0
Tuesday 24 Nov 2020 08:55

سعودی عرب میں اسرائیلی اتحاد کا اجلاس

سعودی عرب میں اسرائیلی اتحاد کا اجلاس
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

مشرق وسطیٰ میں پچھلے چالیس سال سے جاری کھیل پر نظر رکھنے والا عام انسان بھی جانتا ہے کہ خطے میں کون کس کا اتحادی ہے؟ اور کون کس کے خلاف جنگ کر رہا ہے؟ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم عقیدت میں خواہش کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں اور اس کے بعد سورج سے بڑی حقیقت کا انکار کر دیتے ہیں۔ یہ دراصل مسلسل جھوٹ سننے سے پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے، جس میں سچ کا سامنا کرنا انسانی بساط سے باہر  ہو جاتا ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات قائم ہیں اور ان کی باہمی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ جب ہم ان تعلقات کے بارے میں کوئی بات لکھتے تھے تو بہت سے لوگ اسے تعصب کہہ کر جانبداری کا الزام بھی لگا دیتے تھے۔ ہم نے بارہا کہا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے رویئے ان کے تعلقات کے عکاس ہیں۔ چلیں کسی نے تو ان تعلقات کا اعلانیہ اظہار کیا اور سعودی شہر نیوم میں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پمپیو، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اسرائیلی وزیراعظم اور موساد کے سربراہ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا اور اسرائیلی وزیر اس ملاقات کی تصدیق کرچکے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ کی تردید کی ٹویٹ تردید سے زیادہ تصدیق کا کام کر رہی ہے۔ اس ملاقات سے سعودی خارجہ پالیسی کا اصل چہرہ امت مسلمہ کے سامنے آیا ہے اور وہ لوگ جو آل سعود کے کندھوں سے کندھا ملا کر پوری دنیا میں بیت المقدس کی آزادی کے خواب دیکھ رہے تھے، اب انہیں اس کھلی حقیقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اندھی عقیدت کے وضو ٹوٹ رہے ہیں اور لوگ کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ اقبال تو بہت پہلے کہہ گئے تھے:
یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بُوذرؓ و دَلقِ اَویسؓ و چادرِ زہراؑ!


سعودی عرب میں اکٹھا ہونے والے ان شکست خوردہ عناصر کے اکٹھ کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان سب لوگوں نے ٹرمپ پر بڑا جوا لگایا تھا، یہ اس جوے میں ہار گئے ہیں۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ اب امریکہ میں صیہونی اور آل سعود کا بڑا سرپرست شکست کھا چکا ہے، چند ہی دنوں میں وائٹ ہاوس کا نیا مکین آجائے گا۔ بائیڈن بھی اسی پالیسی کو آگے بڑھائے گا، جس سے امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ بڑھے۔ اس کے لیے ہراول دستے جو اپنی جیب سے پیسہ لگا کر بھی امریکی خدمت کے لیے تیار ہیں، آل سعود اور خطے میں اس کے اتحادیوں کی شکل میں موجود ہیں۔ سعودی عرب کے خطے میں خود ساختہ دشمن ہیں، جن کو اس نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے مزید دشمن کیا ہے۔ اسرائیل اور جنگ پسند امریکی انتظامیہ نے بڑے طریقے سے محمد بن سلمان کے جذبات کو بھڑکا کر یمن کے  ساتھ اس کے پورے بارڈر کو جنگ میں تبدیل کر دیا، اس کا نتیجہ ہے کہ آج ریاض اور جدہ پر حملے ہو رہے ہیں۔

صیہونی قوتوں نے اپنے پتے بڑی مکاری سے کھیلے اور بکاو مال نے ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ وہ سعودی عرب میں یہ بیانیہ بنوانے میں لگے رہے کہ ان کو اصل خظرہ ایران سے ہے اور ایران کسی بھی وقت ان کو تہہ و بالا کرسکتا ہے۔ جمہور اور مقابل آوازوں کے نہ ہونے کی وجہ سے آل سعود نے ہمالیہ سے بڑی غلطی کی اور اسرائیل کو اپنا دوست خیال کرنے لگے اور ایران کو اپنا دشمن سمجھ لیا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج خطے میں بے اثر ہوگئے، جس سمت انہوں نے قدم اٹھایا وہ انہیں الٹا ہی پڑا۔ یمن، شام، لبنان، قطر اور لیبیا ہر جگہ ناکامی ان کا مقدر ٹھہری۔ اس تمام کے نتیجے میں سعودی عرب امت مسلمہ کے اس مذہبی طبقے میں اپنی حیثیت کھو دے گا، جسے یہ دنیا بھر میں اپنا اثاثہ سمجھتا ہے۔

اسلام دشمن قوتوں کی یہ سازش مضبوط ہو رہی ہے کہ وہ مسلمانوں کو ہی مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار کر رہے ہیں۔ نااہل قیادتیں فقط اپنی بادشاہتیں بچانے کے لیے اس ایجنڈے کو کامیاب کر رہی ہیں۔ سعودیہ میں جمع ان قوتوں کو خوف ہے کہ بائیڈن ایران کے ساتھ اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہو جائے گا، جس سے ٹرمپ نکل گیا تھا۔ یہ معاہدہ تو پرامن بقائے باہمی اور دوسرے کے حقوق کی آزادی کے لیے ہے، جس میں ایرانی قوم سے کچھ غیر انسانی پابندیاں اٹھائی گئی ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل نے پچھلے چند سال میں خطے میں جو من مانی کی ہے، اس بات کا امکان ہے کہ بائیڈن اس پر کچھ روک لگائے گا۔ اگرچہ بائیڈن پر بھی اعتماد کرنا بہت مشکل ہے، مگر یہی خوف ان کو کھائے جا رہا ہے کہیں کچھ ہو نہ جائے۔

ایک فلسطینی ٹی وی چینل پر آہ و بکا کر رہا تھا، اسرائیل سے معاہدے دراصل فلسطینوں سے جنگ ہیں، فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر کے تعلقات وزارت خارجہ کے ذریعے قائم ہوتے ہیں، مگر یہاں موساد کا سربراہ  وزیراعظم کے ساتھ گیا ہے، یہ تعلقات کی نوعیت کو بتاتا ہے کہ یہ دراصل تعلقات کی بات نہیں ہے۔ یہ تکوین پاکستان کے بھی شدید خلاف ہے، انڈیا امریکہ اور اسرائیل کا ہم نوالہ ہے، وہ جنوبی ایشیاء میں اسی طرح امریکی مفادات کا چوکیدار ہے جیسے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل ہے۔ ان حالات میں ہماری وزارت خارجہ اور متعلقہ اداروں کو چوکس رہنا ہوگا۔ انڈین میڈیا کے مطابق بیس ریال پر کشمیر کو مقبوضہ خطہ دکھانے والے نقشے کو اصولی طور پر تبدیل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، اب فقط اس کا اجراء باقی ہے اور اسے مکمل طور پر انڈیا کا حصہ دکھا دیا جائے گا۔ لہذا آنکھیں کھلی رکھیں۔
خبر کا کوڈ : 899640
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش