0
Sunday 11 Oct 2020 11:39

گرفتارِ بوبکرؓ و علیؑ ہوشیار باش

گرفتارِ بوبکرؓ و علیؑ ہوشیار باش
تحریر: ابو فجر لاہوری

پاکستان میں یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ بیرونی قوتیں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کا منصوبہ نہیں، بلکہ منصوبے بنا چکی ہیں۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ملک میں بدامنی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ راقم نے پہلے بھی لکھا کہ ملک میں پہلے مذہبی بنیادوں پر فرقہ واریت کو ہوا دیئے جانے کا پلان ہے، اس پلان کی ناکامی کی صورت میں اس کے چار مزید مرحلے ہیں، جن پر عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ مذہبی شدت پسندی کیساتھ ساتھ ملک میں سیاسی بحران بھی پیدا کرنے کا منصوبہ بیرونی قوتوں کا ہی تیار کردہ ہے۔ اس سیاسی بحران کے منصوبے میں بیرونی قوتوں نے بیرون ملک ہی نواز شریف کیساتھ  معاملات طے کر لئے ہیں، جبکہ اس گیم میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

جہاں تک مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے کی بات ہے تو اس میں پہلے فیز میں دشمنوں کو ناکامی ہوئی ہے۔ محرم الحرام سے قبل دشمنوں نے طے کیا تھا کہ مقدسات کی توہین کروا کر خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کی جائے گی۔ اس میں دشمن کو عبرتناک شکست ہوئی اور علمائے کرام کی بروقت کوششوں سے فرقہ وارانہ فسادات نہ ہوسکے۔ اس کے بعد عشرہ محرم میں ہونیوالے اِکا دُکا واقعات کے ردعمل میں ریلیوں کا ایک سلسلہ شروع کروایا گیا، ریلیوں میں متنازع نعرے لگوائے گئے، جن کا مقصد مخالف فرقے کو مشتعل کرنا تھا، لیکن اس بار بھی ریلیوں میں یزید زندہ باد اور مخالف فرقے کیخلاف کافر کافر کے نعرے لگوائے گئے، مگر مخالف فرقے نے صبر کا دامن تھامے رکھا، علماء نے پہلے ہی قوم کو اس سازش سے آگاہ کر دیا تھا۔

اس حوالے سے پاکستان کے اہلِ تشیع خراج تحسین کے مستحق ہیں، کراچی میں جن کے امام بارگاہ کے سامنے کھڑے ہو کر کافر کافر کے نعرے لگائے گئے، مقدس ناموں پر پتھراو کیا گیا، اہلبیت اطہارؑ کے ناموں کی توہین کی گئی، قرآن مجید کی دیوار پر لکھی گئی آیات کی بھی توہین کی گئی، مگر اہل تشیع نے صبر کا مظاہرہ کرکے دشمن کی فسادات کروانے کی سازش ناکام بنائی۔ اس کے بعد ملک بھر میں ہونیوالی اربعین واکس پر بھی مقدمات درج کئے گئے ہیں اور ملک بھر میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، ان گرفتاریوں سے بھی عوام میں اشتعال پایا جا رہا ہے۔ ان گرفتاریوں کی آڑ میں دشمن اشتعال پھیلا رہا ہے، لہذا کسی بھی واقعہ کی اطلاع سے پہلے تصدیق لازم ہے۔

دوسری جانب کراچی میں ممتاز عالمِ دین مولانا عادل خان کو قتل کر دیا گیا ہے۔ مولانا عادل خان کو گذشتہ رات کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں اس وقت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، جب وہ اپنی ڈبل کیبن گاڑی میں ڈرائیور کے ہمراہ دکان کے باہر رکے تھے۔ مولانا عادل خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی اور رکن مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان بھی تھے۔ اُن کے قتل کا مقصد بھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں نے انہیں قتل کرکے دیوبندی مکتب فکر میں اشتعال کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، لیکن اس حوالے سے دیوبندی جید علماء کا کہنا ہے کہ ہم اس سازش کا ادراک رکھتے ہیں، ملک کی فضا کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔ اسی طرز کا ردعمل بریلوی علماء کا بھی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے جید علماء اس بات پر متحد ہیں کہ دہشتگردی اور فرقہ واریت بیرونی سازش ہے اور اس کا مقابلہ باہمی اتحاد و وحدت سے ہی ممکن ہے۔ اس لئے قوم کسی بھی بیرونی سازش کا شکار ہونے سے قبل اس بات کو ذہن میں رکھے کہ دشمن کا نشانہ پاکستان ہے۔ جذباتی انداز میں کسی بھی واقعہ کا ردعمل دینے سے قبل یہ ضرور سوچیں کہ اس سے پاکستان کا نقصان ہوگا یا دشمن کا؟ دشمن کی تو خواہش ہے کہ عوام مشتعل ہوں۔ فرقہ واریت کو فروغ ملے اور ریاست ایک بار پھر اتنہاء پسندی کی آگ میں جلنے لگے۔ یہ ایک حوصلہ افزاء صورتحال ہے کہ مذہبی کارکن ہوں یا سیاسی ورکر، دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

اس موقع پر بیرونی قوتوں کے ایماء پر جلسے کرنیوالی سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی جانتے ہیں کہ ڈوریاں کہاں سے ہل رہی ہیں اور مذہبی طبقہ بھی اس سازش کا پورا پورا ادراک رکھتا ہے۔ اس لئے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ اس بار دشمن کو اپنی سازش کامیاب کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ قوم اگر اسی طرح متحد رہی تو دشمنوں کو منہ کی کھانا پڑیں گی، یہ وقت ہے کہ پوری قوم، شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی کے حصار سے نکل کر صرف اور صرف پاکستانی بن کر سوچے اور جب ہم بطور پاکستانی سوچیں گے تو ملک کا دفاع بھی ہوگا اور دشمن کو ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ یقیناً ہم اپنے اتحاد سے انڈیا، اسرائیل، امریکہ، سعودی عرب، یو اے ای کی ساری "سرمایہ کاری" کو زائل کرسکتے ہیں۔ اس حوالے جذبات کی بجائے ہوش سے کام لینا ہوگا۔ اس حوالے سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ انہیں بھی اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے ہوں گے۔ اہم شخصیات کی سکیورٹی میں اضافہ کرنا ہوگا۔

مولانا عادل خان کے قتل کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ دشمن اب شخصیات کو نشانہ بنا کر اشتعال کو فروغ دینے کے پلان پر عمل پیرا ہے، اس لئے اہم شخصیات خود بھی احتیاط سے کام لیں اور سکیورٹی ادارے بھی ان شخصیات کی سکیورٹی کیلئے خصوصی اقدامات کریں۔ یہاں کارکنوں اور عام عوام کی ذمہ داریاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں کہ وہ کسی افواہ پر بھی کان نہ دھریں، چھوٹے سے واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی، اس لئے کسی بھی واقعہ کی اطلاع سے ملنے پر کوئی بھی ردعمل دینے سے پہلے معتبر ذرائع سے تصدیق کر لیں، سوشل میڈیا بھی دشمن کا ایک موثر ہتھیار ہے، جسے افواہوں کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لہذا پوری پاکستانی قوم سے کہیں گے کہ اے گرفتارِ بوبکر و علی ہوشیار۔۔۔۔!
خبر کا کوڈ : 891435
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش