0
Friday 14 Aug 2020 10:53

اور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگی

اور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگی
تحریر: سویرا بتول

یومِ استقلال ہر سال 14 اگست کو نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس موقع پر قوم کا ہر پیر و جواں وطن سے اپنی محبت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا جزو ہے اور وہ قومیں جو اپنے قومی تہواروں کو عقیدت و جوش و جزبہ سے مناتی ہیں، درحقیقت وہی زندہ قومیں کہلائے جانے کا حق رکھتیں ہیں۔ پاکستان کا قیام اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے، جسے قائد نے ایک جگہ یوں بیان کیا: "مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید پر ہے، نہ کہ وطن یا نسل۔ ہندوستان کا جب پہلا فرد مسلمان ہوا تھا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا تھا، وہ ایک الگ قوم کا فرد بن گیا تھا۔ آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبہ محرک کیا تھا، اس کی وجہ نہ ہندوؤں کی تنگ نظری تھی، نہ انگریزوں کی چال، یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ تھا۔" (قائد اعظم محمد علی جناح (رہ) مسلم یونیورسٹی علی گڑھ 8 مارچ 1944ء۔)

اقبال ریاست اسلامی کی بات کرتے وقت ایک فلاحی مملکت کی تشکیل پر متوجہ نظر آتے ہیں۔ مثلاً 28 مئی 1937ء کے مکتوب بنام قائداعظم میں انہوں نے لکھا کہ:
"خوش نصیبی کی بات ہے کہ اس (حق معیشت) کا حل شریعت اسلام کے نفاذ میں مضمر ہے، جس کے ساتھ نئے تصورات عہد شامل ہوں اور ترقی کی نئی راہیں کھولی جائیں۔ شریعت اسلام کا گہرا اور بہت دقت نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اس قانون الہیٰ کے مضمرات کو اچھی طرح سمجھ کر اس پر صحیح عمل کیا جائے تو پھر ہر شخص کے لیے حق روزی محفوظ ہو جاتا ہے، مگر جب تک ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستیں یہاں وجود میں نہ آئیں، شریعت اسلامی کا نفاذ ناممکن ہے۔" اقبال کے نزدیک ریاست اسلامی وہ ہے، جہاں ایک متحد العقیدہ قوم ہو، جہاں شریعت اسلامی پوری طرح نافذ ہو اور جہاں دین اسلامی کی صوری اور معنوی برکات منعکس ہوں، مگر موجودہ صورتحال کچھ اچھی منظر کشی کرتی نظر نہیں آتی۔
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوق یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

شاہیں کا جہاں آج گرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملا، سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

مرمر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے، لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

جب کبھی قائد سے پوچھا جاتا کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا تو یوں فرماتے: "میں کون ہوتا ہوں پاکستان کے طرز حکومت کا فیصلہ کرنے والا، مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے 14 سو سال پہلے قرآن مجید نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمدللہ قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور تاقیامت موجود رہے گا" (مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن جالندهر کے اجلاس سے خطاب، 12جون
1947ء)

قرآن مجید مسلمانوں کا ہمہ گیر ضابطہ حیات ہے
"مذہبی، سماجی، شہری، کاروباری، فوجی، عدالتی، تعزیری اور قانونی ضابطہ حیات جو مذہبی تقریبات سے لے کر روزمرہ زندگی کے معاملات تک، روح کی نجات سے لے کر جسم کی صحت تک، تمام افراد سے لے کر ایک فرد کے حقوق تک، اخلاق سے لے کر جرم تک، اس دنیا میں جزا اور سزا سے لے کر اگلے جہان تک کی سزا و جزا تک کی حدبندی کرتا ہے۔" (پیام عید، 1945ء) آخر میں قائداعظم کے بارے میں تاریخ پاکستان کے معروف محقق ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی کے تاثرات جو انہوں نے اپنی کتاب "تحریک پاکستان اور تاریخ پاکستان" میں لکھے ہیں ملاحظہ فرمائیں: "قائداعظم کی ایک نہیں متعدد تقریریں ہیں، جن میں انہوں نے اسلام کے اجزائے ترکیبی یعنی قرآن و سنت، کلمه توحید، اسلامی ضابطہ اخلاق، مسلم تہذیب، مسلم روایات، اسلامی تصورات، امت واحدہ اور مسلم اتحاد کو پاکستان کی اساسی قدر قرار دیا ہے۔"

اب آیئے ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کیجے۔ وہ مسائل جو آج سے 73 برس پہلے تھے، وہ آج بھی ویسے ہیں۔ وہ وطن جسے ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا، آج اُسی وطن کو ایک سیکولر ریاست بنائے جانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ جسے ہمارے اسلاف نے خود مختار ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا، آج وہی ملک ہاتھ میں کشکول تھامے در در کی گدائی کر رہا ہے۔ جسے ہم نے اپنی ماؤں بہنوں کی عصمت دری کے بعد حاصل کیا تھا، آج وہیں فحاشی کا بازار گرم ہے۔ وہ فلاحی اور مسلم ریاست جس کا خواب اقبال نے دیکھا، آج اسی ملک میں اقبال کا شاہین کتابوں کی جگہ کلاشنکوفیں اٹھائے پھر رہا ہے۔ تخریب کاری اور فرقہ وارانہ فسادات کو آئے روز ہوا دی جاتی ہے۔ ذرا سی بات پر ہنگامی آرائی، توڑ پھوڑ اور قومی املاک کو نقصان پہنچانا روز کا معمول ہے، یہ سب حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،

مگر ایک امید کی کرن ہے، جو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہم نے اِس وطن کی آبیاری شہداء کے خون سے کی ہے۔ شہداء کا پاک لہو اِس دھرتی کی مٹی میں شامل ہے، جس کی وجہ سے آج ہم آزادی کے گیت گا رہے ہیں۔ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے، اس کا اندازہ مقبوضہ کشمیر میں برسوں سے جاری بھارتی جارحیت و ظلم و بربریت دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ملکی ترقی و خوشحالی، قومی بقاء و سالمیت اور تعمیر وطن میں بہترین و موثر کردار ادا کرنے کے لیے لازم ہے کہ اسلامی نظریہ حیات جو پاکستان کی اساس ہے، اسے عام کیا جائے۔ سب مل کر ملکی ترقی، قومی سالمیت اور تعمیر وطن میں اپنا کردار ادا کریں۔ لبرلزم کے نام پر جاری سازشوں کو بے نقاب کیا جائے۔ اسلام ہی ہماری پہچان ہے اور اسلامی تہذیب و ثقافت ہی ہمارا کل اثاثہ ہے، اس لیے اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے۔

بقول اقبال
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں
 
یہ تمام مسائل و مشکلات اپنی جگہ، لیکن اگر وطن کے مفاد یا قومی سالمیت پر رتی بھر بھی آنچ آئی تو قوم کا ہر فرد بلا کسی تفریق کے قومی فلاح و بہبود کے جذبے سے سرشار مردِ مجاہد کی طرح میدان میں نظر آئے گا۔
ثبوت دیں گے وفا کا یوں اشتباہ غلط
ملا کے خاک میں رکھ دیں گے ہر سپاہ غلط
برب کعبہ ...! ہم آنکھیں نکال چھوڑیں گے
اٹھی جو ملک کی جانب کوئی نگاہ غلط
خبر کا کوڈ : 880204
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش