0
Saturday 17 Oct 2020 00:06

نواز شریف کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام پر الزامات، حقیقت کیا ہے؟

نواز شریف کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام پر الزامات، حقیقت کیا ہے؟
رپورٹ: ایس حیدر

آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی سابق وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ طلب نہیں کیا، یاد رہے کہ حال ہی میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے پہلی مرتبہ سب کے سامنے دعویٰ کیا کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے 2014ء کے حکومت مخالف دھرنے کے دوران انہیں پیغام بھیجا تھا کہ آدھی رات تک استعفیٰ دے دیں، کہا گیا تھا کہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو نتائج بھگتنا ہوں گے اور مارشل لاء بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی نے لکھا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے دو ٹوک الفاظ میں انکار کیا کہ انہوں نے کسی بھی شخص کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کو کوئی پیغام بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کو بھی وزیراعظم کو کوئی پیغام دینے کیلئے نہیں بھیجا، یہ بالکل غلط ہے، اس کی بجائے، انہوں نے اصرار کیا کہ 2014ء کے دھرنے کے وقت ہر موقع پر وہ حکومت کو مشورہ دیتے رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے سیاسی انداز سے نمٹا جائے، تاکہ احتجاج ختم کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی کابینہ کے ارکان اور سینیئر رہنماء نواز شریف کو پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے دھرنے کے ذریعے اقتدار سے نکال باہر کرنے کے مبینہ "منصوبے" کا ذکر کرتے رہے ہیں لیکن حکومت نے اب تک اس معاملے کی تحقیقات نہیں کرائی۔ یاد رہے کہ استعفیٰ مانگنے کے اس دعوے کے ساتھ نواز شریف نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جو ان کے پاس ڈی جی آئی ایس آئی کا پیغام لے کر آیا تھا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 2014ء میں پاکستان تحریک انصاف اور طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک نے 126 دن تک اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا، جو 2013ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف تھا، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نواز شریف نے کھل کر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کے ظہیر الاسلام کے مبینہ منصوبے کے حوالے سے کوئی بات کہی تھی۔

2015ء کے آخری دنوں میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام کا نام لے کر ان کے پی اے ٹی اور پی ٹی آئی کے 2014ء کے دھرنے کے دوران نواز شریف حکومت کو مبینہ طور پر غیر مستحکم کرنے میں کردار کا ذکر کیا تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت کیخلاف "لندن پلان" کی سازش کے پیچھے جنرل ظہیر کا ہاتھ ہے، اُس وقت حکمرانوں کے بند کمروں کے اجلاسوں میں جو کچھ زیر بحث تھا، وہ وزیر دفاع نے سب کو بتا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف حکومت کیخلاف لندن پلان جنرل شجاع پاشا ور جنرل ظہیر الاسلام کا مشترکہ پلان تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اپنا ذاتی تنازع نمٹانے کیلئے جنرل ظہیر نے قومی مفاد کو نقصان پہنچایا۔ خواجہ آصف کی رائے تھی کہ وزیراعظم اس صورتحال سے اچھی سے نمٹے اور وہ پرسکون رہے۔

اسحاق ڈار نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس رات نواز شریف اپنا سرکاری کام کر کے آرام کرنے جا چکے تھے، اچانک مجھے بتایا گیا کہ ایک پیغام رساں وزیراعظم سے ملنا چاہتا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق میں نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم اس وقت دستیاب نہیں ہیں، تب تک دھرنے کے شرکاء اسلام آباد کی اہم عمارتوں کا گھیراؤ کرچکے تھے اور صورتحال کشیدہ تھی۔ اسحاق ڈار کے مطابق پیغام لے کر آنے والے شخص نے وہی باتیں کیں جن کا ذکر میاں نواز شریف نے اپنی تقریر میں کیا۔ پیغام رساں نے میاں صاحب سے استعفیٰ مانگا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں مارشل لاء کی دھمکی دی۔ تاہم اسحاق ڈار کے مطابق جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کو بتا دیں کہ وہ جو بھی کرنا چاہتے ہیں کریں لیکن میں استعفی نہیں دوں گا۔

اس سے پہلے سابق آرمی چیف آصف نواز کے لکھاری بھائی شجاع نواز نے بھی اپنی ایک کتاب میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے 2014ء میں عمران خان کے ذریعے نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا کروایا جس کا مقصد ان کی حکومت کا خاتمہ کرنا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اگر راحیل شریف اسوقت ظہیر الاسلام کے منصوبے کو ویٹو نہ کرتے تو نواز حکومت ختم کردی جانی تھی، لہذا ان حقائق کی روشنی میں نواز شریف کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان سے 2014ء کے دھرنے کے دوران استعفی مانگا گیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 892448
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش