0
Sunday 7 Aug 2011 00:31

گرتے ستونوں کے متبادل کی تلاش

گرتے ستونوں کے متبادل کی تلاش
تحریر: سعداللہ زارعی
اسلام ٹائمز- عرب نشین مسلمان خطے میں سیاسی تبدیلیوں کا اسٹریٹجک نتیجہ ان سیاسی نظاموں کی سرنگونی ہے جو گذشتہ تین عشروں سے اس خطے کیلئے ڈیزائن کئے گئے تھے۔ یہ تبدیلیاں باعث بنی ہیں کہ سابقہ نظاموں کے حامی اور محافظ "متبادل سسٹم" کی تلاش میں لگ جائیں۔ لہذا ہم دو حوالے سے مغربی ممالک کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے شاہد ہیں، ایک خطے میں انجام پانے والی سیاسی تبدیلیوں کا دقیق مطالعہ اور دوسرا بچ جانے والی قوتوں اور وسائل کا جائزہ۔ اس بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔
ایران میں سلطنتی نظام کے خاتمے کے بعد مغربی دنیا نے اپنے آمرانہ نظام کا اہم ستون کھو دیا اور تقریبا ایران میں انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی مصر کو اپنے بلاک میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئی جسکے ذریعے 1960 سے 1970 کی دہائی میں گنوائی سیاسی منزلت کا کچھ حد تک جبران ہو گیا۔ اس طرح سے شام، لیبیا، الجزائر، جنوبی یمن اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO) یا دوسرے الفاظ میں عرب دنیا کی بائیں بازو کے ممالک ایران کے بلاک میں شامل ہو گئے اور کچھ سال بعد عراق بھی امریکہ اور خطے میں موجود امریکی حلیف ممالک جیسے سعودی عرب اور اردن وغیرہ کے بلاک میں شامل ہو گیا۔ عراق نے امریکہ کی ایماء پر ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا۔ اسی دوران ترکی میں بھی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور غرب زدہ حکومت کی جگہ اعتدال پسند حکومت برسراقتدار آ گئی۔ 6 نومبر 1983 کو ترکی میں تارگت اوزال کی سربراہی میں ماں وطن پارٹی کی فتح نے اس ملک کا ایران دشمن چہرہ دھو دیا اور انقلاب اسلامی ایران کی حامی قوتوں پر فعالیت کے دروازے کھول دیئے۔
1984 کے آغاز میں امریکی حکام اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے میں اسکی حامی حکومتوں پر انتہائی دباو ڈالنے میں مصروف تھے لیکن عملی میدان میں انہیں یقین ہو چکا تھا کہ عملی طور پر تبدیلی پیدا ہونے کا کوئی امکان موجود نہیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ موجودہ حالات میں بھی اپنے مفادات کا تحفظ اور اپنی پالیسیوں کو جاری رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے زیر اثر عرب ممالک میں ایک حد تک سیاسی استحکام ان کیلئے اس یقین کا باعث بن چکا تھا کہ 1980 سے 1990 کی دہائی میں ایجاد کیا گیا "توازن پر مبنی خطے کا سیاسی نظام" اپنی بقا کو جاری رکھے گا۔ اس دوران مختلف امریکی حلقوں کی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ عرب باشندوں کو بنیادی تبدیلی لانے کیلئے ضروری شرائط سے عاری سمجھتا تھا۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ عرب خطہ جو شمالی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا پر مشتمل ہے، 1950 سے 1960 تک کی دہائی میں رونما ہونے والی نیشنلسٹ [قوم پرست] تحریک کے بعد جو سرزمین فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے بعد مصر [1952]، تیونس [1954]،عراق [1959]، یمن [1962]، الجزائر [1963]، لیبیا [1969] اور شام [1971] میں سوشلسٹ اور نیشنلسٹ حکومتوں کے برسراقتدار آنے کے بعد معرض وجود میں آئی، انتہائی سیاسی جمود کا شکار تھا اور کوئی سیاسی تحرکات دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ جبکہ اسی دوران دنیا کے دوسرے مختلف حصوں جیسے لاطینی امریکہ، جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک اور ایشیا کے ممالک میں بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ 1971 سے 2001 کے آخر تک عرب دنیا کا 40 سال سے زیادہ عرصے پر مبنی سیاسی جمود جہاں ایک طرف مغربی دنیا کے اس عرب مسلمان خطے پر اپنے قبضے کو محفوظ رکھنے کی بابت اطمینان کا باعث بنا تو دوسری طرف خطے میں کنٹرول شدہ سطحی تبدیلیوں کے امکان کو بھی ظاہر کرنے لگا۔ اس قسم کی تبدیلیاں 2000 میں امریکہ میں جرج بش کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکی حکام کی توجہ کا مرکز بننے لگیں اور "عرب دنیا میں تبدیلیوں کی ضرورت" جرج بش حکومت کی سیاست خارجہ کا حصہ بن گئی۔
امریکہ عرب ممالک میں اپنی کٹھ پتلی حکومتوں پر دباو ڈالنے لگا کہ خطے کے سیاسی نظام اور اپنی حکومتوں کی سرنگونی سے بچنے کیلئے جدت سازی (modernization) کا عمل انجام دیں۔ لیکن امریکہ کا یہ مطالبہ عرب حکومتوں بالخصوص مصر، سعودی عرب اور یمن کی جانب سے شدید ردعمل سے روبرو ہوا۔ ان ممالک کے سربراہان کا خیال تھا کہ خطے میں ہر قسم کی اصلاح یا تبدیلی "سوئی ہوئی موج" کے بیدار ہو جانے کا سبب بنے گی۔ دوسری طرف بش حکومت 2005 میں ایک بڑے درد سر کا شکار ہو گئی۔ عراق اور افغانستان میں قبضے پر مبنی پالیسی بھاری اخراجات کے باوجود شکست سے دوچار ہو گئی اور مغربی دنیا کیلئے جنوب مغربی ایشیا میں ایک بڑے جیلنج میں تبدیل ہو گئی۔ ان حالات میں جرج بش نے اپنی کٹھ پتلی حکومتوں میں کنٹرول شدہ تبدیلیاں لانے کی پالیسی کو خیرباد کہتے ہوئے اپنی خارجہ سیاست میں "ماڈرنائزیشن" کی جگہ "استحکام" یا stability کو دے دی۔ 2006 کے وسط میں امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس نے اپنی ایک تقریر کے دوران کہا:
"جمہوریت اور الیکشن مشرق وسطی کیلئے بہترین انتخاب نہیں ہیں، بلکہ یہ خطہ آج تبدیلی سے زیادہ سیاسی استحکام کا محتاج ہے"۔
امریکہ کے اندر اس موقف کو ایک قسم کی وعدہ شکنی اور اعتراف شکست سے تعبیر کیا گیا۔ اسی وجہ سے ڈیموکریٹک پارٹی نے موقعیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے اگلے الیکشن میں "تبدیلی" یا "چینج" کا نعرہ لگایا اور "عالم اسلام کی نسبت امریکی نگاہ میں تبدیلی" کو اسکی بنیاد قرار دیا۔ براک اوباما وائٹ ہاوس میں آنے کے تقریباً اڑھائی ماہ بعد عالم اسلام کے اپنے رسمی دورے کا آغاز کرتے ہوئے 6 اپریل 2009 کو اپنے پہلے سفر پر ترکی پہنچے۔ یہ سفر خود درج ذیل نکات کا حامل تھا:
۱۔ عالم اسلام کی نسبت اپنی نگاہ میں تبدیلی کی ضرور کا نعرہ بذات خود مغربی دنیا کی جانب سے اسلام دشمن منصوبوں کی ناکامی کا اعتراف تھا۔ کیونکہ صدر اوباما "عالم اسلام" کے لفظ کی بجائے "عرب دنیا" یا "تھرڈ ورلڈ" یا "مشرق وسطی" کی اصطلاح استمال کر سکتے تھے، جیسا کہ ان سے پہلے صدر کلنٹن کے دور حکومت میں ان الفاظ کا استعمال معمول بن چکا تھا۔
۲۔ اوباما کا نعرہ بش کے نعرے سے بالکل مختلف تھا کیونکہ بش ظاہری تبدیلی کے حق میں تھے لیکن اوباما نے اسلامی دنیا کے مقابلے میں جنگ افروز پالیسی کو ترک کرنے کی بات کی۔
۳۔ اوباما کی جانب سے اسلامی دنیا کے سفر کا مصر یا سعودی عرب کی بجائے ترکی سے آغاز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انکی پالیسیوں کیلئے عرب دنیا میں مناسب زمینہ فراہم نہیں اور انکا سفر مصر یا سعودی عرب کی سیکولر حکومتوں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ لہذا جب اوباما 4 جون 2009 کو اپنے دوسرے سفر پر مصر پہنچے اور جامعہ الازھر کا دورہ کیا اور عالم اسلام کے نام بظاہر دوستانہ پیغام ارسال کیا تو انکا یہ اقدام مصری حکومت کی جانب سے شدید ردعمل سے دوچار ہوا۔ اس وقت مصری پارلیمنٹ کے سپیکر نے رسمی بیان دیتے ہوئے کہا: "سیاسی اسلام کے بارے میں امریکہ کی نئی نظر مصر میں اخوان المسلمون کے برسراقتدار آنے کا باعث بن سکتی ہے"۔
البتہ یہ بات انتہائی واضح ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسلام کے ساتھ مثبت رویہ اپنانے کا اعلان محض ایک ڈھونگ ہے اور براک اوباما بھی جرج بش کے نعرے "تبدیلی کی بجائے استحکام" پر عمل پیرا ہیں۔ امریکہ کی جانب سے بعد میں اٹھائے جانے والے اقدامات نے بھی اس حقیقت کو ثابت کر دیا ہے۔ براک اوباما نے برسراقتدار آنے کے چند ماہ بعد ہی خاص طور پر ستمبر 2009 سے "چینج" کے نعرے کو بیان اور عمل دونوں میں ترک کر دیا۔ 2010 کا شدید اقتصادی بحران اور اسی سال ڈیموکریٹک پارٹی کی الیکشن میں شدید شکست نے امریکی حکومت کو نئی صورتحال سے دوچار کر دیا اور براک اوباما ایک طرف یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے کہ عراق سے امریکی فوجیوں کو مقررہ مدت یعنی 2011 میں وطن واپس بلا لیا جائے گا اور دوسری طرف افغانستان سے بھی امریکی فوجیوں کے انخلاء کی صدائیں سنائی دینی لگیں۔ اکتوبر 2010 میں لیسبن میں برگزار ہونے والے اجلاس میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلاء بھی حتمی شکل اختیار کر گیا۔ یہی دو نکات اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے کافی ہیں کہ اوباما دور میں امریکہ کی سیاسی اور قومی سلامتی سے متعلق صورتحال بالخصوص سیاست خارجہ کے میدان میں بش دور سے کہیں زیادہ بدتر ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ عرب مسلمان خطے میں اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کی بقاء کو ایک اسٹریٹجک ضرورت کے طور پر دیکھ رہا ہے اور ہر قسم کی تبدیلی کو بے قابو تبدیلیوں کے شروع ہونے کا پیش خیمہ تصور کرتا ہے۔
ان حالات میں عرب مسلمان خطے میں آنے والی تند و تیز تبدیلیوں نے ایک برفانی تودے کی مانند مغربی دنیا کا راستہ بند کر دیا۔ مغربی ممالک نے انتہائی پریشانی کے عالم میں ان بدلتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا اور غیریقینی طور پر خطے میں مصر جیسے ستون کی نابودی کا مشاہدہ کیا۔ درحقیقت امریکہ نے ایران کو کھو دینے کے بعد تمام امیدیں مصر سے باندھ رکھی تھیں۔ مصر نے بھی انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی سے صدر حسنی مبارک کی سرنگونی تک امریکہ کی امیدیں پوری کرتے ہوئے خطے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ مصر کے تعاون سے ایک طرف شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں کئی امریکہ دشمن تحریکوں کے زور پکڑنے کو روکنے اور دوسری طرف اسرائیل کو ایسی بحرانی صورتحال سے نجات دلانے میں کامیاب ہو چکا تھا جس نے اسرائیل کی بقاء کو خطے سے دوچار کر رکھا تھا۔
مصر میں امریکی کٹھ پتلی حکومت کی سرنگونی نے خطے میں امریکہ مخالف گروہوں کی صورتحال کو بہتر بنا دیا ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے ان سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ہی حزب اللہ لبنان کے سامنے تین محاذ کھول دیئے ہیں، رفیق حریری کیس، شام کا بحران اور ایران میں انسانی حقوق کا ایشو۔ لیکن اسکے باوجود امریکہ شدت سے محسوس کر رہا ہے کہ اسکے یہ اقدامات خطے میں اسکی گذشتہ گرفت کو بحال نہیں کر سکیں گے۔ لہذا امریکہ نے ایک اور منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا۔
امریکہ اور اسرائیل نے ترکی کا رخ کیا اور انتہائی پرکشش وعدوں کے ذریعے کوشش کی کہ اسے ایران اور شام کے مقابلے میں لا کھڑا کریں اور اس طرح سے خطے میں آنے والی عظیم سیاسی تبدیلیوں سے بچنے کا راستہ تلاش کر سکیں۔ انکا یہ کھیل زیادہ دیر نہ چل سکا اور 4 ماہ بعد ہی شکست سے روبرو ہوا۔ ترک حکام بہت جلد سمجھ گئے کہ امریکی-اسرائیلی منصوبے میں کردار ادا نہیں کر سکتے لہذا امسال جون کے ابتدا سے ہی ایران اور شام سے متعلق اپنے موقف کی اصلاح کرنے لگے۔
مختصر یہ کہ خطے میں انجام پانے والی سیاسی تبدیلیوں سے زیادہ اہم اس سیاسی نظام کی سرنگونی ہے جس پر امریکہ نے 1985 کے آغاز سے مجبوری کے عالم میں تکیہ کر رکھا تھا۔ اب یہ توازن امریکہ اور بطور کلی مغربی دنیا کے نقصان میں بگڑ چکا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اسلامی ممالک پر قبضے پر مبنی امریکہ کی فوجی پالیسیاں بھی بند گلی تک پہنچ چکی ہیں۔ عالم اسلام سے دوستی کے نعرے جو اوباما دور حکومت کے شروع میں بڑی آب و تاب سے لگائے گئے نیز مصر اور شام میں اسلام پسند گروہوں سے تعلقات استوار کرنے کی امریکی کوششیں بھی بری طرح ناکامی کا شکار ہو چکی ہیں۔
امریکہ کے گذشتہ تجربات اور اسکی روش عرب مسلمان خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ امریکہ ایک طاقتور سفارتی نظام، عظیم فوجی قوت، قوی ہیکل میڈیا اور پروپیگنڈہ مشینری کا حامل ہے اور خطے میں وسیع پیمانے پر کٹھ پتلی حکومتیں اور جاسوسی نیٹ ورکس بھی قائم کر چکا ہے لیکن مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جو عوام میدان میں آ چکے ہیں اور گذشتہ کئی ماہ سے کٹھ پتلی حکومتوں کا گریبان پکڑ کر انہیں نکال باہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں نہ امریکی ڈپلومیسی، نہ میڈیا، نہ فوجی قوت اور نہ کٹھ پتلی حکمران کسی کے بھی زیر اثر نہیں ہیں۔ لہذا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ 1980 کی دہائی کے برخلاف اس بار جبکہ خطے میں امریکی اور مغربی سیاسی نظام کی دیواریں ہل رہی ہیں، امریکہ کے پاس اس بحران سے نکلنے کیلئے کوئی متبادل بھی موجود نہیں۔

خبر کا کوڈ : 89909
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب