0
Tuesday 24 Nov 2020 12:14

نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینینش کمیٹی کی منظوری

نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینینش کمیٹی کی منظوری
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، پاکستان میں ریکارڈ قانون سازی ہوئی ہے۔ عالمی اداروں کی طرف سے دباو اور پاکستان کو داخلی اور خارجی طور پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں بہت بڑی پیش رفت وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینینش کمیٹی (این آئی سی سی) کے قیام کی منظوری ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نئی کمیٹی کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کریں گے، جو اس کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے اس معاملے پر کم از کم 2 مرتبہ تبادلہ خیال کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ تجویز منظوری کے لیے وزیراعظم عمران خان کے پاس گئی تھی، رابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ ہفتے میں ہوسکتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ کوآرڈینشن فورم کے قیام سے متعلق تبادلہ خیال جاری ہے، اس کے ٹرمز آف ریفرنسز اور طریقہ کار فیصلہ اس کے باقاعدہ طور پر شکل اختیار کرنے کے بعد کیا جائے گا۔

پاکستان کو طویل عرصے سے سکیورٹی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ مشرف دور میں اس حوالے سے کئی اقدامات کیے گئے، لیکن بدقسمتی سے امریکی اتحاد میں شمولیت کی وجہ سے بحرانوں سے نجات کی بجائے مسائل میں اضافہ ہوا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر امریکی یلغار کے نہایت برے اثرات پاکستان پر مرتب ہوئے۔ اوبامہ کے دور میں پاکستانی سرحدوں کو پائمال کرتے ہوئے امریکی کمانڈوز نے پاکستان کے حساس ترین شہر ایبٹ آباد میں نام نہاد آپریشن کیا اور دنیا بھر میں پاکستان کی سبکی ہوئی۔ ملکی سلامتی پر سوال کھڑے ہوئے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا گیا۔ اسی ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے سامنے آنے والے ورژن میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ کمیشن نے سول ملٹری انٹیلی جنس تعاون کے طریقہ کار کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے امریکی محکمہ داخلہ سکیورٹی کی طرز پر ایک ایجنسی کے قیام کی تجویز دی تھی، تاکہ ملک میں تمام مرکزی خفیہ ایجنسیز ہم آہنگی سے کام کریں۔ یہ ایبٹ آباد کمیشن 2011ء میں ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی میں اسامہ بن لادن کے قتل سے متعلق صورتحال کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

اگرچہ اس کی رپورٹ کی باضابطہ طور پر توثیق نہیں کی گئی، تاہم اس نے سول اور ملٹری کے اہم افراد کی گواہی کی بنیاد پر اپنی تفیتش کے دوران شناخت کردہ امور کو حل کرنے کے لیے مبینہ طور پر 32 وسیع تجاویز دی تھیں، جن میں سے انٹیلی جنس کوآرڈینینش کمیٹی ایک تھی۔ ماضی میں اس تعاون کو قائم کرنے کے لیے مختلف کوششیں کی گئیں، لیکن نئی باڈی کی قیادت پر اختلافات کی وجہ سے معمولی پیش رفت ہوسکتی تھی، تاہم اب یہ معاملہ حل ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ 26 جولائی 2008ء کو اس وقت کی پاکستان پیپلزپارٹی حکومت نے وزارت داخلہ کے انتظامی، مالی اور آپریشنل کنٹرول کے تحت آئی ایس آئی اور آئی بی کی تعیناتی کو بھی نوٹیفائی کیا تھا، تاہم 24 گھنٹے کے اندر ہی اس فیصلے کو واپس لینا پڑ گیا تھا، کیونکہ ان تنیظموں میں سے ایک کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران بھی کچھ اسی طرح کی کوششیں اس وقت کی گئی تھیں، جب چوہدری نثار علی خان وزارت داخلہ دیکھ رہے تھے۔

امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ خطے کے حالات میں بہتری کے امکانات پیدا ہو جائیں گے، لیکن امریکہ نے پاکستان کے ازلی حریف بھارت کو چین کے سامنے کھڑا کرنیکے لیے ان کی پشت پناہی شروع کر دی۔ جس وجہ سے پاکستان میں سی پیک منصوبوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان اب بھی دہشت گردی کے ناسور کی زد میں ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق لاہور میں انسداد دہشت گردی کے تھانے پر خودکش حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ گذشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر نے سی پیک کیخلاف بھارتی حکمت عملی اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی حکومت، مسلح افواج کے ادارے، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور تمام صوبوں کی حکومتیں بیک وقت اس قومی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے مستعد ہو جائیں تو اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کی صورت پیدا ہوگی۔

 یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں، قاتل گروہوں کے سرپرستوں، ان کے سہولت کاروں کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جاتا، اس وقت تک دہشت گردی کے آسیب سے قوم و ملک کو چھٹکارا نہیں مل سکتا۔ یہ درست ہے کہ جون 2014ء میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز اور دسمبر 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کے بعد اگرچہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی، اس کے باوجود بھارتی منصوبوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ملک کے کئی حصوں میں دہشت گردوں کے سلیپر سیل موجود ہیں اور ان کے افغانستان اور بھارت وغیرہ میں منصوبہ سازوں کے ساتھ روابط بھی ہیں۔ ضروری ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی بچی کھچی کمین گاہوں کو اکھاڑ پھینکا جائے اور وہ عناصر جو ان کے رابطہ کار کا کام کرتے ہیں، انہیں پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ نیشنل ایکشن پلان کی رفتار کار کا جائزہ لینے اور اس کی مکمل نگہبانی کرنے کے لئے ٹاسک فورس کو مزید متحرک کیا جائے۔

اس سے قبل 2013ء میں لیگی دور حکومت میں بھی دہشت گردوں كے نیٹ ورک كو مكمل كنٹرول كرنے كے حوالے سے وفاقی حكومت سول اور فوجی انٹیلی جنس اداروں كے درمیان روابط كو بہتر بنانے كے لئے مشتركہ كوآرڈی نیشن كمیٹی بنانے کی تجویز سامنے آئی تھی، لیکن یہ فیصلہ عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور عدم اعتماد کی نذر ہوگیا تھا۔ حالانکہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف كو سكیورٹی اداروں كی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا تھا كہ دہشت گردی یا سنگین جرائم كے واقعات كی تحقیقات میں خفیہ اداروں کی سمت مختلف ہونے کے باعث بہتر نتائج سامنے نہیں آتے، بریفنگ میں فوجی انٹیلی جنس اداروں كا مؤقف سامنے آیا تھا، سول اداروں كو دہشت گردی كے واقعات كی قبل از وقت اطلاع بھی دے دی جاتی ہے، مگر ان اداروں كے پاس اہل عملہ موجود نہیں جس کی وجہ سے یہ دہشت گردوں کے خلاف فوری كارروائی كرنے میں كامیاب نہیں ہوتے بلكہ ایسی اطلاعات كو افشا بھی كر دیا جاتا ہے، جس سے ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں كو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کیلئے ہر صوبے میں ایپکس کمیٹیاں بھی بنائی گئی تھیں، جس کے بعد اس کمزوری پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔

ماہرین کی جانب سے یہ تجویز پہلے ہی موجود ہے کہ اس عمل کی نگرانی وزیراعظم خود کریں اور اس میں وفاقی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے نمائندے بھی شامل کئے جائیں۔ اس کے علاوہ دیگر اداروں اور ماہرین سے بھی مدد لی جائے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان کے کام کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے زیادہ سہولتیں اور وسائل مہیا کئے جائیں۔ تمام صوبائی حکومتیں دہشت گردی کی اس جنگ میں اب وفاق کو مکمل تعاون فراہم کریں۔ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مکمل ہم آہنگی اور تال میل ہو۔ انٹیلی جنس شیئرنگ کے ساتھ ساتھ ملنے والی معلومات کے بعد ان کی نگرانی اور جانچ پڑتال کا انتہائی مؤثر نظام قائم کرنے کے بعد اس پر پوری طاقت اور عزم کے ساتھ عمل کیا جائے۔ بہتر نتائج کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل تعاون، رابطہ اور عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ نتائج میں کمی بیشی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ماضی کی اس مذموم روایت کا اعادہ نہیں ہونا چاہیئے کہ ادارے واقعات کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دیں۔ اب اس کی ذمہ داری کسی ایک ادارے پر نہیں تمام اداروں پر عائد ہوگی۔ یہ مائنڈ سیٹ اب تبدیل ہونا چاہیئے۔

یہ خوش آئند ہے کہ وقت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے نیکٹا کو فعال بنانے کیساتھ ساتھ این آئی سی سی ملک میں 2 درجن سے زائد انٹیلی جنس تنظیموں کو مربوط کرنے کے طریقہ کار پر کام کرے گی، جبکہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی بھی اس نئے ڈھانچے کا حصہ ہوگی۔ یہ قدم انٹیلیجنس اپریٹس کی طویل منتظر اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد متعلقہ ایجنسیوں کے کردار کو واضح کرنا، ان کے تعاون اور صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ملک نے جو سبق سیکھے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس پوری کوشش میں موثر انٹیلی جنسی تعاون سب سے کمزور لنک تھا، اس کے نتیجے میں اہم وقت ضائع ہوا اور کچھ معاملات میں ایجنسیز اپنے پاس دستیاب معلومات کو اکٹھا نہیں کرسکیں، مزید یہ کہ یہ اجتماعی حکمت عملی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ موثر نظام اور عمدہ طریقہ کار کے ذریعے ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے دشمن آلہ کاروں کو بھی نکیل ڈالی جا سکتی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کو سفارتی اور سیاسی دباؤ سے نکال کر معاشی ترقی کی رکاوٹوں پر قابو بھی پایا جا سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 899608
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش