنل طاقتوں کو نظرانداز کرکے پاکستان پیش رفت نہیں کرسکتا۔ یہ زمینی حقائق ہیں، جو پالیسی شفٹ کے لیے محرکات کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کی مشروط اور محدود امداد ایسی نہیں کہ پاکستان اس کی تمام شرائط کے سامنے سر جھکائے رکھے۔ سعودی عرب سے حاصل ہونے والے معاشی مفادات کا نعم البدل موجود ہے، لیکن آزادی کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ آئیے آزادی کا راستہ اختیار کریں۔ 14 اگست 2020ء کے موقع پر ایک آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 879982
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش