10
Sunday 13 Dec 2020 04:00

عرب اسلامی دنیا کے خائنوں کے بے نقاب ہونے کا موسم

عرب اسلامی دنیا کے خائنوں کے بے نقاب ہونے کا موسم
تحریر:  محمد سلمان مہدی

فلسطین پر ناجائز قبضہ کرکے نسل پرستانہ بنیادوں پر قائم ہونے والی جعلی ریاست اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان کے بعد اب مراکش کے رسمی تعلقات قائم کرنے کا اعلان ہوا ہے اور یہ اعلان بھی پچھلے اعلانات کی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہے۔ اس حوالے سے حقیقت کا اہم ترین رخ ان اعلانات کی خبروں میں استعمال کیا جانے والا انگریزی لفظ ہے۔ جب کسی ملک کو رسمی طور پر مملکت مان لیا جاتا ہے تو انگریزی میں اس کے لیے لفظ ریکگنائز استعمال ہوتا ہے، لیکن ان عرب مسلمان ممالک کی حکومتوں کے اسرائیل کے ساتھ رسمی اور اعلانیہ تعلقات کے بارے میں جو رپورٹس امریکی و یورپی و اسرائیلی میڈیا نے جاری کیں، ان میں نارملائزیشن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس سے تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ملک اسرائیل کو پہلے ہی درپردہ تسلیم کرچکے تھے، اب تعلقات کو نارملائز کرنے کا رسمی اعلان ہوا ہے، یعنی معمول کے مطابق تعلقات جو اعلانیہ ہوتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے حوالے سے جب خبر آئی تو اس میں یہ حقیقت بھی شامل تھی کہ ربع صدی یعنی کم و بیش پچیس برسوں سے امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات تھے اور خاص طور پر انٹیلی جنس اداروں کے مابین روابط تھے۔ اب مراکش کے حوالے سے جو خبر آئی ہے، اس میں انکشاف ہوا کہ پچھلے ساٹھ برسوں سے دونوں ملکوں کے مابین خفیہ طور انٹیلی جنس، سکیورٹی اور سفارتی ایشوز پر خفیہ تعاون کا سلسلہ جاری تھا۔

گو کہ ہفتہ 12 دسمبر 2020ء کو بھوٹان کے ساتھ بھی اسرائیل نے پہلی مرتبہ مکمل تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ اعلان نئی دہلی میں اسرائیلی اور بھوٹانی سفیروں نے فائنل ایگریمنٹ پر دستخط کے ذریعے کیا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ایک ایسے ملک کہ جو بھارت اور چین دونوں کے پڑوس میں واقع ہو، وہ اسرائیل کے ساتھ اس نوعیت کا معاہدہ ایسے وقت کرے کہ جب بھارتی بری فوج کے سربراہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے دورے پر ہوں اور دورہ بھی ایسا تاریخی کہ جو تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہو۔ یروشلم پوسٹ کی خبر کے مطابق بھوٹان اور اسرائیل کے سفیر پچھلے سال سے خفیہ مذاکرات میں مصروف تھے۔ البتہ بھوٹان کا معاملہ جدا ہے، کیونکہ چار عرب مسلمان ملکوں سے اسرائیل نے نام نہاد ابراہام اکارڈ کے تحت معاہدہ کیا ہے۔ چونکہ بھوٹان سارک کا رکن ملک بھی ہے اور چین کا بھی پڑوسی ہے تو اس تناظر میں پاکستان اور چین کی قیادت بھی ان اہم ڈیولپمنٹس کو نظر انداز نہیں کر رہیں ہوں گی۔ خاص طور بھارتی آرمی چیف کا دورہ متحدہ عرب امارات و سعودی عرب۔ یہ موجودہ صورتحال کا دوسرا رخ ہے۔ تیسرا رخ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور فرانس نے سال 2017ء میں ایک انٹرنیشنل سکیورٹی الائنس بنایا تھا، جس میں بدھ کی شب اسرائیل بھی رسمی طور پر شامل ہوچکا ہے۔ اس شمولیت کے بعد اب اس سکیورٹی اتحاد کے کل دس اراکین ہیں۔ بقیہ سات رکن ممالک میں بحرین اور مراکش، اٹلی، سینیگال، سنگاپور، اسپین، سلوواکیہ شامل ہیں۔

اس تحریر کے عنوان میں ہی ان عرب حکومتوں کو عرب اسلامی دنیا کے خائن کے لقب سے یاد کرنے کا سبب یہ ہے کہ درپردہ یہ سبھی ایک طویل عرصے سے اسرائیل کے آلہ کار بنے ہوئے تھے، لیکن خود کو او آئی سی اور عرب لیگ کے ذریعے عرب اور مسلمان دوست ظاہر کیا کرتے تھے۔ اب ان کے چہرے سے نقاب اتر رہی ہے۔  ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق مراکش کیساتھ اسرائیل کے بانی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے سال 1961ء میں خفیہ معاہدہ کیا۔ سال 1965ء میں مراکش کے حکمران شاہ حسن دوم موساد کے سہولت کار بنے۔ انہوں نے مراکش کا دورہ کرنے والے عرب حکمرانوں کے اجلاس اور ان کے کمروں تک کی جاسوسی کی سہولت موساد کو فراہم کی۔ مراکش ہی نے موساد کو وہ سہولیات فراہم کیں کہ جس کی وجہ سے اسرائیل کو تین عرب ملکوں کی قیادت کی منصوبہ بندی سے آگاہی حاصل ہوئی اور اسی آگاہی کی وجہ سے 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے تین عرب ملکوں کی افواج کو شکست دے کر بیت المقدس پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔

اس ضمن میں اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل شلومو غازیت نے سال 2016ء میں حقائق کا انکشاف کیا تھا۔ اسرائیل نے ڈبل گیم کھیلتے ہوئے مراکش کے شاہ حسن کو بتایا کہ جلاوطن مخالف سیاستدان مہدی بن برکہ مراکش کے حکمران کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش کر رہا ہے، جبکہ مہدی بن برکہ کے حوالے سے بھی یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں بھی اسرائیل ہی نے شاہ حسن کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش میں ساتھ دینے کا یقین دلایا تھا۔ یوں شاہ حسن کو خوش کرنے کے لیے مہدی بن برکہ کو فرانس میں تشدد کرکے قتل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی لاش موساد کے ایجنٹوں نے اس طرح چھپائی کہ کسی کو پتہ نہیں کہ وہ لاش کہاں دفن ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم مناخم بیگن اور مصری صدر انور سادات کے مشیروں کے مابین ملاقاتوں اور مذاکرات کی میزبانی میں بھی مراکش حکومت پیش پیش رہی۔ یعنی کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے کے لیے اسرائیل کے مصر سے تعلقات قائم کروانے میں بھی مراکش کی حکومت بھی ایک اہم پس پردہ ذریعہ بنی۔ انور سادات کی مصری حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔

شمعون پیریز نے اسرائیلی وزیراعظم کی حیثیت سے 1986ء میں مراکش کے شاہ حسن سے ملاقات کی تھی۔ ستمبر 1994ء میں لاس اینجلس ٹائمز نے رپورٹ دی کہ مراکش اسرائیل سے رسمی تعلق قائم کرنے والا دوسرا عرب ملک بن گیا، جبکہ اردن نے بھی اسرائیل کو 1994ء ہی میں تسلیم کیا تھا۔ یہ محض چند مثالیں ہیں۔ ورنہ یاسر عرفات اور تنظیم آزادی فلسطین کے خلاف خفیہ اسرائیلی سازشوں میں بھی مراکش کا کردار فلسطین دوست حلقوں میں زیر بحث رہا۔ تو مراکش کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا اعلان آگاہ افراد کے لیے کوئی نئی خبر نہیں ہے، کیونکہ ان اہم عرب ممالک کی عرب عوام اور امت اسلامی سے خیانتوں کی ایک طویل تاریخ ہے  اور یہ بھی یاد رہے کہ مراکش اور اسرائیل کے مابین تعلق کا ایک ذریعہ سعودی عرب بھی ہے۔

اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرنے سے پہلے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ایک طویل دورانیہ کا ڈرامہ مختلف قسطوں میں رچایا گیا۔ ایران کو ایک دشمن ملک کے عنوان سے پیش کیا گیا۔ او آئی سی مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کے ردعمل می بنی تھی اور او آئی سی بننے کا سبب اسرائیل تھا، جو کہ عالم اسلام و عرب کا دشمن تھا۔ انقلاب اسلامی ایران کے بعد رفتہ رفتہ ایران کا میڈیا ٹرائل کرکے اس پر جھوٹے الزامات لگا کر ماحول بنایا گیا۔ یہ سب کچھ زایونسٹ امریکی بلاک یعنی عبری عربی غربی اتحاد کے خفیہ مشترکہ ایجنڈا کے تحت کیا گیا۔ ایک طرف صدام کے ذریعے جنگ مسلط کی گئی۔ وہ جنگ ختم ہوئی تو پاکستان میں زیر تربیت ایرانی فوجی کیڈٹس اور سفارتکاروں کو شہید کیا گیا۔ اس طرح پاکستان ایران تعلقات خراب کرنیکی منظم سازش کی۔ جب ایران بھارت تعلقات بہتر ہوئے تو اس پر پاکستان میں ایران کا میڈیا ٹرائل کیا گیا، حالانکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بھارت کے ساتھ تعلقات تب بھی ایران کی نسبت زیادہ وسیع اور بہترین تھے۔

انقلاب اسلامی ایران سے پہلے پاکستان پہلا غیر عرب ملک تھا کہ جس نے 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں باقاعدہ فوجی لحاظ سے شرکت کی۔ نہ صرف شرکت کی بلکہ شام کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی طیارہ بھی مار گرایا۔ انقلاب اسلامی کے بعد ایران نے بھی بانیان پاکستان کی طرح بے لچک فلسطین پالیسی بنائی۔ پاکستان اور ایران دونوں اسرائیل کے شدید مخالف تھے اور یوں دونوں فطری اتحادی بھی تھے، لیکن خائن زایونسٹ عرب حکمرانوں نے پاکستان کو بلیک میل کرکے ایران سے دور کیا۔ درحقیقت ان عرب ممالک کا خود کا کوئی ایک بھی ایسا مفاد نہیں تھا اور نہ ہی ہے کہ جس کی وجہ سے یہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر خود کو مجبور پاتے، بلکہ معاملہ برعکس ہے۔ یہ نسل پرست یہودی قبضہ گروپ اسرائیل کے ناجائز مفادات کے آلہ کار اور سہولت کار بنے۔ او آئی سی سعودی عرب کی میزبانی میں بنی۔ پاکستان بھی بانی ملک تھا۔ ایران بھی او آئی سی کا رکن ملک تھا۔ یہ ایک فطری اتحاد تھے اور سارے مسلمان ملک چہ عرب و چہ غیر عرب سبھی فطری اتحادی تھے، لیکن بتدریج سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے او آئی سی کو بھی اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ایران کو وہاں سے بھی مائنس کرنا شروع کیا۔

ریاست پاکستان نے اس حوالے سے جس طرح کا کردار ادا کیا، یہ اس کا مکافات عمل ہے کہ بعد ازاں سعودی، اماراتی بحرینی حکمرانوں نے ریاست پاکستان کے ساتھ بھی ایران جیسا سلوک کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کے مفاد میں ایران سے تعلق منقطع کرنے والوں نے پاکستان کی قیمت پر بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھائے۔ آج جب ہم یہ تحریر لکھ رہے ہیں تو بھارت کے آرمی چیف امارات کے دورے کے بعد سعودی عرب میں موجود ہیں۔ کہاں بھارت، کہاں امارات اور سعودی عرب! بھارت کو اپنا پڑوسی ملک پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا اور بن گیا سگا بھائی عربوں کا۔ جی سی سی ممالک کو بھارت کی بری فوج سے کونسی مدد، کونسا تعاون درکار ہے! وہاں تو پاکستان کے سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف بنفس نفیس سعودی ملازم موجود ہیں۔  تو کیا ان کے ہوتے ہوئے بھی سعودی حکمران مطمئن نہیں!؟ اس ساری صورتحال میں اور کیا نظر آتا ہے سوائے خیانت در خیانت در خیانت۔ یہ عرب مسلمان نما شاہ و شیوخ جو عرب قوم کے خائن اور غدار ہیں، یہ جو مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے بعد بھی اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ یہ جو فلسطین کے مظلوم عربوں کی آزادی کی جنگ لڑنے کی بجائے اسرائیل کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ اب تو یہ سارے خائن اور غدار بے نقاب ہوچکے ہیں۔ حیف ہے ریاست پاکستان کے ان حکام پر جو اب بھی ان خائنوں، غداروں سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 903398
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش