0
Saturday 15 Aug 2020 09:30

دین اور سیاست میں یکجہتی

دین اور سیاست میں یکجہتی
تحریر: اختر شگری

اللہ رب العزت نے دین اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات بنایا، آسمانی کتابوں اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے ذریعے ہم تک دینی احکامات پہنچائے اور دین اسلام کے چراغ کی حفاظت و پاسداری کرتے ہوئے انبیاء کرام، فقہاء عظام اور علماء حق کے علاوہ بہت سارے پروانوں نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ جس دین کی آبیاری، پاسداری، حفاظت اور بقا کیلئے انبیاء کرام نے شب و روز ایک کی ہو، کیا اس دین کا سیاست سے جدا ہونا عقل تسلیم کرتی ہے۔۔۔۔؟ ہرگز نہیں بلکہ بقول رہبر کبیر "دین عین سیاست ہے اور سیاست عین دین۔" قرآن مجید و احادیث معصومین علیہ السلام کی روشنی میں ریاست کا نظریہ ایک ایسی چیز ہے، جو مذہب کے جوہر میں سے ہے۔ دین اسلام میں انبیاء کرام کی ذمہ داریوں میں سے کچھ اہم ذمہ داریاں عدل و انصاف قائم کرنا، اشرف مخلوقات کو قید کی زنجیروں سے نکال کر آزادی دینا، مظلوموں کو جابر اور ظالم کے چنگل سے بچانا، ظلم کے خلاف صدائے حق بلند کرکے نہی عن المنکر کو ادامہ دینا‌ اور امر بالمعروف کرکے اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنا ہیں۔

تو ظاہر ہے کہ یہ بڑے اہداف حکومت کی تشکیل کے بغیر ممکن نہیں ہیں اور اگر مذہب سیاست سے الگ ہو جاتا ہے تو وہ اپنا عملی بازو پوری طرح کھو دیتا ہے اور اگر سیاست مذہب سے الگ ہو جائے تو یہ آمرانہ مفادات کی راہ میں ایک تباہ کن عنصر بن جاتا ہے۔ بقول اقبال
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

یہاں چنگیزی سے مراد لاقانونیت ہے، ظلم و ستم اور خون خرابہ ہے۔ اگر ہم مسلمان ملک کے نظام چلانے میں دین سے دوری اختیار کر لیں تو پھر تباہی اور تنزلی شروع ہو جاتی ہے، ظلم و زیادتی، ناانصافی اور خون خرابہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اگر شرعی اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاست اس تدبیر و حکمت عملی اور تنظیم کا نام ہے، جو افراد اور معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے ہیں اور بہتر تدبیر و انتظام اور جامع حکمت عملی سے معاشرے کو ایسے اصولوں پر گامزن کرنا چاہتے ہیں، جو ریاست مدینہ کے اصولوں پر مبنی ہو۔

اسلامی سیاست کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جاسکے، جو ایک مضبوط سیاسی قوت ہو اور اس میں انسانوں کے مفادات شامل ہوں، حقوق و فرائض کی پاسداری ہو، مساوات قائم ہو، کسی پر ظلم نہ ہو اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ آج ہماری مذہبی تحریکیں، علماء کرام اپنے آپ کو سیاست سے الگ کرکے بیٹھ گئے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم غیر سیاسی ہیں، ہمارا سیاست سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ ارے دین سیاست سے کب جدا ہے؟ اگر آپ دین کو سیاست سے الگ تھلگ کرکے بیٹھ جائیں گے تو امربالمعروف و نہی عن المنکر فقط مسجد کے محرابوں اور ممبروں تک محدود ہو کر رہ جائنگے اور وہ حقوق کی پامالی، ناانصافی، ظلم و جبر حکومت کے ایوانوں میں جاری رہینگے اور بے لگام بدمعاش درندے آزاد اور وحشی ہو کر اپنی من مانیاں کرتے پھریں گے اور معاشرے کو گمراہی و ضلالت کی تاریکیوں میں لے ڈوبیں گے۔

اگر تم ظالم و جابر حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق بات نہیں کرو گے اور ان کی لگام اپنے ہاتھوں میں نہیں لو گے تو معاشرے کو برائیوں سے کیسے بچا پاؤ گے۔۔؟ جب تک ضلالت و گمراہی کے مراکز، معاشرتی تباہ کاریوں، بد اخلاقیوں اور ظلم و زیادتی پر اعلیٰ سطح سے پابندی نہ لگے اور سخت قوانین نہ بنیں، نیچے سے آپ لاکھ کوششیں کر لیں، ان کو اس طرح نہیں روک پائیں گے، جس طرح روکنا چاہیئے۔ اسی لیے فقہاء کرام نے مذہب کو سیاست سے الگ کرنے کے خیال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سیاست کا مذہب ہے۔ بقول شھید مطہری: "مذہب اور سیاست کے مابین جو یکجہتی پائی جاتی ہے، اسے لوگوں کو سمجھانا ہوگا" دین اور سیاست میں یکجہتی کو نہ سمجھنا اصل جہالت ہے، دین سے دوری سیاست شیطانی کا سبب بنتی ہے اور سیاست شیطانی میں ہلاکت، جہالت، ذلالت اور دنیا و آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں رکھا ہوا۔

قرآن مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے الفاظ کچھ یوں ہیں: "خدایا، مجھے ایک حکومت عطا فرما۔" دین اسلام نے کبھی بھی حکومت اور حکمرانی کی مذمت نہیں کی بلکہ حضرت علی علیہ السلام نے خلافت قبول کرکے عدل و انصاف اور مساوات قائم کی ہے اور رہتی دنیا کو یہ درس دیا ہے کہ دنیا و آخرت میں حکومت اور حکمرانی اللہ کی ذات کی ہے، لہذا ہمیں اسی کی خوشنودی اور رضا کیلئے حکومت کرنی چاہیئے، نہ کہ ذاتی مفادات اور عزت کے لئے، ذلت اور عزت اسی کے ہاتھ میں ہے نہ دنیاوی حکومت اور حکمرانی میں۔ دین اسلام میں ہم ایسے قواعد و ضوابط دیکھتے ہیں، جن کو معاشرتی نظام اور حکومت کی روشنی میں لاگو کیا جا سکتا ہے۔

جیسے ٹیکس، خمس، زکات فنڈ، عوامی دفاع کے احکام، جنگی قوانین، غنیمتوں کی تقسیم، قیدیوں کے ساتھ سلوک اور جزا و سزا کے احکام ایک طرف احکام و قواعد و ضوابط دین ہیں تو دوسری طرف معاشرتی امور کے انتظام میں معاشرتی انصاف کی راہ میں معاملات کی تلاش پر توجہ دینا سیاست ہے، لہذا ایک مسلمان اور دین دار سیاستدان کبھی بھی کسی ایسے مقصد کا پیچھا نہیں کرے گا، جس سے دین نے روکا ہو۔ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے اس ملک کے سیاست دانوں کا دین دار ہونا ضروری ہے۔ پس اگر سیاست دان دین دار ہوں تو اس ملک میں عدل و انصاف قائم ہوگا، جب عدل و انصاف قائم ہوگا تو خوشحال معاشرہ اور عوام خوشحال زندگی گزارتے نظر آیئنگے اور اس ملک کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں سے ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 880364
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش