2
2
Tuesday 1 Dec 2020 23:33

ناکام لوگوں کی عادات

ناکام لوگوں کی عادات
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

ناکام افراد، مکاتب، مدارس، اقوام یا ممالک کھلی کتاب ہوتے ہیں۔ راقم الحروف کو آج کا موضوع ایک معزز کالم نگار سے مستعار لینا پڑا۔ کچھ موضوعات بہت ہی اہم ہوتے ہیں، لیکن ہم انہیں نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ ہم سب نامی سائٹ پر محترم ناصر محمود ملک نے اپنے کالم کی ابتدا امریکی دانشور سٹیفن کووی کی کتاب ”موثر ترین لوگوں کی سات عادات“ سے کی تھی۔ اس پر انہوں نے حاشیہ لگایا تھا کہ ڈاکٹر کووی اگر غیر موثر یا ناکام لوگوں کی عادات پر کتاب لکھتے تو بہتر ہوتا۔ اس کی وجہ ہے کہ خیر سے دنیا میں موجود انسانوں کی ایک کثیر تعداد اسی درجہ بندی میں ہی آتی ہے۔ لہذا کتابی موضوع کے لیے یہی لوگ نسبتاً زیادہ مستحق تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ناکام لوگوں کی سات عادات گنوائی ہیں۔ ایک قاری ہونے کے ناطے بندہ ناچیز نے بھی ان عادات کی شناخت کو کامیابی کی کلید کے طور پر محمول کیا ہے۔ چنانچہ ایک نیا کالم لکھنے کے بجائے انہی کے کالم کے بعض حصوں میں حذف و اضافہ یا ترمیم کرکے بات آگے بڑھا دی ہے۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ ناکام لوگوں کے حوالے سے ہر انسان کا اپنا سماجی تجربہ ہے۔ لہذا مذکورہ حذف و اضافے اور ترامیم کا تعلق قاری کے ذاتی تجربے سے ہے۔

ہمارے تجربے کی رو سے ناکام لوگ بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ دوسرے افراد ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ ان کی پہلی عادت جو عموماً دیکھی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ ان کے پاس ہر سائنسی، حکومتی، تعلیمی،  دینی و سیاسی و معاشرتی مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے۔ لہذا یہ جہاں بھی جائیں بلکہ انہیں تو کہیں جانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، یہ جہاں بھی ہوں، وہیں دوچار لوگوں کو پکڑ کر ان کا دماغ چاٹنا شروع کر دیتے ہیں، بعض لمبی لمبی ہانکتے ہیں، بعض آیات و روایات کو اپنی باتوں میں مصالحے کی طرح استعمال کرتے ہیں، بعض شاعری کا ستیاناس کرتے ہیں، بعض خبروں پر تبصرے کرتے ہیں اور بعض مظلوم سامعین پر یہ سارے نسخے آزماتے ہیں۔ ان کی باتوں سے جب کسی کی جان بخشی ہوتی ہے تو وہ بے چارہ اگلے چند دن سر درد کی بیماری میں مبتلا رہتا ہے۔

ان کی دوسری خوبی یہ ہے کہ ان کے کہیں دور پار کے عزیزوں میں سے بھی کوئی صاحب کہیں افسر وغیرہ ہوں تو یہ اس کا تعارف یوں کروائیں گے جیسے وہ ان کا لنگوٹیا یار ہو۔ تعارف کرواتے ہوئے ان کا جوش دیدنی ہوتا ہے۔ یوں کہ آپ کو لگے گا کہ ان دونوں کا آپس میں جو تعلق اور قربت ہے، وہ کسی اور کا نہیں ہوسکتا اور جب تعلق کی تفصیل بتاتے ہوئے یہ اس کی گہرائی اور ”لمبائی“ واضح کرتے ہیں تو آپ اپنا سر پکڑ کر رہ جاتے ہیں۔ مثلاً کسی افسر سے اپنے "قریبی" تعلق کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ کہیں گے کہ میری بیوی کی سگی پھوپھی کے داماد کا خالو یہاں اپنے شہر میں آج کل نائب تحصیل دار ہے اور ابھی آپ اس اتنے نزدیکی تعلق کی بھول بھلیوں میں ہی گم ہوں گے کہ یہ اس کی قربت کو اور بھی واضح کرتے ہوئے مزید جوش سے بتائیں گے کہ یہ وہی افسر ہے، جس کے والد کی شادی میں ان کے والد شرکت کرنے گئے تھے اور یہ اگرچہ بہت چھوٹے تھے، لیکن یہ بھی اپنے والد کے ساتھ شادی میں گئے تھے۔

ان کی جیب میں ایسے کئی ”قریبی افسران“ کے وزیٹنگ کارڈ موجود رہتے ہیں، جو تعلق کی سند کے طور پر یہ اکثر دکھاتے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اکثر اوقات ان حضرات کے پاس ایک پھٹی پرانی اور بڑی بوسیدہ سی پاکٹ ڈائری بھی ہوتی ہے، جس میں ان احباب/ افسران کے فون نمبرز اور پتے وغیرہ درج ہوتے ہیں، جو لگتا ہے کہ بوجوہ ان کو اپنے وزیٹنگ کارڈ دینے سے معذرت کر لیتے ہوں گے۔ ان افسران سے اپنائیت کی سطح بتانے کے لیے یہ ڈائری بھی ایک بڑا کردار ادا کرتی رہتی ہے۔ کسی بھی افسر سے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے ان حضرات کا آخری جملہ بڑا معنی خیز اور دردناک ہوتا ہے۔ اکثر اوقات اس موقعے پر آکر ان کا چہرہ ان کی گفتگو کا ساتھ نہیں دیتا۔ جملہ یہ ہوتا ہے، ”اب ایک عرصے سے ہم نے فلاں افسر سے میل ملاپ بند کیا ہوا ہے۔“ سننے والے کے لیے یہ جاننا چنداں مشکل نہیں ہوتا کہ یہ "ترکِ تعلق" اختیاری ہے یا اضطراری۔

ان حضرات کی تیسری خوبی یہ ہے کہ یہ اپنی ناکامیوں کے لیے ہمیشہ کسی دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ یہ ہمیشہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ فلاں شخص کی وجہ سے انہیں آج یہ دن دیکھنا پڑا۔ یہ ہمیشہ  اپنے والدین، پڑوسیوں، بہن بھائیوں اور دیگر عزیز و اقارب کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ یہ اپنی ناکامی کو کالے جادوں سے لے کر دوسروں کی سازشوں اور غلطیوں میں ڈھونڈنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ یہ پہلے پہل کسی بھی کام کے لیے باقاعدہ آپ کے پیچھے پڑھ کر مشورہ مانگیں گے اور اگر غلطی سے آپ نے کوئی مشورہ دے دیا تو بس پھر اس کے بعد اس کام میں کسی بھی کمی، خامی، کوتاہی یا ناکامی کی تمام تر ذمہ داری آپ پر ہے۔ جب بھی آپ کو دیکھیں گے یا کہیں آپ کا نام سنیں گے تو انہیں فوراً یاد آئے گا کہ او ہو آپ کے مشورے سے تو ان کا نقصان ہوگیا تھا، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اپنی ساری ناکامیوں کے ہمراہ آپ کے سارے مشوروں کی فہرست بناکر آپ کو اپنی ساری زندگی کی بربادی کا ہی ذمہ دار قرار دے دیں۔

ایسے نکھٹو برادران عادتاً بہت بری طرح انانیت کے شکار ہوتے ہیں۔ یہ دوسروں کو یہی سمجھاتے رہتے ہیں کہ ان کے پڑوسی خیر دین سے لے کر امریکی صدر تک، تمام لوگ ان سے جلتے ہیں اور پورے زور و شور سے بس انہیں ناکام کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ یہ ہر کسی کو بتاتے ہیں کہ ان کے آس پاس موجود کئی لوگوں کا ٹاپ ایجنڈا صرف ان کے راستے میں روڑے اٹکانا ہے اور وہ سب بڑی تندہی سے اسی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے خیال میں لوگوں کے ضروری کاموں میں سے پہلا اور ضروری کام انہیں ناکام کرنے کی سازشیں کرنا ہے۔ نکھٹو حضرات کے مطابق اُن کے دشمنوں کا ایک پورا نظامِ شمسی ہے، جو پورے شد و مد کے ساتھ انہیں ناکام کرنے پر تلا ہوا ہے۔ قریبی رشتے داروں کی صورت میں خفیہ ایجنسیاں ان کے درپے ہیں اور وہ کئی گہری بھیانک سازشوں کی زد پہ ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے بیوی بچوں، بہن بھائیوں، دوستوں، ہمسایوں، عزیزوں، حتی کہ استادوں  سمیت سب کو اپنا دشمن یا پھر اپنے مقابلے میں نااہل سمجھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اکیلے لائق بن کر سب سے بیزار اور دور دور رہتے ہیں۔

ان حضرات کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ ہر جگہ دوسروں کو اپنی بیساکھی کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے جو بندہ بھی ان کے ترقیاتی منصوبے سنتا ہے، وہ اگلے ہی دن ان سے علیحدگی کا اعلان کر دیتا ہے۔ ان کے منصوبے کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں، مثلا یہ کہ آئیں مل کر چینی کا کارخانہ لگاتے ہیں۔ اب کارخانہ یوں لگے گا کہ پلاٹ آپ خریدیں گے اور وہاں حفاظتی پہرہ یہ دیں گے۔ اس پہرے کے دوران ان کا کھانا اور رہائش بھی آپ کے ذمہ ہوگی۔ یہ ساتھ ساتھ اپنا ہوٹل بھی چلائیں گے۔ جب خریدے ہوئے پلاٹ پر بلڈنگ بن جائے گی تو اس میں کمروں کی تقسیم اور لیبرز کی بھرتی ان کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ البتہ یاد رہے کہ لیبرز کو تنخواہ آپ دیں گے۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ بلڈنگ اور پلاٹ وغیرہ یہ ساری جائیداد نیز بینک اکاونٹس آپ کے بجائے اُن کے نام ہوں گے اور یا پھر مشترکہ۔۔۔

ہر شخص پر تنقید کرنا ان کی اصلی شناخت ہے۔ یہ خود بھلے سائیکلوں کو پنکچر لگانے کا کام کر رہے ہوں، لیکن یہ آپ کو بتائیں گے کہ وزیراعظم نے اپنی آخری تقریر میں کون سی غلطیاں کیں اور انہیں کس جگہ پر کیا بولنا چاہیئے تھا۔ کس سیاسی یا قومی جماعت یا لیڈر کی پالیسیوں میں کیا کیا خامیاں اور نقائص ہیں، کسی بھی تھیوری، کامیاب انسان یا اچھے منصوبے یا مقبول شخصیت کا ذکر ان کے سامنے کریں تو یہ اس میں پچاس خامیاں تو فوراً ہی نکال کر دکھا دیں گے۔ یہ لوگ ازلی مایوس اور کنجوس ہوتے ہیں۔ ان کی ایک مستقل اور پکی عادت یہ ہوتی ہے کہ پکائیں دوسرے اور کھائیں ہم، لگائیں دوسرے اور کمائیں ہم، کاروبار میں جان کھپائیں دوسرے اور منافع اٹھائیں ہم۔۔۔ اگر کوئی سمجھدار آدمی ان کی باتوں کو سمجھ جائے تو پھر چاہے وہ دنیا کے کسی دوسرے کنارے پر بھی چلا جائے، اس کے باوجود انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ کمبخت ہمیں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

ایسے افراد اڑتیس سے چالیس سال کی عمر میں ہی اپنے آپ کو ریٹائرڈ اور بوڑھا تصور کرتے ہیں اور اسی عمر میں ہی اپنے کام اور فرائض وغیرہ اپنے کمسن بچوں کو سونپتے ہوئے یہ کہتے پائے جاتے ہیں ”بھئی! ہم نے تو جو کرنا تھا کر لیا۔ اب آگے بچے جانیں اور ان کا کام۔“ یا ”اب تو ہماری امیدوں کا واحد مرکز بچے ہی ہیں۔“ گویا یہ اب بھی کچھ کرنے کی ذمہ داری بچوں پر ہی ڈال رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ چونکہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے آنکھیں اور کان بند کرکے انہیں فائدہ پہنچائیں۔ لہذا دوسرے اکثر ان کے نزدیک غدار، چال باز، دوغلے اور منافق ہوتے ہیں۔ یہ خود ایسے مومن ہوتے ہیں کہ یہ اظہار تشکر کی نعمت سے یکسر محروم ہوتے ہیں۔ جب تک یہ دوسرے کو سو فیصد نگل نہ لیں، تب تک یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے نے ان کے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی۔ لہذا یہ کسی عزیز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھے جاتے، بلکہ اباو اجداد و ہمسایوں سے لے کر اولاد تک سب سے گلہ مند ہوتے ہیں۔

ان حضرات کی خاص عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ sharing پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے پاس کچھ بھی ہو۔ پیسہ، ہنر، وقت، علم، نظریہ۔ چنانچہ ایک ٹیڈی پیسہ ہو یا کتاب یا پھر کلاس میں تیار شدہ نوٹس، یہ کسی کو دینے میں انتہائی بخل سے کام لیتے ہیں،  بلکہ اکثر یہ ایسے لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں، جن کے بارے میں انہیں پتہ ہو کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت ہے۔ نکھٹو حضرات بلا کے مفاد پرست ہوتے ہیں اور مجال ہے کہ جو انہوں نے اپنے کسی قریبی سے قریبی انسان کی زندگی میں کوئی value add کی ہو۔ یہ بدگمانی کے شکار اور شک میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ یہی سوچتے ہیں کہ اگر کسی کو کچھ دیں تو آگے سے کیا ملے گا، بلکہ کچھ دئیے بغیر ہی انہیں یقین ہوتا ہے کہ اگر کسی کو کچھ دیا تو پکا نقصان ہی ہو جائے گا۔ دوسری طرف سے یہ ہمیشہ امیدوار رہتے ہیں کہ دوسرے عزیز و اقارب اور بہن بھائی اپنا سب کچھ حتی کہ اپنے خصوصی مسائل اور مشورے بھی ان کے ساتھ شئیر کریں۔ قصہ مختصر جتنے لوگوں میں ہم نے یہ پیاری پیاری خوبیاں دیکھی ہیں، انہیں زندگی بھر ناکام اور ہاتھ ملتے نیز گلے و شکوے کرتے ہی پایا ہے۔ لہذا اگر کامیاب بننا ہے تو ہمیں یہ عادات ترک کرنی ہونگی۔
خبر کا کوڈ : 901147
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

شفیق چغتائی
Iran, Islamic Republic of
معاشرے کے ضروری اور زندہ مسائل پر بہترین تحریر ہے
United States
وقار نقوی کی طرف سے سلام عرض ہے. استفادہ کیا. ضمیر بیدار کرنے پر شکریہ
ہماری پیشکش