0
Sunday 4 Oct 2020 19:34

پاکستان کے اکابر علمائے کرام اور مشائخ عظام کے نام

پاکستان کے اکابر علمائے کرام اور مشائخ عظام کے نام
تحریر: شفیق عطاری

 شدت پسندی کی نئی لہر کا آغاز اگست میں ہوا، سعودی سفیر نے حافظ طاہر اشرفی اور مفتی منیب الرحمن سمیت مختلف مسالک کے علماء، بیوروکریٹس، کالعدم تنظیموں کے سربراہوں، سیاستدانوں، بالخصوص چوہدری برادران سے  پے در پے ملاقاتیں کیں۔ جس کے چند ہفتوں کے بعد ہی مفتی منیب الرحمن جیسے شخص کی قیادت میں یزید زندہ باد کی ریلیاں نکلنے لگیں اور بعض مدارس کی محافل میں حضرت علی کرم اللہ وجہ اور ان کے ساتھیوں کو نعوذ باللہ باغی کہا گیا۔ اس کے بعد  گلی کوچوں میں لوگوں کو پکڑ کر زبردستی اُن کے عقائد تبدیل کرانے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ ستمبر کے آخر میں ملکی سلامتی کے ادارے کے سربراہ نے تمام مسالک کے نمائندہ علمائے کرام کا اجلاس بلایا اور یہ لرزا دینے والا انکشاف کیا کہ فرقہ واریت پھیلانے اور وطن عزیز کو کمزور کرنے کیلئے 100 ملین ڈالر پاکستان میں بھیجے گئے ہیں۔ ردعمل میں مفتی منیب الرحمن اور مفتی تقی عثمانی اجلاس سے اُٹھ کر چلے گئے۔

قیام پاکستان کے بعد چوہتر سالوں میں یہ سب کچھ پہلی مرتبہ ہوا۔ اس صورتحال نے تمام پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس موقع پر ملک میں شدت پسندی اور انارکی کو روکنے کیلئے کچھ  وطن کا درد رکھنے والے محقیقین نے پاکستان کی دینی و سیاسی قیادت کے لئے چند تجاویز مرتب کی ہیں، جو کہ پیش خدمت ہیں۔
1۔ مسلمانوں کے درمیان نبی پاک ؐ کا میلاد، سیدنا غوث الاعظم ؒکی گیارھویں شریف، اولیائے کرام کے عرس، نعت، قوالی، ختم اور درود شریف کی محافل، ختم بخاری شریف، نذر و نیاز، سبیلیں لگانا، اولیائے کرام سے توسل، اذان سے پہلے درود شریف، شعائراللہ کی تعظیم اور امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑکی یاد میں محافل و مجالس اور جلوس یہ سب اسلامی عقائد، دینی ثقافت، تہذیب و تمدن اور دینی اقدار  ہیں۔ ان شعائر و اقدار کی توہین بھی توہین مذہب ہے اور ایسی توہین کرنے والوں کے خلاف دفعہ 295؛ 298 اے کے تحت کارروائی ہونی چاہیئے۔

2۔ ہر مذہب اور فرقے کے عقائد کا تعین کئی صدیوں پہلے علماء نے کیا ہوا ہے۔ مسلمانوں میں جو عقائد چودہ سو سال سے موجود ہیں، وہی ان کے مسلمہ عقائد ہیں، مسلمانوں کے دو ہی حقیقی فرقے سُنّی اور شیعہ ہیں، چودہ صدیوں سے دونوں کے عقائد ایک دوسرے پر واضح ہیں، بعد ازاں جو فرقے وجود میں آئے ہیں، خصوصاً موجودہ ایک دو صدیوں میں، انہیں قطعاً یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے شیعہ اور سُنّی مسلمانوں کو لڑانے کیلئے  مسلمانوں کے مسلمہ  عقائد پر حملے کریں۔ مثلاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وجودِ مقدس کو نور، زندہ اور ان کے شجرہ نسب کو کفر و شرک اور ہر طرح کی نجاست سے پاک سمجھنا یہ شیعہ و سنی مسلمانوں کے قدیمی و اصیل عقائد میں سے ہے۔ خصوصاً آپ کے والدین کریمین اور آپ کے چچا حضرت ابو طالب کا مسلمانوں کے درمیان بہت بلند مقام ہے۔ اب جن فرقوں کو وجود میں آئے سو سال بھی نہیں ہوئے، انہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اہل تشیع اور اہل سنت کے عقائد کے بارے میں دھوکہ دہی سے کوئی قانون سازی کریں اور ان کے عقائد کو جبراً تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ لہذا جن تقریروں اور کتابوں میں نبی اکرم اور ان کے والدین کریمین رضی اللہ عنھما اور چچا حضرت ابو طالبؓ کی عظمت کو گھٹانے کی کوشش کی گئی ہے، ان پر فوراً پابندی لگنی چاہیئے۔

3۔ خلفائے راشدین ؓ کی وہی تعریف ہے، جس پر اصلی اور جمہور اہلسنت متفق ہیں۔ اہلسنت اور اہل تشیع دونوں طلقا اور بنو امیہ کو خلفائے راشدین  ؓسے جدا سمجھتے ہیں، لہذا طلقا اور بنو امیہ کو مسلمانوں کے مقدسات میں شامل کرانے کی کوشش کرنے والے نہ شیعہ ہیں اور نہ سُنی بلکہ ناصبی ہیں۔ اُن کے خلاف دونوں طرف سے آواز بلند ہونی چاہیئے اور حکومت کو ناصبیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہیئے۔
4۔ خلفائے راشدین ؓ اور اُمہات المومنین ؓ کی توہین کو اہل تشیع اور اہل سنت دونوں حرام قرار دیتے ہیں، لہذا جو افراد بھی اس ضمن میں توہین اور اہانت کرتے ہیں، اُن کے خلاف موجودہ قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے۔

5۔ وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کی آل پاک کے ساتھ جنگیں کیں، جنہوں نے حضرت اویس قرنیؓ، حضرت عمار یاسر ؓ، اور حضرت حجر ابن عدی  ؓجیسے بے شمار اکابر صحابہ کرام  ؓکو شہید کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر سبّ و شتم کیا اور وہ گروہ جسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باغی اور جہنم کی طرف بلانے والے قرار دیا، ان سب کو مسلمانوں کے دونوں قدیمی فرقے غلط سمجھتے ہیں، لہذا وہ ناصبی فرقہ جو انہیں مقدسات اسلام میں شامل کرانے کی مذموم کوشش کر رہا ہے، اکابر علماء کی طرف اس ناصبی فرقے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیئے اور حکومت کو ان کی روک تھام کیلئے فوری عملی اقدامات کرنے چاہیئے۔

6۔ اہل تشیع اور اہل سنت کے نزدیک ہر وہ مکتب مسلمان ہے، جو خدا وحدہ لاشریک،  قرآن مجید، خانہ کعبہ (قبلہ)، معاد (قیامت) اور ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے۔ ایسے کسی بھی مکتب کی تکفیر کرنا یا اسے گمراہ قرار دینا شرعاً حرام اور قانوناً جرم ہے اور اس کا اطلاق جلوت، خلوت اور سوشل میڈیا کی پوسٹوں پر ہونا چاہیئے اور توہین مذہب کے تحت دفعہ 295؛ 298 اے اور۱۱ڈبلیو کے تحت مقدمہ درج  ہونا چاہیئے۔
7۔ مکمل مذہبی آزادی ہر پاکستانی کا بنیادی اور آئینی حق ہے، اس حق کا اکثریت یا اقلیت سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً بھارتی حکومت اسمبلی میں اکثریت کے بل بوتے پر  قانون سازی کرکے بھارت میں مقیم مسلمانوں کو لا الہ الا اللہ کہنے اور اذان دینے سے نہیں روک سکتی۔ اسی طرح یورپ یا امریکہ کے مسلمانوں سے کسی بھی طرح کی قانون سازی کرکے قرآن پاک پڑھنے کا حق نہیں چھینا جا سکتا، اگرچہ اس میں کفار کو نجس قرار دیا گیا ہے اور ان سے جہاد اور قتال کا بھی حکم موجود ہے، چونکہ ہر فرد کی مذہبی آزادی انسانی حقوق کا حصہ ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں یہ حق تسلیم شدہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 890129
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش