1
2
Saturday 16 Jan 2021 22:20

حضرت زہراء (س) کی حیات طیبہ کے چند لازوال پہلو (اسوه حسنه)

حضرت زہراء (س) کی حیات طیبہ کے چند لازوال پہلو (اسوه حسنه)
تحریر: بشیر مقدسی

مؤثر اور عہد ساز انسانوں کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض انسانوں کی سیرت اور کردار کی اثر آفرینی مختصر لمحوں  کے بعد معدوم ہو جاتی ہے اور بعض افراد کے کردار کی پختگی دوچار نسلوں تک  اثر آفریں ہوتی ہے لیکن کچھ ایسے کامل افراد بھی تاریخ میں دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جن کی شخصیت ان کی سیرت و کردار کے آئینہ میں یوں ظاہر ہوتی ہے کہ اس کی تابناکی زمان و مکان کی حدود سے گذر جاتی ہے اور ہر عہد و عصر، ہررنگ و نسل اور ہر تہذیب انسانی کے لئے برابر کے شریک ہو کر، درخشاں تابناک، اسوہ حسنہ بن جاتی ہے۔ حضرت زہرا سلام الله علیها کی حیات طیبہ بھی انفرادی اور سماجی لحاظ سے اس قدر پر فروغ اور حیرت انگیز ہے کہ اسکی تعبیر الفاظ میں نہیں کی جا سکتی ہے۔ حضرت زہرا سلام الله علیها کی نورانی شخصیت کا تأثر وقت کی سطح پر بہتا ہوا وہ دریائے ناپیدا کنار ہے جس سے ہر شخص بقدر بضاعت فیضیاب ہو سکتا ہےـ 

تمام انسانی کمالات اورخصوصیات میں بینظیر اور بیمثال ہونے کے ناطے، حضرت زہرا سلام الله علیها کی ذات گرامی جویندگان راہ کمال انسانیت اور رہروان راہ وصول الی الخالق، کیلئے بہترین سرمشق اور مشعل راہ کی حثیت رکھتی ہےـ یہ وہ ہستی ہے  کہ جسکی تعظیم کے لئے رسالت نے قیام فرمایا اور انکے حجت خدا ہونے کا واضح ثبوت پیش کردیا۔ یہ وہ ہستی ہے جس کی مدح میں قرآن ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر  نظر آیا۔ یہ وہ ہستی ہے جسے  معصومین نے اپنا اسوہ قرار دیا چنانچہ  امام مہدی علیہ السلام  سیرت حضرت فاطمہ سلام الله علیها کے اسوائیت کے پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں، "ان لی فی بنت رسول الله اسوہ حسنه"۔  بنت رسول کی زندگی میرے لئے بہترین اسوہ حسنہ ہے۔ نیز علامہ اقبال بھی اسی اسوائیت کے پہلو  کو اپنے ایمان افروز اشعار میں نمایاں  طور پر بیان کرتے ہوئے  کہتے ہیں:
مزرع تسلیم را حاصل بتول                                                     
مادران را اسوہ کامل بتول


اس  مختصر مضمون میں ہم حضرت زہرا سلام الله علیها کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں میں سے چند اہم اور عصر حاضر  کے لئے راھگشا  نمونے  بقدر بضاعت نگارش میں لانے کی کوشش کرینگے، جو نہ فقط ہماری زندگی کو صبغہ اسلامی سے مزین کرینگے بلکہ بہت سارے معاشرتی مسائل اور مشکلات  کے حل کے لئے رہنما اور معاون بھی ثابت ہونگے مگر یہاں ممکن ہے بعض کے ذہن میں یہ سوال ابھر آیا ہو کیا زندگی میں سرمشق اور نمونہ عمل کا ہونا،‎ ناگزیر ہے؟ ذیل میں بطور مختصر بیان کرینگے کہ ضرورت سرمشق زندگی کے متعلق اسلامی نقطہ نگاہ کیا ہے۔

نمونہ عمل اور اس کی ضرورت:
دنیا میں کوئی بھی شخص بغیر نمونہ عمل کے زندگی نہیں گذارتا ہے، بعض دانستہ طور پر اور بعض نادانستہ طور پر کسی کو اپنا آئیڈیل بنائے ہیں اور اس مضمون میں   نمونہ عمل سے مراد،‎ عمل اور فکر کا وہ عینی اور مشہود نمونہ ہے کہ کمال انسانیت تک رسائی حاصل کرنے کیلئے جس کا اتباع کیا جاتا ہے، شہید مطہری علیہ الرحمہ (اپنی کتاب انسان کامل میں) اسکی ضرورت پر تقریبا گیارہ دلیلیں پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسانیت  کے کمال تک رسائی حاصل کرنے کیلئے انسان کامل سے راہ کمال کا سیکھنا اور اسکا اتباع کرنا ضروری ہے، اسکے بغیر وہ اس مقام تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ہے، چنانچہ قرآن کریم میں رب العزت کا ارشاد ہو رہا ہے، "لقد کان لکم فی رسول الله اسوہ حسنه" ( سورہ احزاب 21 ).یعنی قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں مصداق اسوہ اور سرمشق کو بیان کرکے یہ بات واضح کر دی کہ اسوہ اور نمونہ عمل کی ضرورت ایک روشن اور  بدیہی شئی ہے جسکا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
 
حضرت زہرا سلام الله علیها کی حیات طیبہ کن لوگوں کے لئے اسوه حسنه بن سکتی ہے؟
جہاں حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیها کی حیات طیبہ ان افراد کیلئے آئیڈل اور نمونہ بن سکتی ہے جو اسلامی طرز زندگی کو فالو کرنے کی تگ و  دو میں  رہتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ انکی زندگی صبغہ الہی اختیار کرے، جو چاہتے ہیں کہ کمال انسانیت اور منتہای عبودیت کے اس ارفع  مقام پر فائز ہوں، جہاں معبود کی ذات کے سوا سب کچھ ہیچ نظر آتا ہے، وہاں ان لوگوں کے لئے بھی سرمشق بن سکتی  ہے جو اپنی معاشرتی زندگی،‎ ازدواجی زندگی اور زندگی کے دیگر شعبوں کے معاملات کو نمٹانے کی سعی اور کوشش میں ہوتے ہیں۔ لہذا اسلامی طرز زندگی کو بطور شیوہ حیات  قرار دیکر کمال انسانیت تک رسائی کا خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب ہم کسی ایسے انسان کامل جو عظمتوں اور انسانی اقدار کی بلند و بالا چوٹیوں پر فائز ہو کو اپنا نمونہ عمل اور آئیڈیل قرار دیں گے۔ نیز اسکی سیرت و فضائل پر صرف داد دیکر  انہیں وادی نسیان کی نذر کرنے کی بجائے اس پر من و عن عمل کریں گے، چونکہ  انکی سیرت،‎ کمال  انسانیت تک پہنچانے کا الٰہی نسخہ ہوا کرتی ہے اور جس طرح دوائی کھائے بنا صرف ڈاکٹر کی تجویز کو داد دینے سے بیمار ٹھیک نہیں ہوتا ہے بالکل اسی طرح بطور آئیڈیل معرفی شدہ ہستیوں کی سیرت کو اپنی زندگی کا شیوہ اور طرز عمل قرار دیئے بغیر کمال انسانیت تک رسائی بھی  ممکن نہیں ہے۔

مگر افسوس آج مسلمان اس قدر فرنگی ظاہری جلوؤں سے اس قدر مرعوب ہو چکے ہیں کہ اپنے معنوی رول ماڈلز کی طرز زندگی سے دور ہو گئے ہیں۔ فرنگی طرز زندگی کو اپنے لئے اعزاز سمجھنے لگے ہیں اور بعض تو اس قدر فریبندہ فرنگی کلچر کے دلدادہ ہو گئے ہیں کہ اپنے الٰہی رولز ماڈل کے متعلق زبان درازی کرتے ہوئے کہتے ہیں چودہ سو سال پہلے کی طرز زندگی کیونکر اس وقت کیلئے رول ماڈلز بن سکتی ہے؟ "زین لهم الشیطان ما کانوا یعملون" انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ اسلامی اور انسانی اقدار کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو موسم کے ساتھ تبدیل ہو جائے یہ زندگی کے وہ ثابت اور لاتغییر اصول ہیں جو رہتی دنیا تک برقرار رہنے والے ہیں۔ حضرت زہرا (س) کی حیات طیبہ انہی اقدار کا عملی نمونہ ہے جسے اللہ نے انسانوں کے لئے بطور رول ماڈل متعارف کروایا ہے۔

لہٰذا اس گروہ کا عقیدہ درست نہیں ہے جو آئمہ  علیه السلام کو انسانوں سے مختلف مخلوق قرار دیکر کہتے ہیں نمونہ عمل قرار پانے کیلئے اسوہ اور اسوہ کی اتباع کرنے والے کی زندگی میں سنخیت کا پایا جانا ضروری ہے جبکہ ہماری زندگی اور آئمہ کی زندگی میں کوئی سنخیت نہیں پائی جاتی ہے۔ انکے وجود نوری ہیں جبکہ ہم خاکی ہیں، لہٰذا انکی زندگی ہمارے لئے قابل عمل نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالی،‎ رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کو انسانوں کے لئے اسوہ حسنہ کے طور پر پیش کرتا اور نہ ہی رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم معصومین علیهم السلام کی زندگی کو نجات کا ضامن قرار دیتے ہوئے انکی اتباع اور پیروی کا حکم دیتے،‎ لہٰذا معلوم ہوا کہ یقینا قابل عمل ہے اور انسانیت کی نجات انہی ہستیوں کے اتباع میں مضمر ہے۔

حضرت زہرا  سلام الله علیها کو اسوہ  قرار دینے کا مطلب:
واضح رہے کہ حضرت زہرا سلام الله علیها کی فضیلتیں دو طرح کی ہیں، فضائل نفسی  اور نسبی۔ فضائل نفسی،‎ بغیر کسی نسبت کے انسان میں پائے جانے والے فضائل کو کہا جاتا ہے اور کسی سے منتسب ہونے کے نتیجے میں  ملنے والے فضائل کو فضائل نسبی کہا جاتا ہے۔ (سید جواد نقوی، کتابچه ،حضرت زهرا الگو حسنه) پس  حضرت زہرا اسوہ ہیں اسکا مطلب کیا ہے؟ اسکا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ سب خواتین امام کی ہمسر بنیں یا سب امام کی ماں بنیں بلکہ اسوہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان صفات اور خصوصیات میں حضرت زہرا سلام الله علیها کی پیروی کی جائے جن کی وجہ سے وہ اس قابل ہوئیں کہ امام کی ماں بنیں، ان صفات میں ان کا اتباع کیا جائے جن کے پرتو میں وہ  حق و باطل کی معیار بن کر یوں ابھریں کہ زبان وحی جنبش میں آئی اور حدیث "ان اللہ لیغضب لغضبک و یرضی لرضاک" (کے ذریعے  حضرت فاطمہ سلام الله علیها کے سر پر عصمت و طہارت کا لازوال سہرہ سجا دیا۔

سیرت حضرت زهرا کے چند لازوال نقوش:
جامعیت  کے ناطے دین اسلام کا اپنا طرز حیات ہے اور یہ لائف پیٹرن دین و دنیا دونوں میں کامیابی کا ضامن ہے اور قدم قدم پر انسانیت کی راہنمائی کرتا ہے اور ہدایت کے لئے نمونہ عمل کا بندوبست بھی کیا ہے تاکہ انکی  سیرت کے مطابق اپنی زندگیاں استوار کریں۔ انہی ہستیوں میں سے ایک اعلٰی نمونہ اور اسوہ حسنہ والی ہستی حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیها کی ذات گرامی ہے، جسے ہمارے لئے اعلٰی مثال اور عظیم نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ ان مذکورہ قابل الگو فضائل میں اسطرح حضرت زہرا سلام الله علیها کا اتباع کیا جائے کہ ہماری زندگی حضرت زہرا سلام الله علیها کی حیات طیبہ کے سانچے میں یوں ڈھل جائے کہ انکی دلی محبت  اور انکی عقیدت ہمارے ہر عمل سے چھلک پڑے۔ یہاں انکے تمام فضائل کا ذکر اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں، لہٰذا ذیل میں اختصار کے ساتھ  چند اہم راھگشا نقوش زیب قرطاس کرونگاـ

1. ازدواجی زندگی:  
جب اہل قلم حضرت زہرا سلام الله علیها کی ازدواجی زندگی پر قلم اٹھاتے ہیں تو حضرت زہراسلام الله علیها کی صرف گھریلو اخلاقیات ان کے مدنظر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے شہزادی کونین کی شادی بیاہ کی نہایت سادہ  رسومات پر کماحقہ   قلم نہیں اٹھایا گیا جبکہ ازدواجی زندگی شادی بیاہ اور حق مہر کو بھی شامل ہوتی ہے۔ اس مختصر مضمون میں اس مبارک رشتے کا تفصیلی بیان ممکن نہیں، تاریخ کے مطابق آپ جیسے بالغ ہوئیں آپکے لئے رشتے آنا شروع  ہوئے بالآخر حضرت امام علی علیه السلام سے آپ کی شادی ہونا طے پایا تو پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم  کے حکم پر حضرت امام علی  علیه السلام نے اپنی ذرہ بیچ کر مہر کی رقم حضور اکرم  کے حوالہ کردی اور پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم نے اس رقم کو تین حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ شہزادی کی گھریلو ضروریات کے لئے مختص کیا، دوسرا حصہ شادی کے اخراجات کے لئے اور تیسرا حصہ جناب ام سلمہ کے حوالے کردیا اور فرمایا یہ رقم  علی کے حوالہ کردو تاکہ علی اس رقم کے ذریعہ اپنے ولیمہ کے انتظامات کر سکیں۔ (مجلسی، بحارالانوار، ترجمه، ج، 43، ص 409 و  358)۔

کائنات کے عظیم ترین شخص کی با عظمت بیٹی کی شادی کی سادگی دیکھیں کہ ایک ذرہ سے پوری شادی کا اہتمام ہوا جبکہ پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم عالم اسلام کے لیڈر تھے، چاہتے تو شاندار طریقے سے بجا لاسکتے مگر امت کی آسانی اور فضولیات سے بچنے کی خاطر جس سادگی کے ساتھ اس مقدس رشتے کو جوڑ دیا گیا  اس کی تعبیر الفاظ میں نہیں کی جاسکتی ہے۔ لیکن افسوس  کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل کی شادیاں نہ فقط اسلامی نہیں رہی بلکہ ان شادیوں نے تو سیرت فاطمہ الزہرا کا جنازہ ہی نکال دیا ہے اور سنت سے اجنبی ہو کر رہ گئیں ہیں اور جہاں نت نئی خرافات اور رسومات نے شادی  کا اسلامی اور زہرائی چہرہ مسخ کردیا ہے وہیں لایحتاج اور دیکھا دیکھی  فضول خرچیوں  کی وجہ سے شادی ایک عذاب بن گئی ہے۔ اس طرح بنت رسول صلی الله علیه وآله وسلم کی سیرت کو پائمال کرکے ہم نہ فقط رسول اللہ کی تکلیف کا ذریعہ بن رہے ہیں بلکہ سنت رسول کی کمزوری اور غیر اخلاقی امور کے فروغ کا باعث  بھی بن رہے ہیں۔

شادی بیاہ کے سلسلے میں سیرت و سنت سے دور ہونے کی وجہ سے لاکھوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے نکاح گھوم رہے ہیں، جسکے نتیجے میں جتنے فسادات اور فحاشیاں جنم لے رہی ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ سچ یہ ہے کہ دنیا  کے پوچ جلوے اور ظاہری رعنائیوں کے انہماک نے اکثر و بیشتر مسلمانوں کو  روح اسلام سے ایک قلم دور کردیا ہے جسکے نتیجے میں وہ قرآن و سنت کو پس پشت ڈال کر بھاگے جارہے ہیں، "فَما لِهؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً"ـ اسی ضمن میں حضرت زہرا سلام الله علیها کے ایثار کا ایک نمونہ بھی پیش کروں تاریخ کے مطابق حضرت زہرا نے شادی کی رات  سائل کے سوال پر اپنی شادی کا جوڑا جو کہ دلہن کے لئے بہت اہم ہوتا ہے، بخش دیا۔ حضرت زہراسلام الله علیها نے شادی کی رات ہی شادی کا جوڑا سائل کو دیکر اپنے پیرو کاروں کو یہ پیغام دیا کہ شادی کی رات خاص کر محتاجوں اور ضرورتمندوں کا خیال رکھا جائے۔ اگر آج مسلمان اسی شادی بیاہ اور ایثار فاطمہ الزہرا سلام الله علیها کو  بطور نمونہ اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کریں اور سینکڑوں فضول خرچیوں کی بجائے فقیروں اور مسکینوں پر خرچ کرنے کو اپنا شیوہ بنائیں تو  اسلامی معاشرے کی تقدیر بدل جائے گی۔ یقینا اس معاشرے میں کوئی فقیر رہے گا نہ کوئی مسکین بلکہ نتیجتا معاشرے سے بہت سارے فسادات اور غیر اخلاقی امور کا خاتمہ ہوگا۔
 
۲ـ قرآن کی تلاوت:
دنیا کا ہر وہ شخص جو اسلامی طرز زندگی گزارنا چاہتا ہے، قرآن کریم اس کے لئے  ایک ایسا لائحہ عمل ہے، جس کے پرتو میں وہ اسلامی طرز زندگی گزارنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ جس کے لئے تلاوت قرآن ضروری ہے، اسی ضرورت کے پیش نظر  قرآن كريم ميں غالبا ايک آيت ميں كسي حكم كے متعلق دو بار اشاره  نہيں ہوا ہے۔ بلكه ايک آيت ميں ايک  ہي حكم  بيان ہوا ہے، ليكن جب، تلاوت كا تذكره آتا ہے تو قرآن  كريم كا يه انداز بدل جاتا ہے اور ایک ہی آيت ميں دوبار تلاوت قرآن كا مطالبه كرتا ہوا نظر آتا ہے، "فَاقرَؤا ما تَيَسَّرَ مِنَ القُرآن" "فَاقرَؤا ما تَيَسَّرَ مِنه" (مدثر، 20) اس آيت ميں پروردگار نے نصيحت والے انداز ميں قرآن كريم كی قرائت كا مطالبه كركے يه واضح كرديا كه تلاوت اور قرائت قرآن كتنی اهميت كی حامل ہے۔ حضرت زہرا اور قرآن  جیسے موضوعات میں اکثر و بیشتر انکے فضائل  بیان کئے جاتے ہیں  مگر حضرت زہرا کی زندگی میں قرآن کی اہمیت جیسے موضوعات پر بہت کم  قلم اٹھایا جاتا ہے۔

یہاں مختصر انداز بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت فاطمہ الزہراسلام الله علیها کی زندگی مجسمہ قرآن تھی، انکی زندگی کا محور قرآن تھا اس قدر حضرت زہرا سلام الله علیها کو قرائت قرآن سے محبت اور عقیدت تھی کہ فرمایا، "حُبّب اِلَیَّ مِنْ دنیاکُم ثلاثُ: تلاوة کتاب الله والنّظر فی وجه رسول الله والانفاق فی سبیل الله" ( بحارالانوار،‎ ج ۷۹ ص ۲۷،‎) تمہاری دنیا سے تین چیزیں مجھے  پسند ہیں، اللہ کی کتاب کی تلاوت کرنا،‎ رسول کے چہرہ انور کی زیارت کرنا  اور اللہ کی راہ میں انفاق کرنا۔ شہزادی کونین کو تلاوت قرآن سے اسقدر شغف تھا کہ اپنے آخری آیام میں حضرت امام علی علیہ السلام سے  وصیت کرتے ہوئے کثرت سے تلاوت قرآن کرنے کی درخواست کی  اور فرمایا، "وَ أَجْلِسْ عِنْدَ رَأسی قِبَالَةَ وَجْهی فَأَکْثَر مِن تَلاوةِ القُرآنِ وَ الدُّعاءِ فَإنَّها سَاعَةٌ یحْتاجُ اْلَمیتُ فیها إلی أُنسِ الأحیاءِ" (محمد دشتی، نہج الحیاہ ‎ ج ،‎ صیام ص،‎۲۹۵) غرض یہ کہ حضرت زہراسلام الله علیها کی زندگی کا کوئی لمحہ بغیر قرآن کے نہیں گزرتا ہے چنانچہ علامہ اقبال نے اس بیش بہا سیرت  کو کیا خوب شعر کے انداز میں پیش کیا ہے۔
آن ادب پرودہ صبر و رضا 
آسیا گردان و لب قرآن سرا


ليكن افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كه اکثر مسلمانوں كے پاس قرآن كيلئے تھوڑا ٹائم نہيں ہے، یه ايک حقيقت ہے كه ہم نے قرآن كے سلسلے ميں بہت كوتاهی كی ہے ہمارے كاندھوں پر قرآنی حوالے سے تمام ذمه دارياں ہيں كيا ہم اپنے آپ میں مطمئن ہيں كه ہم نے قرآني حوالے سے تمام ذمه داريوں كو  پورا كرديا ہے۔ كمپيوٹر، انگلش  language وغيره سيكھنے ميں هم كئی مہينے صرف كر ديتے ہيں، فضول باتوں ميں كئی گھنٹے ضائع كرديتے ہيں، كيا هم اپنی مقدس كتاب كو سمجھنے كيلئے تھوڑا سا وقت صرف نہيں كرسكتے ہيں؟! هم اپنے بچوں كی مروجه تعليم كا كتنا خيال ركھتے ہيں، كتنا پيسه خرچ كرتے ہيں؟ كيا ہميں اپنے بچوں كی قرآنی تعليم كے حوالے سے اتني فكر هے جتنی انكی دوسری تعليم كے حوالے سے ہے.!؟  كيا ہم اپنے بچوں كی قرآنی تعليم كو اتنی اهميت ديتے ہيں، جتني اهميت انكی دوسري تعليمات كو ديتے ہيں۔

اگر هم سے پوچھا جائے كه تم نے وحي كے بار ے ميں كيا كيا؟ تو كيا جواب ديں گے۔ "و قال الرسول يا ربي ان قومي اتخدوا هذا القرآن مهجورا" کتنا غم انگیز ہے  انکی زندگی جو سینکڑوں صفحات پر مشتمل ناولز وغیرہ تو پڑھ لیتے ہیں مگر قرآن کا ایک صفحہ پڑھنا گوارا نہیں کرتے ہیں۔ کس قدر ماتم کیا جائے انکی فکر پر جو شب قدر تو مناتے ہے مگر وہ  مقدس کتاب جس کی وجہ سے شب قدر کو فضیلت ملی ہے اس سے غافل  ہیں.۔ اللہ نے قرآن اس لئے نازل کیا ہے تاکہ ہماری زندگی انسانیت کے  اعلٰی سانچے میں ڈھل جائے مگر ہم اسی مقدس کتاب سے دور ہیں، جو ہمیں مادی اور معنوی مشکلات سے نکلنے کا سیدھا راستہ بتانے والی ہے۔ چنانچہ رہبر انقلاب کا فرمانا ہے کہ عالم اسلام  کو درپیش چیلنجز کا علاج قرآن کریم کی تعلیمات کے سامنے تسلیم ہونے میں ہی ہے۔

 3. اخلاص:
اخلاص کے لغوی معنی پاک اور صاف ہونے اور خالص ہونے کے ہیں، راغب اصفہانی کہتے ہیں کہ اخلاص سے مراد غیر اللہ سے دل کو پاک کرلینا ہے۔ (راغب اصفہانی،‎ مفردات، ۱۵۵) پس اخلاص کا مطلب کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے خداوندی کو مدنظر رکھنا ہے، جو دنیاوی اغراض اور نفسانی خواہشات سے دوری کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔ شہزادی کونین کے لازوال نقوش میں سے ایک عمل اخلاص ہے جو انکے وجود مبارک میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا،‎ آپ اخلاص کے اس مقام پر فائز تھیں کہ رسول نے فرمایا، "ان اللہ لیغضب لغضبک۔۔۔۔" یعنی اگر کوئی دیکھنا چاہے کہ اللہ اس سے راضی ہے کہ نہیں تو  شہزادی کونین کی طرف دیکھے کہ وہ ان سے راضی ہیں یا نہیں، بی بی کو اللہ تعالی کی رضایت کے سوا  اور کچھ نہیں سوجھتا تھا، چنانچہ کسی دن پیغبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا: جبرئیل آپکی حاجت روائی کے لئے حاضر ہے کوئی حاجت ہو تو بیان کریں، پوری ہو گی تو جواب میں فرمایا: "لا حاجَةَ لِی غَیرُ النَّظَرِ اِلی وَجهِهِ الکَرِیمِ؛" (ریاحین الشریعہ،‎ ج۱ ص، ۱۰۵) سوائے جمال الٰہی کے  دیدار کے اور کوئی آروز نہیں۔  سبحان اللہ اس درجہ معنویت اور رضایت الٰہی کی طلب کہ رب سے رب ہی کے سوا اور کوئی تقاضا نہیں کرتیں ہیں۔

اس روایت کے مطابق حضرت فاطمہ الزہرا سلام الله علیها کی اس خصوصیت میں ان لوگوں کے لئے ایک اہم درس ہے جو رب سے سوائے رب کے سب کچھ تقاضا کرتے ہیں۔ حضرت زہرا (س) اخلاص کے اعلٰی مرتبہ پر فائز تھیں، اسی اخلاص کامل و اکمل  کے نتیجے میں اللہ نے آپ کو بیشمار فضائل سے نوازا چنانچہ رسول خدا فرماتے ہیں:  زہرا کی اخلاص کا نتیجہ تھا کہ وہ اس بلند و بالا مقام پر فائز ہوئیں اور وہ رسول  گرامی کی وارثت اور نسل رسول اللہ کو ادامہ دینے والی صفت جو انہیں کمال اخلاص کے نتیجے میں ملے، "لخصلتین خصّها اللّه بهما، إنّها ورثت رسول اللّه صلی اللّه علیه و آله وسلم، و نسل رسول اللّه صلی اللّه علیه و آله و سلم منها و لم یخصّها بذلک إلّا بفضل إخلاص عرفه من نیّتها مجلسی،" بحار الانوار،‎ ۴۳/۳۷) 
یہ ایک اصل ہے جسے ہم اپنا الگو قرار دے سکتے ہیں اور اپنے تمام فعالیتوں کو کوششوں کا نہائی مقصد اللہ قرار دیں تاکہ ہماری زندگی صبغہ الٰہی اختیار کرے تو اللہ ہمیں بےشمار نعمتوں سے نوازے گا اور دنیا اور آخرت میں سعادت اور کامیابی کا سامان فراہم کرے گا۔ اختصار کی خاطر اسی پر اکتفا کرتے ہوئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو شہزادی کونین کی معرفت کے ساتھ انکی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خبر کا کوڈ : 910633
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Mohammad
Iran, Islamic Republic of
بہت زبردست تحریر ہے۔۔۔
عالی
ما شاء اللہ
منتخب
ہماری پیشکش