0
Saturday 24 Oct 2020 06:30

دونوں کے الزامات درست

دونوں کے الزامات درست
اداریہ
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں صرف دس دن رہ گئے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ری پبلکن امیدوار جو بائیڈن کے مابین آخری صدارتی مباحثہ ریاست ٹینیسی کے شہر نیشول میں ہوا، جس میں کورونا وبا، قومی سلامتی، امریکی خاندانوں، نسل پرستی، موسمیاتی تبدیلی اور قائدانہ صلاحیتوں کے موضوعات پر تند و تیز لہجوں میں ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار کی گئی۔ دوسرے اور آخری مباحثے میں ہر ایک امیدوار کو باری باری دو دو منٹ بولنے کا وقت دیا گیا تھا اور اس دوران مخالف امیدوار کا مائیکرو فون بند رہا۔ مباحثے میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن نے کہا کہ صدر ٹرمپ غیر ملکیوں سے ڈرنے والے شخص ہیں۔ جو بائیڈن نے روس چین اور ایران کی امریکی انتخابات میں مداخلت سے متعلق انٹیلی جینس اداروں کے دعوے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ انتخابات میں مداخلت کرنے والے ملکوں کو بقول ان کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

جو بائیڈن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ روس جیسی بیرونی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ وہ امریکی انتخابات کے فاتح قرار پائیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ میرا رویہ ان کے ساتھ انتہائی سخت ہوگا۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ جو بائیڈن کو ساڑھے تین ملین ڈالر روس سے ملے۔ روس بائیڈن کو بہت رقم دے رہا ہے، ای میلز نے یہ ظاہر کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں جو بائیڈن نے کہا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، چین سے اگر کسی نے رقم بنائی ہے تو وہ ٹرمپ ہیں۔ مباحثے کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ 22 لاکھ امریکیوں کے کورونا سے ہلاک ہونے کا خدشہ تھا، چین سے آئے اس وائرس سے لڑنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ نسل پرستی کا معاملہ بھی امریکہ کے صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والے دوسرے اور آخری مباحثے کا اہم ترین موضوع رہا۔ ٹرمپ کے سخت ترین حریف جو بائیڈن نے امریکی سیاہ فاموں کے درمیان پائی جانے والی تشویش کا ذکر کیا اور ان کے ساتھ روا رکھنے جانے والے سلوک پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ملک کے رنگین فام طبقات کے خوف اور پریشانی کا بخوبی ادراک ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار نے دعویٰ کیا کہ وہ انتخابی معرکے میں اسی لیے حصہ لے رہے ہیں تاکہ ٹرمپ کی وحشتناک پالیسیوں کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ بعد ازاں ٹرمپ نے جو بائیڈن پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کے سیاہ فاموں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سیاہ فاموں کے لیے جتنے کام انہوں نے کیے ہیں، آج تک کسی نے نہیں کیے۔ ​​​​​​اس مباحثہ کے کیا اثرات مرتب ہونگے، اس پر یقین سے کچھ نہین کہا جاسکتا، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان ہونے والے صدارتی انتخابات سخت تنازعے اور کشمکش کا شکار ہیں، البتہ ہم دونوں کے ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات کو درست قرار دیتے ہیں، کیونکہ دونوں کے بیانات سن کر امریکہ کے حقیقی چہرے سے بدستور نقاب اتر رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 893661
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش