0
Wednesday 30 Sep 2020 12:09

شہدائے 30 ستمبر، تمہیں ہمارا سلام

شہدائے 30 ستمبر، تمہیں ہمارا سلام
تحریر: عمران خان

تاریخ پاکستان میں 22 ذی الحجہ سے 19 صفر 1408 ھ یعنی 5 اگست سے 30 ستمبر 1988ء تک کے تقریباً دو مہینے اہل تشیع پر انتہائی قیامت خیز گزرے۔ قیامت خیز کیوں نہ گزرتے، 5 اگست کو ملت تشیع پاکستان کے اکلوتے سائبان قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی جو کہ اپنی شخصیت، کردار میں ایسی مشعل تھے کہ شیعیان پاکستان اس کی روشنی میں اپنے راہ و مقصد کا بلاتفریق تعین کرنے لگے تھے۔ ایسی مشعل کہ جو دوستوں و دشمنوں سبھی کیلئے یکساں باعث راحت تھی۔ ملت کے اس روشن راستے کو دشمنان ملک و ملت نے اپنی اندھی گولیوں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا۔ یہ مشعل راہ رہبر و رہنماء جدا کیا ہوا کہ مختصر وقت میں ملت تشیع پر حقوق و سلوک کے تمام دروازے بند ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ عزاداری سیدالشہداء کی قیمت عزاداروں کی زندگیوں کی صورت وصول کی جانے لگی۔ درمیان میں 17 اگست کو ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی طیارہ حادثہ میں ہلاکت کے بعد امید ہو چلی تھی کہ شائد حالات کچھ سنبھل جائیں، تاہم محرم الحرام 1988ء میں عزاداری پر قدغن لگانے کی جو کوششیں ہوئیں تو اس سے اندازہ ہوا کہ ضیائی پالیسیاں برسوں تک شیعیان اہلبیت علیہم السلام پہ دائرہ زندگی تنگ کرتی رہیں گی۔

اس کا ایک ثبوت ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ فسادات اور ڈیرہ انتظامیہ کی جانب سے فسادیوں کی حمایت کی صورت میں بھی ملتا ہے۔ 22 اگست کے مرکزی جلوس کے موقع پر ڈیرہ انتظامیہ نے یک لخت اہل تشیع کو خبردار کیا کہ شب عاشور کے جلوس کو ہم تحفظ دینے سے قاصر ہیں، کیونکہ بازار میں موجود دکانوں کے مالکان نے کہا ہے کہ اگر جلوس یہاں سے گزرا تو ہم کسی ایک عزادار کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ انتظامیہ کی اس وارننگ سے ہی ظاہر ہوگیا تھا کہ فسادی تنہا نہیں بلکہ انہیں انتظامی اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ جیسے تیسے کرکے شب عاشور کے جلوس نکلے، مگر تین جگہوں پر جلوسہائے عزا کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تعزیئے کے جلوس پہ پتھراو کیا گیا، علم کے جلوس کا راستہ روکا گیا۔ اسی طرح ایک جلوس کا روٹ تبدیل کرایا گیا۔ انتظامیہ اور ان کے پالتو فسادیوں کو یہ احساس ہوچکا تھا کہ عزاداری سیدالشہدا(ع) پر ڈی آئی خان کے لوگ کسی صورت کوئی کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ اس سے اگلے روز عاشور کے مرکزی جلوس کی راہ روکنے کیلئے قلیل وقت میں بڑے پیمانے پہ بندوبست کیا گیا۔ ایسا بندوبست جس میں ڈیرہ انتظامیہ خود ملوث تھی۔

اول کمشنری بازار جہاں سے عاشور کا مرکزی جلوس گزرنا تھا، اس پورے بازار میں گرم تارکول بچھا کر سارا کانچ (شیشے کی ٹوٹی بوتلیں) پھیلایا گیا اور یہی نہیں بلکہ یہ انتظام بھی کیا گیا کہ اگر شرکاء جلوس تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے یہاں تک پہنچ بھی جائیں تو پورے بازار کو آگ لگانے کیلئے فقط ایک ہی تیلی کافی ہو۔ اس کے علاوہ اس بازار کے داخلی سرے پر گرم تارکول سے بھری گاڑی لگا دی گئی۔ مہاجر قبرستان سے اس گاڑی تک راستے میں جگہ جگہ ٹائر بچھائے گئے اور انہیں آگ لگا دی گئی۔ اہل تشیع اس خطرے کو بھانپ چکے تھے کہ انتظامیہ نہ صرف جلوس عزا روکنا چاہتی ہے بلکہ جلوس نکالنے کی صورت میں آگ اور اس کے نقصان کا الزام کا جلوس کے شرکاء پر لگا کر عزاداری کو ڈیرہ میں چاردیواری تک محدود کرنے کے درپے ہیں۔ اہل تشیع نے 10 محرم روز عاشور کا جلوس نکالنے سے پہلے ہی انتظامیہ سے روٹ کی کلیئرنس مانگی، جو کہ انتظامیہ نے دینے سے انکار بھی کر دیا اور تحریری طور پر پیغام دیا کہ جہاں جہاں سے جلوس نے گزرنا ہے، وہ راستے فریق مخالف کے زیر کنٹرول ہیں۔

تمام امام بارگاہوں کے تعزیئے جہاں تھے، وہیں روک دیئے گئے۔ ڈیرہ میں محرم روک لیا گیا اور انتظامیہ کو واضح پیغام دیا گیا کہ جب تک اپنے مخصوص راستوں سے گزر کر تعزیئے کے یہ جلوس کربلاء (کوٹلی امام حسین) تک نہیں پہنچیں گے، ہم روزانہ کی بنیاد پر عزاداری اور اندرون شہر جلوسوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ پس پھر کیا تھا کہ پولیس اور ایف سی کے دستوں نے ان تمام علاقوں کو اپنے محاصرے میں لے لیا اور چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دیں کہ جہاں جہاں اہل تشیع کی اکثریت تھی، سنگینوں کے سائے میں دس محرم کو شروع ہونے والا یہ سلسلہ دس صفر تک جاری رہا اور اس دوران انتظامیہ نے تمام تر وہ حربے آزمائے، جو آج بھی کشمیر، فلسطین کے مغوی عوام کے خلاف آزمائے جا رہے ہیں۔ 20 ستمبر 1988ء بمطابق 10 صفر کو مرکزی سطح پر کال دی گئی کہ عاشور کا مرکزی جلوس جو کہ اداروں کے عزا دشمن رویئے کے باعث برآمد نہیں ہوسکا تھا، وہی جلوس 30 ستمبر 1988ء یعنی 19 صفر کو برآمد ہوگا۔

مقصد یہی تھا کہ روز عاشور تعزے کا یہ مرکزی جلوس امن سے اختتام پذیر ہونے کی صورت میں اگلے روز 20 صفر یعنی چہلم امام حسین (ع) کے روایتی جلوس برآمد ہوں گے۔ مرکزی سطح پہ اس اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر سے شیعیان علی کے قافلے جوق در جوق ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب روانہ ہوئے۔ انتظامیہ نے ڈیرہ شہر کی مکمل ناکہ بندی کرکے ان قافلوں کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ایک طرف حسینی چوک کوٹلہ جام اور چشمہ کے مقام پر ہزاروں حسینیوں کا سلسلہ ماتم و عزا جاری تھا تو دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل میں مائیں اپنے بچوں کو عصر کربلا کی جانب اپنے ہاتھوں سے تیار کرکے روانہ کر رہی تھیں۔ جذبہ شہادت سے سرشار حسینیوں کا عزم اپنے لہو سے عزاداری کی شمع کو جلا بخشنا تھا۔ ارادہ یہی تھا کہ جلوس عزا اپنے روایتی راستوں سے گزر کر کوٹلی امام حسین ڈیرہ میں اختتام پذیر ہوگا۔ تمغہ شہادت کے آرزومند سینوں میں فقط ایک ہی مقصد تھا کہ راہ عزا میں علم سربلند رہے، چاہے تنوں پر سر رہے یا نہ رہے۔

اس وقت حاضر علماء جن میں علامہ افتخار نقوی پیش پیش تھے، نے جلوس کے تمام شرکاء کو نہتا کر دیا اور باقاعدہ اعلان سے حکومت وقت کو مطلع کیا گیا عزادار نہتے ہیں، یہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، لہذا انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ صبح 9 بجے یہ جلوس عزا علم تھامے یاحسین، یا امام مظلوم کی صدائیں بلند کرتے، نوحہ خوانی و گریہ کرتے بستی استرانہ سے یونیورسٹی روڈ پر برآمد ہوا۔ جلوس عزا کا پہلا دستہ 14 حسینیوں پر مشتمل تھا اور اس کے بعد 72، 72، کے تین دستے تھے۔ دنیا کا کوئی قانون عبادت میں مصروف نہتے، بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ البتہ یزیدیت کے پیروکاروں کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنی جد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر اس ظلم کو روا رکھیں، جس کی مثال میدان کربلا سے ملتی ہے۔ پہلا دستہ جونہی روڈ کے سامنے گلی میں برآمد ہوا۔ آگے وہ موت کی لکیر کھینچی جاچکی تھی کہ جسے عبور کرنے کی سزا کا اعلان سینے میں گولی کی صورت کیا گیا تھا۔

جلوس کے پہلے دستے نے جونہی یہ لکیر عبور کی، ڈیرہ انتظامیہ نے یزیدیت پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے بنا کوئی وارننگ دیئے، بنا کوئی ہوائی فائرنگ کئے اور بنا کوئی آنسو گیس کی شیلنگ کئے براہ راست جلوس عزا پر گولیوں کی بارش کر دی۔ مورچہ بند اہلکاروں کی شدید فائرنگ سے کئی نوجوان چھلنی گئے۔ اس سانحہ کے ایک زخمی جو کہ اول دستے میں شامل تھا، کا بیان ہے کہ جونہی فائرنگ شروع ہوئی میرے سامنے شہید جاوید حسین پیٹ اور سینے پر ہاتھ رکھے زمین پر آیا۔ میں نے اس شہید کا سر ایک ایسی نورانی ہستی کی گود میں دیکھا جس کی سفید ریش اور سفید لباس تھا، اس ہستی کی آنکھیں نم تھیں اور وہ شہید جاوید حسین سے کلمہ پڑھنے کو کہہ رہا تھا۔ اسی اثناء میں میرے بائیں ہاتھ پر موجود ایک جوان نے علم تھاما اور آگے قدم بڑھایا ہی تھا کہ یک لخت اس کی پیٹھ سے لہو کے فوارے ابل پڑے۔ یہ آٹومیٹک اسلحہ سے چلائی جانیوالی گولیاں تھیں، جو اس کے آر پار ہوگئیں۔

اس زخمی کے بقول ہم مزید آگے بڑھنے کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ مجھے اپنے چہرے پر گرم گرم لہو بہتا اور سر میں شدید جلن کا احساس ہوا، میں نے اپنے سر کو چھونے کا ارادہ کیا، مگر لگنے والی گولی کا اثر زیادہ تیز تھا اور میں وہیں بے ہوش ہوگیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو اس سانحے کے تمام زخمی عزاداران کے ساتھ میں بھی پولیس لائن کے برآمدے میں موجود تھا۔ میرے منہ سے ایک ہی لفظ ادا ہوا پانی، اس وقت قریب ایک بزرگ مولانا نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا بیٹا کربلا ہے، دس محرم کا جلوس عزا برآمد کیا ہے نا، حوصلہ نہ ہارنا، حسینی بن کے رہنا۔ میں نے اس بزرگ کی طرف نگاہ کی تو اس کی کھلی آستینیں لہو لہو تھیں۔ شائد کہ وہ خود بھی زخمی تھا۔ پولیس لائن کے برآمدے میں پیاسے ان زخمیوں کے جسم صرف گولیوں سے زخمی نہیں تھے بلکہ پاوں کی ایڑیوں، گھٹنوں اور پیروں سے کھال ادھڑی ہوئی تھی۔ ناخن ٹوٹے ہوئے تھے۔ بعد میں پتہ چلا انتظامیہ کے ان سپوتوں نے شہداء اور زخمیوں کو سٹرک پر گھسیٹ گھسیٹ کر گاڑیوں میں پھینکا ہے۔ انتظامیہ کے اس سفاکانہ عمل کے نتیجے میں 10 عزادار شہید جبکہ 50 کے قریب زخمی ہوگئے۔ جو لوگ زخمیوں کو اٹھانے یا پانی پلانے جاتے ان پر بھی گولیاں برسائی جاتیں۔

بعد ازاں ان زخمیوں کو انتہائی بیدردی سے گرفتار کرکے پولیس لائن منتقل کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ کے اس وقت کے انچارج ڈاکٹر علی نے بڑی کوشش کرکے انتظامیہ کو راضی کیا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ واہ رے قسمت کہ یاحسین کہنے کی پاداش میں گولیوں سے چھلنی حسینیوں کو سنت امام سجاد علیہ السلام پر ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑ کر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس سانحہ کے ایک اور عینی شاہد کے مطابق شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی بھی اس وقت ڈیرہ سٹی کی جامع مسجد میں موجود تھے۔ ایک طرف شہداء کے جسد خاکی اور زخمی عزادار ہسپتال میں تھے اور دوسری طرف اہل تشیع کے گھروں پر فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ یہاں تک کہ جب شہید شرف حسین کوثر کا جنازہ ابھی گھر میں موجود تھا اور مومنین و مومنات اس شہید کے آخری دیدار کے لئے اس کے گھر آرہے تھے، اس وقت بھی فائرنگ کا یہ سلسلہ نہ تھما۔ اسی فائرنگ میں ایک مومنہ کو پاوں میں گولی لگی اور ضمیر حسین کے بازو میں جن کے آپریشن شہید ڈاکٹر نے جامع مسجد میں ہی کئے۔

جب جنازہ برآمد ہوا فائرنگ کا سلسلہ اس وقت بھی جاری رہا۔ اس سانحہ کو ایک چوتھائی صدی کا عرصہ گزر چکا ہے۔ کیا انتظامیہ کے رویئے یا حسین دشمنی میں کوئی کمی آئی ہے، اس سوال کا جواب عصر حاضر میں پیش آنے والے کئی واقعات سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ ڈیرہ جیل حملے کے دوران یزیدی گروہ کے سامنے ڈیرہ جیل کے دروازے کو اندر سے کھول کر انتظامیہ نے اس یزیدی ٹولے سے تعاون کیا۔ اہل تشیع قیدیوں کو شناخت کرکے چن چن کر شہید کیا گیا، مگر انتظامیہ تماشائی بنی رہی اور ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ حالانکہ یہ مومنین سرکاری تحویل میں تھے، جن کی حفاظت کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد تھی۔ یہاں تک کہ قیدیوں کو شہید کرنے کے بعد دہشت گردوں کا یہ جلوس نہایت اطمینان کے ساتھ فرار ہوگیا، مگر کسی ادارے نے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اہل تشیع پر ہونے والے خودکش اور پلانٹڈ دھماکوں کے بعد بھی انتظامیہ کی گولیوں کا نشانہ حسینی عزادار بنے۔

اب انتظامیہ کی شیعہ دشمنی کا ایک اور ثبوت کوٹلی امام حسین (ع) پہ محکمہ اوقاف اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ناجائز قبضے کی صورت میں موجود ہے، جس کے خلاف عرصہ تین سال سے آواز بلند کی جا رہی ہے اور عرصہ چھ ماہ سے احتجاجی کیمپ جاری ہے، تاہم انتظامیہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ امر افسوس یہ ہے کہ وہ لوگ جو 30 ستمبر کے شہداء پہ سب سے زیادہ غم و غصے کا اظہار کرتے دکھائی دیتے تھے، آج انتظامیہ کی گود میں بیٹھ کر اس ناجائز قبضے کو جائز قرار دینے پر کمربستہ ہیں۔ 30 ستمبر کو جس جلوس عزا پہ انتظامیہ نے فائرنگ کرکے 10 عزداروں کو شہید اور بیسیوں کو زخمی کیا تھا، اس جلوس کا اختتام اسی کوٹلی امام حسین (ع) میں ہی ہونا تھا، جسے ڈیرہ کے اہل تشیع کربلاء سمجھتے ہیں۔ کل اسی کربلاء کے روٹ پر انتظامیہ کا قبضہ تھا، اسے چھڑانے کیلئے شہادتیں ہوئی تھیں، آج ڈیرہ کی کربلاء یعنی کوٹلی امام (ع) پہ انتظامیہ نے قبضہ کر لیا ہے۔ خبر نہیں اسے چھڑانے کیلئے کیا کچھ قربان کرنا ہوگا۔ تیس سال گزرنے کے باوجود 30 ستمبر کا سانحہ آج بھی تازہ ہے۔ سلام ہے ان شہیدوں پر کہ جو فقط نام حسین (ع) بلند کرنے کا صلہ گولیوں کی صورت حاصل کرنے کیلئے ہشاش بشاش چہروں کے ساتھ نہتے مقتل گاہ میں مطمئن چلے آئے۔

آج 30 ستمبر 2020ء ہے، صفر کا مہینہ ہے۔ عاشورہ کو گزرے زیادہ وقت نہیں گزرا، اس راستے پہ کہ جہاں 32 برس قبل نام حسین (ع) لینے کی پاداش میں شہداء اور غازیوں کے خون آلود وجود بکھرے پڑے تھے، اسی راستے سے جلوسہائے عزا اپنے تمام تر مراسم عزاداری کے ساتھ گزرے۔ عزاداران امام حسین (ع) نے حسب توفیق ماتم برپا کیا۔ آئندہ بھی یہ جلوسہائے عزا یونہی پوری شان و شوکت کے ساتھ رواں دواں رہیں گے۔ جنہوں نے عزاداری کو چاردیواری میں پابند کرنے کی کوشش کی، جلوسہائے عزا کو روکنے کی کوشش کی، وہ آج خود اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ مٹی ہوچکے ہیں، جبکہ عزاداری کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور جن لوگوں نے راہ حسین (ع) میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، تین عشرے گزرنے کے بعد بھی ان کا تذکرہ جاری ہے۔ ان کی بہادری اور شجاعت کے قصے آج بھی زبان زدعام ہیں، ان کی قربانیوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ہے تاثیر خون شہیداں۔ میرا سلام ہو ہر اس شہید پر کہ جو راہ عزا میں نام حسین (ع) لینے کی پاداش میں قتل کیا گیا۔ شہدائے 30 ستمبر، تمہیں ہمارا سلام۔
خبر کا کوڈ : 889341
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش