0
Monday 19 Oct 2020 13:48

چین امریکہ عالمی اکھاڑے میں

چین امریکہ عالمی اکھاڑے میں
اداریہ
امریکہ چین کی مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں خاص طور سے کمیونیکشنن آئی ٹی اور  میسیجنگ کمپنیوں کی سرگرمیوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے امریکی منڈیوں میں داخلے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بعض حلقے اس اقدام کو  چین کے خلاف امریکہ کی کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ چین نے اس پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے، جس قانون کے تحت چین کی حکومت کو امریکہ کے خلاف بھرپور جوابی اقدامات کا حق بھی حاصل ہو جائے گا۔ ماہرین کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ اس قانون کی رو سے ہر قسم کی عسکری اور غیر عسکری نیز ایٹامک مصنوعات، ٹیکنالوجی، خام مال اور خدمات کی برآمدات کو سختی کے ساتھ کنٹرول کیا جاسکے گا۔

مذکورہ  قانون جس کا اطلاق یکم دسمبر سے تمام چینی کمپنیوں پر ہوگا، اتوار کے روز چین کی پیپلز کانگریس کی دائمی کمیٹی کے اجلاس میں منظور کیا گیا، یہ قانون بظاہر چین کی قومی سلامتی کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے حساس نوعیت کی اشیاء اور مواد کی برآمد کو محدود کرنے کی غرض سے منظور کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت امریکہ کے ساتھ تجارتی اور فنی کشیدگی میں اضافے کی صورت میں واشنگٹن کے خلاف بیجنگ کو بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دینے میں آسانی ہوگی۔ چین جس طرح آہستہ آہستہ ہر میدان میں امریکہ کے مقابلے میں آرہا ہے، اس سے اس نظریئے کو تقویت مل رہی ہے کہ چین امریکی یونی پولر سسٹم کو للکارنے کے لیے پوری تیاری کرچکا ہے، اب دیکھنا یہ کہ میدان کب سجتا ہے، البتہ چین کا انداز ہمیشہ غیر جارحانہ رہا ہے، وہ خاموشی سے اپنا وار کر جاتا ہے، وہ امریکہ کی طرح شور و غل اور ظاہری رعب و دبدبے پر یقین نہیں رکھتا۔
خبر کا کوڈ : 892826
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش