2
Friday 9 Apr 2021 08:16

قافلہ حسینی گزر جائے گا

قافلہ حسینی گزر جائے گا
تحریر: شاہد عباس ہادی

کربلا نے ہمیں انسانیت کا درس دیا ہے، وفاداری اور غیرت کا درس دیا ہے، کربلا ہمیں درس دیتی ہے کہ ظالم کے خلاف ڈٹ جاؤ چاہے تمہیں ٹکڑے ٹکڑے ہی کر دیا جائے، کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ مظلوم کے حق کیلئے ہر فرعونیت سے ٹکڑا جاؤ۔ آج وقت کی کربلا تیار ہوچکی ہے، مظلوم کی آہ و پکار بلند ہوچکی ہے، صدائے ھل من ناصر کا نعرہ گونج رہا ہے، سیدہ زینب (س) کے فرزند تمہیں آواز دے رہے ہیں، بچوں کی فریاد تمہیں پکار رہی ہے، خواتین کا حوصلہ و صبر تمہاری غیرت پر سوال اٹھا رہا ہے، ماؤں کی فریاد تم سے سوال کر رہی ہے۔ اٹھو! صدائے ھل من ناصر پر لبیك کہو، خاموشی کو توڑو اور مظلومیت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جاؤ، کیا جان قربان کرنے سے ڈرتے ہو۔؟

کیا امام علیہ السلام نے دشمن کو مخاطب کرکے نہیں فرمایا: کیا تم مجھے موت سے ڈراتے ہو جبکہ قتل ہو جانا ہمارے لیے شہادت اور افتخار ہے! کس وجہ سے خاموش ہو؟ اگر خاموش رہے تو قافلہ حسینی آئے گا اور گزر جائے گا، تم یہیں رہ جاؤ گے!!!
اے ظلم کے ماروں مت بولو خاموش رہو خاموش رہو
آخر یونہی اک اک کرکے تم سب کی باری آئے گی
تاریخ یہی بتلاتی ہے جو قومیں لب سی لیتی ہیں
ذلت اور خواری خود ان کے چوکھٹ پر دستک دیتی ہے
جو ظلم کے سامنے ڈت جائے بےشک وہ جان سے جاتا ہے
عزت کی موت جو مرتے ہیں تاریخ میں زندہ رہتے ہیں


ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، اٹھو کہ خاموش رہنا جرم ہے، باغیور ملت مجرم نہیں ہوتی بلکہ وہ عزت کی زندگی جیتی ہے اور عزت کی موت مرتی ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی فرماتے ہیں، اگر آپ حق کے ساتھ نہیں کھڑے تو پھر تاریخ کو اسے کوئی غرض نہیں کہ آپ مسجد کے حجرے میں تھے یا طوائف کے کوٹھے پر، اٹھو اور یزیدیت کو پیغام دو کہ حسینی قافلے کا راستہ تم نہیں روک سکتے، کیونکہ یہ قافلہ انسانیت کا قافلہ ہے، یہ ہدایت کا قافلہ ہے، یہ مظلومیت کا قافلہ ہے، یہ ظالمین کے خلاف قیام کرنے کا قافلہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 926189
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش