3
Friday 20 Nov 2020 17:07

گلگت بلتستان الیکشن 2020ء، سیکولر سیاسی جماعتوں کی بے تاج بادشاہی

گلگت بلتستان الیکشن 2020ء، سیکولر سیاسی جماعتوں کی بے تاج بادشاہی
تحریر: جری حیدر

گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع قدرتی و زمینی ذخائر اور نعمتوں سے مالا مال علاقہ ہے۔ یہاں کے باسی ہمیشہ سے اپنی دینی، مذہبی اور اعتقادی روایات کے اوپر بھرپور و پختہ عمل کے عنوان سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ علاقہ وہ واحد علاقہ ہے کہ جہاں شیعہ اتنی تعداد میں میں پائے جاتے ہیں کہ کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق انتخابی حلقوں میں 40 فیصد آبادی خالص شیعہ اثناء عشری ہے اور یہ آبادی گلگت بلتستان کے مرکزی علاقوں میں بستی ہے نہ کہ متفرق دور دراز علاقوں میں۔ صوبہ سے ہٹ کر صرف گلگت بلتستان کے شہروں کو دیکھا جائے تو یہ تناسب 65_70 % تک ہے۔ حالیہ برسوں میں CPEC قرارداد کے باعث اس اور اس کے گیٹ وے قرار پانے کے باعث یہ علاقہ غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یوں یہ علاقہ شیعہ مذہب کے لئے پاکستان کے اندر ایک اسٹریٹجک اور تزویراتی گہرائی کے عنوان سے خالص ترین اور اہم ترین علاقہ ہے۔ یہاں پر بسنے والے شیعہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پورے پاکستان کے اندر جس شہر اور جس علاقے میں بھی آپ جائیں، وہاں پر مساجد، امام بارگاہیں اور مذہبی مراکز انہی علاقوں کے افراد کے توسط سے سے آباد ہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ گلگت بلتستان پاکستان کی تشیع کی مذہبی اور عقیدتی ریڑھ کی ہڈی ہے تو یہ بات بھی شاید حقیقت سے دور نہ ہو۔

الیکشن 2020ء اور نتائج
حالیہ الیکشن میں جو نتائج گلگت بلتستان سے موصول ہوئے ہیں، اس کے تحت یہ علاقہ جو کبھی شیعیان پاکستان کے مضبوط ترین قلعے کے عنوان سے سے شناخت رکھتا تھا اور 90ء کی دہائی میں یہاں شیعہ حکومت بھی قائم ہوئی، اب یہ علاقے آہستہ آہستہ اپنی شیعہ شناخت کھوتے جا رہے ہیں۔ حالیہ الیکشن میں یہ دیکھا گیا کہ مقامی افراد جو ہمیشہ اپنی ولائی اور انقلابی شناخت کے ساتھ جانے اور پہچانے جاتے تھے، انہوں نے سیکولر جماعتوں کو مذہبی جماعتوں پر فوقیت دی۔

ماضی سے حال تک کا سیاسی سفر
نوے کی دہائی میں جہاں شیعہ حلقوں کی 11 نشستوں پر ایک شیعہ مذہبی جماعت نے کلین سویپ کیا۔ 2015ء کے الیکشن میں اسی طرح دو مذہبی جماعتوں نے کل ملا کر چار نشستیں حاصل کیں، اب حالت یہ ہے کہ 2020ء کے الیکشن میں شیعہ مذہبی جماعتوں کے پاس کل ملا کر ایک نشست ہے، وہ بھی ایک سیکیولر جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد کے نتیجے میں حاصل شدہ کامیابی کے تحت موجود ہے۔ مخلص اور مذہبی قوتوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ان کے انتہائی اہم قلعے اور گڑھ پر اب سیکولر اور بے دین قوتیں حاوی ہوچکی ہیں۔ صاحبان فہم و بصیرت اس بات سے واقف ہیں کہ سیکولر جماعتیں صرف لوگوں سے ووٹ حاصل نہیں کرتیں بلکہ اپنے نامعلوم غیر دینی افکار، نظریات، روایات اور انحرافات بھی مقامی لوگوں کے اندر نافذ کرتی ہیں۔

جی بی کے آئینی حقوق، جدوجہد اور مذہبی جماعتیں
گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی جدوجہد کی اگر بات کی جائے تو شیعہ جماعتیں یہ جنگ اپنے اتحاد و اتفاق کے ساتھ بھی لڑ سکتی ہیں۔ اگر مذہبی جماعتیں محنت کریں اور مقامی لوگوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھیں تو اب بھی مذہبی جماعتوں کیلئے وہاں بہت پذیرائی موجود ہے۔ از خود آزاد طریقے سے الیکشن لڑ کر اپنی شرائط پر دوسری جماعتوں کے ساتھ سیاسی معاملات کئے جاسکتے ہیں یا اپنے تربیت شدہ افراد سیاسی جماعتوں میں بھیج کر جیسے آپشن پر غور کیا جاسکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ اس الیکشن میں یہ دیکھا گیا کہ خالص شیعہ حلقوں میں بھی مذہبی جماعتوں کی جانب سے سیکولر قوتوں کو کندھا دیا گیا اور ان کو اقتدار میں لانے کے لئے مقامی آبادی اور لوگوں میں سیکولر جماعتوں اور انکے افراد کا پرچار کیا گیا اور ان کے طور طریقوں اور ثقافت کو مذہبی شیعہ عوام میں ترویج دیا گیا۔

تشیع پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ
صاحبان بصیرت اور فہم کے لئے اب یہ موقع ہے کہ وہ سنجیدگی سے سوچیں کہ گلگت بلتستان جیسے خالص شیعہ علاقے میں جو تشیع پاکستان کا انقلابی، ولائی اور روایتی قلعہ ہے، سیکیولر قوتیں وہاں کیا اور کس طرح سے مذہبی اور ثقافتی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔ آگے آنے والی نسلوں کو ہم کس طرح شیعہ مذہب، اسکی راہ اور فکر پر باقی رکھ سکتے ہیں اور اس کو اپنے ایک اسٹریٹجک قلعے کے طور سے محفوظ رکھ کر اپنی سیاسی، ثقافتی اور مذہبی جدوجہد کو مضبوطی سے پروان چڑھا سکتے ہیں۔ اپنے روایتی علاقوں میں بھی اگر اسی طرح اغیار پر بھروسے کی سیاست کو جاری رکھا گیا تو وہ وقت دور نہیں کہ بہت ہی کم وقت میں تشیع پاکستان اپنا یہ محکم اسٹریٹجک بیس اور گڑھ سیکولر اور بے دین قوتوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھے گی۔
خبر کا کوڈ : 898949
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش