?>?> شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا ویژن(1) - اسلام ٹائمز
0
Saturday 6 Mar 2021 11:05

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا ویژن(1)

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا ویژن(1)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

کسی شخص کے ویژن کا اس کی آئیڈیالوجی سے براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا عالمی، ملکی، قومی اور تنظیمی ویژن آپ کی آئیڈیالوجی کے گرد گھومتا تھا۔ آپ بظاہر شیعہ تنظیموں کے موسس اور امامیہ اور جعفریہ حلقے میں فعال و سرگرم رہے لیکن اس سے ہرگز بہ مراد نہیں کہ آپ کی سوچ، فکر اور ویژن فرقہ وارانہ اور مخصوص کمیونٹی کے لئے تھا۔ یوں بھی تشیع ایک ایسا مکتب ہے جسے بعض کوتاہ فکروں نے ایک فرقے اور مکتب میں قید کر دیا ہے، وگرنہ تشیع وہی اسلام ناب محمدی، حقیقی خالص محمدی اسلام ہے، جس کی طرف بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) نے اپنی تقاریر، پیغامات اور انٹرویوز وغیرہ میں اشارہ کیا ہے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی بھی بنیادی طور پر امام خمینی کے حقیقی پیروکار ہوتے ہوئے اپنے آپ کو خالص محمدی اسلام کے ماننے والے اور اسلامی تحریک کو آگے بڑھانے والی موومنٹ کا حصہ سمجھتے تھے۔ یہاں پر بھی ایک بات بیان کرنا ضروری ہے کہ دین اسلام اگرچہ مسلمانوں کا دین ہے لیکن یہ دین بھی صرف مسلمانوں کے لئے نہیں آیا تھا۔ دین اسلام لانے والے پیغمبر آخر الزمان محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا ایک لقب رحمت للعالمین ہے، یعنی نہ صرف عالم کے لئے بلکہ  تمام عالموں کے لئے۔ اس عالم میں صرف مسلمان نہیں بستے بلکہ اس کو کوئی مانے نہ مانے رسول خدا اس کائنات کے ہر ذی روح بلکہ ذرے ذرے کے لئے نبی و رسول اور ہادی ہیں۔

اس نظریئے اور حقیقی اسلام کا پیروکار، فرقوں، قوموں، مکاتب وغیرہ اور جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہوتا ہے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی نظریاتی اساس چونکہ امام خمینی کے افکار و نظریات تھے، لہذا آپ کا عالمی ویژن بھی وہی تھا جو امام خمینی کا تھا۔ امام خمینی کے اس ویژن کو سمجھنے کے لئے امام خمینی(رہ) کے الہیٰ وصیت نامہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ امام خمینی اپنے وصیت نامے میں رقم طراز ہیں: "اسلام اور اسلامی حکومت مظہر خداوندی ہے، جس پر عمل پیرا ہونے سے فرزندان اسلام کو دنیا و آخرت کی اعلیٰ ترین سعادت حاصل ہو جائے گی اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ ظلم و ستم، لوٹ مار، بدعنوانیوں اور جارحیتوں کا قلع قمع کرکے انسانوں کو کمال مطلوب تک پہنچا دے، یہ ایک ایسا مکتب توحید ہے، جو دوسرے مکاتب فکر کے برعکس انسان کے انفرادی، اجتماعی، مادی، معنوی، ثقافتی، سیاسی، فوجی اور اقتصادی شعبوں میں دخیل ہے اور ان پر نظر رکھتا ہے اور اس نے انسان اور معاشرے کی تربیت اور مادی و معنوی ارتقاء کے سلسلے میں معمولی سے معمولی نکتے کو بھی نظر انداز نہیں کیا، اس نے فرد و جماعت کو ارتقاء میں حائل موانع و مشکلات سے آگاہ کیا ہے اور انہیں دور کرنے کا سلیقہ بتایا ہے۔"

امام خمینی مزید لکھتے ہیں: "جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام چودہ سو سال پرانا مذہب ہے یا تو وہ حکومت، قانون اور سیاست سے واقفیت نہیں رکھتے یا پھر مصلحت کے پیش نظر جان بوجھ کر خود کو انجان ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ عدل و انصاف کے معیار پر قوانین کا نفاذ، ظالم و بے رحم حکومت کا قلع قمع کرنا، فرد و معاشرے کے درمیان عدل و انصاف کو رواج دینا، بدعنوانیوں، بدکاریوں اور مختلف غلط کاموں سے منع کرنا کیا اسلام کے دقیانوسی نظام ہونے کا پتہ دیتا ہے؟ عقل و عدل کے دائرے میں آزادی دلانا، استقلال اور خود کفالت کی طرف بلانا، استعمار کی غلامی سے چھڑانا، استحصال سے بچانا اور ایک معاشرے کو تباہی و فساد سے نکالنے کے لئے عدل و انصاف کے معیار کے مطابق حدود و قصاص اور تعزیرات کا اجراء کرنا اور سیاست نیز عقل و انصاف کے اصولوں پر معاشرے کا چلانا اور ایسی ہی اور بھی سیکٹروں چیزیں کیا وقت کی گزرنے کے ساتھ تاریخ انسانی اور معاشرتی زندگی میں پرانی ہو جاتی ہیں؟"

"اسلام نے حکومت سے نہیں روکا بلکہ ایسے نظام کو ٹھکرایا ہے، جس کی بنیادیں ظلم پر رکھی گئی ہوں اور جس کا مقصد ہوس اقتدار کی تسکین ہو، اس کو ناپسند کیا ہے۔ جس کا مطمح نظر مال و دولت کا اکٹھا کرنا، اقتدار پرستی، طاغوت پرستی اور سرانجام اس دنیا میں غرق ہو جانا ہے، جو انسان کو حق تعالیٰ سے غافل کر دے لیکن اگر کسی حکومت کا مقصد مستضعفین کے حقوق کی بحالی، ظلم و جور کی روک تھام اور سماجی انصاف کو رواج دینا ہو تو وہ حکومت حق ہے۔ اسی لئے سلیمان بن داؤد علیہ السلام اور اسلام کے عظیم الشان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے عظیم اوصیاء کوشش کرتے تھے۔ یہ اہم واجبات میں سے ہے اور ایسی حکومت کو برقرار کرنا اعلیٰ ترین عبادت ہے، چنانچہ جس طرح کی صحیح سیاست ان حکومتوں میں پائی جاتی تھی، وہ ضروری و لازم ہے۔"

"میں بھی آج اس شہید راہ حق(شہید مدرس) کو یاد کرتے ہوئے آپ مومن بھائیوں سے عرض کرتا ہوں کہ مشرق کی سرخ فوج یا مشرق کی سیاہ فوج کے زیر پرچم شاندار امارت کی زندگی گزارنے سے بہتر ہے کہ ہم امریکہ اور روس کے مجرمانہ ہاتھوں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں اور اپنے خون سے سرخرو ہو کر باعزت طور پر خدا کے سامنے جائیں، یہ انبیاء کرام، ائمہ معصومین اور بزرگان دین مبین کی سیرت اور راستہ ہے، جس پر ہمیں چلنا چاہیئے۔"، "اس روز جب ان شاء اللہ مصلح کل، امام زمانہ ظہور فرمائیں گے تو آپ یہ خیال نہ کریں کہ کوئی معجزہ رونما ہوگا اور دنیا کی ایک دن میں اصلاح ہو جائے گی بلکہ کوششوں اور فداکاریوں سے ستمگروں کی سرکوبی ہوگی، پھر کہیں جا کر دشمن گوشہ نشین ہونگے۔"، "اگر بعض منحرف اور بدبخت لوگوں کے نظریئے کے مطابق آپ کا نظریہ یہ ہے کہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے کفر اور ظلم کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہیئے، تاکہ دنیا پر ظلم چھا جائے اور ظہور کے امکانات فراہم ہو جائیں تو اس فکر پر اناللہ و انا الیہ راجعون۔"

"تمام مسلمانوں اور دنیا کے مستضعفین سے میری وصیت یہ ہے کہ آپ کو بیٹھ کر اس امر کا منتظر نہیں رہنا چاہیئے کہ آپ کے ملک کے حکام اور صاحبان اختیار یا غیر ملکی طاقتیں آئیں گی اور آپ کے لئے استقلال و آزادی کا تحفہ لائیں گی۔"، "اے مستضعفین عالم! اے اسلامی ممالک اور دنیا کے مسلمانو! تم اٹھ کھڑے ہو اور اپنے حق کو اپنے زور بازو سے حاصل کرو۔ بڑی طاقتوں اور ان کے حلقہ بگوشوں کے تشہیراتی شور و غل سے نہ ڈرو۔ مجرم حکام کو جو تمہاری محنت کے پھل کو تمہارے اور اسلام عزیز  کے دشمنوں کے حوالے کرتے ہیں، اپنے ملک سے بھگا دو۔ پابند عہد خدمت گزار طبقے کے ساتھ مل کر تم لوگ خود ملک کے اتنظام کو اپنے ہاتھ میں لے لو اور اسلام کے سربلند پرچم کے نیچے جمع ہو کر اسلام اور ستم رسیدہ انسانوں کے دشمنوں کا مقابلہ کرو، آزاد اور خود مختار جمہوریتوں کے ساتھ ایک اسلامی حکومت کی جانب آگے بڑھو، کیونکہ اگر یہ کر لیا تو دنیا کے تمام سامراجیوں کو ٹھکانے لگا سکتے ہو اور اس طرح تمام مستضعفین تک زمین کی امامت و وراثت پہنچ جائے گی۔ اس روز کی امید کے ساتھ جس کا خداوند عالم نے وعدہ فرمایا ہے۔"

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا ویژن بھی امام خمینی کے ویژن سے اخذ شدہ تھا، جس کو آپ اپنے مخصوص انداز میں بیان کرتے۔ آپ عالمی سطح پر محروموں اور مظلوموں کی نجات کی بات کرتے تھے۔ آپ اکثر کہتے کہ سب سے اکثریتی جماعت مظلوموں و محروموں کی ہے، لہذا ہم اس خوف کا شکار نہ ہوں کہ چونکہ ہم شیعہ اقلیت میں ہیں، لہذا دنیا اور ملک میں کچھ نہیں کرسکتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دنیا کے اکثریتی طبقے یعنی مظلوموں کی حمایت کا پرچم بلند کرنا چاہیئے۔ ایک مکتبی شیعہ ہونے کے ناتے آپ ظہور امام زمانہ کو اپنا بنیادی ویژن قرار دیتے ہوئے اس انقلاب کے راستے ہموار کرنے پر مسلسل تاکید فرماتے تھے اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے  تیار رہتے تھے۔

آپ اپنی گفتگو میں امام زمان کی عالمی حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اکثر کہتے تھے کہ کیا امیرالمومنین صرف ایک مکتب اور فرقہ کے لئے تھے۔ کیا ہمارے آئمہ تمام انسانیت کے لئے ہادی و رہنماء نہ تھے۔ آپ نے ایک دفعہ چند دوستوں کی محفل میں اس موضوع پر کھل کر اظہار کیا تھا کہ کیا امام زمانہ صرف آئی ایس او اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ یا شیعہ مسلمانوں کے لئے ظہور کریں گے۔ آپ نے اس بات پر تاکید کی تھی کہ ہم امام زمانہ (عج) کو منجی بشریت کہتے  ہیں اور ان کی حکومت کو عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ امام زمانہ کی عالمی حکومت کے تصور کا قائل فرد اپنے آپ کو فرقوں، گروہوں اور ملک و ملت کے اندر کس طرح محدود کرسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 920030
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش