0
Thursday 4 Mar 2021 21:41

عین الاسد پر میزائل حملے

عین الاسد پر میزائل حملے
اداریہ
عراق کے صوبہ الانبار میں میں موجود امریکی اڈے پر میزائل داغے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کے مرنے اور زخمی ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ عین الاسد وہی فوجی اڈہ ہے، جس پر ایران نے کئی میزائل داغ کر امریکہ سمیت دنیا کے تمام دفاعی مبصرین کو حیران کر دیا تھا، جو امریکی اڈوں کو ناقابلِ حملہ اور امریکی رعب و دبدبے کی علامت اور اس پر کسی قسم کے حملے کو امریکہ جیسی بڑی فوجی طاقت سے براہ راست جنگ قرار دیتے ہیں۔ ایران نے امریکی فوجی اڈے پر حملے کرکے اس تواہم (Myth) کو ختم کرکے رکھ دیا اور اب چھوٹے چھوٹے مسلح گروہ بھی اپنا غصہ مٹانے کے لیے امریکی تنصیبات پر حملہ کر دیتے ہیں۔

خطے میں سینٹ کام کے نام سے موجود امریکی دہشت گرد فوجی اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ کوئی مسلح گروہ ان کے بڑے فوجی اڈے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس حملے کے ذمہ داروں کے حوالے سے کئی قسم کے تبصرے آرہے ہیں۔ ایک تبصرہ یہ ہے کہ عراق میں وہ مسلح گروہ جو شہید قاسم سلیمانی کو عراق میں اپنا مہمان اور محسن سمجھتے تھے، وہ اپنی انتقام کی آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ عراق کی موجودہ حکومت بھی مصطفیٰ کاظمی کی حکومتی پالیسیوں پر ردعمل سامنے آرہا ہے، کیونکہ عراقی پارلیمنٹ عراق سے امریکی افواج کے انخلا کا قانون پاس کرچکی ہے۔

لیکن مصطفیٰ کاظمی کی حکومت اس قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ ایک اور تجزیہ کچھ ایسے گروہوں کے بارے میں جو عراق میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے مسلح کارروائیاں کر رہے ہیں، تاکہ عراق کے اندر بھی ناامنی رہے اور ساتھ ساتھ ان اقدامات کے ذریعے امریکہ اور ایران کے خلاف کشیدگی کو بھی مزید ہوا ملے۔ ان واقعات کا ذمہ دار بظاہر کوئی بھی ہو، لیکن عراق میں موجود امریکی فورسز ان کارروائیوں کی اصل اور بنیادی وجہ ہیں، اگر امریکہ عراق سے نکل جائے تو کسی بھی گروپ کو اس طرح کی کارروائیوں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ برائی کی جڑ کو ختم کر دیا جائے تو اس کی شاخیں اور اس پر لگنے والے پھل کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 919705
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش