0
Tuesday 20 Oct 2020 21:47

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کا کشمیر

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کا کشمیر
رپورٹ: جے اے رضوی

5 اگست 2019ء کے بعد مقبوضہ کشمیر کا سیاسی نقشہ بدل چکا ہے اور یونین ٹریٹری کی صورت میں عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں لیفٹیننٹ گورنر حکومت چلا رہے ہیں، تاہم اس سیاسی بحث سے قطع نظر وادی میں کورونا وباء کے باوجود گذشتہ کچھ عرصہ کے دوران سماجی سطح پر متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں، جن سے اس سماج کے بتدریج بڑھتے ہوئے کھوکھلے پن کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ جس طرح صنف نازک کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کی المناک کہانیاں آئے روز یہاں کے اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں، انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ بے راہ روی، بد اخلاقی، بے ایمانی، رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثریت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب یہی قوم اپنی شائستگی، اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

اگرچہ اس سب کے لئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں، تاہم عمومی طور پر نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن کیا واقعی ہماری نوجوان نسل اکیلی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے۔؟ مسئلہ کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ حقیقت سے بعید نظر آرہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوجوان نسل جس راستے پر گامزن ہے، اس کی منزل اخلاقی اعتبار سے تباہی کے سوا کچھ اور نہیں، لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ نوجوان نسل کی اس حالت کے لئے ہمارا پورا سماج ذمہ دار ہے۔ سماج کی بنیاد افراد پر ہے اور افراد کی پرورش سب سے پہلے گھروں میں ہوتی ہے اور گھر کسی بھی فرد کی پہلی دانش گاہ ہے۔ سماج کے بکھراؤ کے لئے ہمیں پہلے اپنا اور اپنے گھر کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ اگر گھر کا ماحول صحیح ہو تو بچے کی صحیح انداز میں پرداخت ہونا قدرتی امر ہے۔

اس زاویہ سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے گھروں کے اندر وہ ماحول نہیں رہا ہے، جہاں بچے کو واقعی مثالی انسان بننے کا درس دیا جاتا ہے، حالانکہ ماضی قریب میں یہی گھرانے اخلاقی قدروں سے انسانی وسائل کی تشکیل کرتے تھے اور نتیجہ کے طور پر ہر لحاظ سے مہذب اور جرائم سے پاک سماج قائم تھا جبکہ ان دنوں تعلیم اور تعلّم اور علم و آگہی کو اتنا فروغ نہیں ملا تھا، جتنا آج کل دیکھنے کو مل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اخلاقی عروج کا یہ عالم تھا کہ بھیانک قسم کے جرائم، جو آئے دن دیکھنے کو ملتے ہیں، ان سے کشمیری عوام قریب قریب نا آشنا تھے۔ اب علم و آگہی بھی ہے اور تعلیم بھی عام ہے لیکن سماج کا حال بے حال۔ نہ ماضی کی وہ آن رہی نہ شان بلکہ اب ہمارے کرتوت ایسے ہیں کہ شرم سے سر جھک جاتا ہے۔ گرد و پیش کی حالت کو دیکھیں تو زبان گنگ اور قلب و نگاہ مضطرب ہو جاتی ہے، مگر کیا یہی بے حسی اور خاموشی اس کا علاج ہے، ہرگز نہیں۔ موجودہ نازک ترین مرحلہ پر ہماری خاموشی کا مطلب ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو ورثے میں ایک ایسا سماج دیتے جا رہے ہیں، جس کو کسی بھی طرح منظم اور مہذب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ اس وقت بھی سماج کے تئیں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہو رہا ہے۔

یہاں رونما ہونے والے حالیہ انسانیت سوز واقعات نے جس طرح سماج کے باشعور حلقہ کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے، اس کا تقاضا یہ تھا کہ ہم غفلت کی نیند سے بیدار ہوکر اپنے دل و دماغ پر حائل مادی پردوں کو ہٹا کر سماج کو بکھرنے اور اپنے کل کو اس دلدل سے نکالنے کی سبیل پیدا کرنے کے لئے عملی طور پر میدان میں کود پڑتے، لیکن ہمارا ضمیر اس حد تک خفتہ ہوچکا ہے کہ قوم کی عفت مآب بیٹیوں کی چیخ و پکار ہمارے بہرے کانوں تک پہنچتی ہی نہیں۔ دینی جماعتیں، سول سوسائٹی اور دیگر رفاہی ادارے حسب دستور اس حساس معاملہ پر بیان بازی میں مصروف ہیں۔ یہ تمام ادارے ہر برائی کے لئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کے عادی بن چکے ہیں، تاہم اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے اپنے گریباں میں جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے، حالانکہ اس تشویشناک رجحان کے لئے سماج کا ہر فرد برابر کا ذمہ دار ہے۔

حالات کا تقاضا ہے کہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے اور یہاں کی کٹھ پتلی حکومت پر تکیہ کرنے کی بجائے ہم خود بیدار ہو جائیں اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لئے کم از کم اس مسئلہ پر مادی دنیا کی تگ و دو سے چند لمحے نکال کر غور و فکر کریں کہ سماج کی موجودہ شرمناک حالت کے لئے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں اور طوفان بدتمیزی کے بھنور میں پھنسی کشتی کو کیسے کنارے لگایا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں سیاسی اور نظریاتی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک متحرک اور مؤثر آگاہی اور انتباہی مہم چلانے کی ضرورت ہے، جس میں سماج کے ہر طبقے کی شمولیت لازمی ہے، کیونکہ مسئلہ پورے سماج کو درپیش ہے۔ اس کے علاوہ اصلاحی عمل گھروں سے شروع کرکے مدرسوں اور دیگر تعلیمی اداروں اور معلّمین کا پوسٹ مارٹم بھی ناگزیر بن چکا ہے۔ اگر گھر اور مدارس بہتر ہوں تو اعلٰی اخلاقی قدروں کے حامل سماج کی تشکیل یقینی ہے۔
خبر کا کوڈ : 889193
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش