5
Friday 9 Apr 2021 11:18

سردار تنویر حیدر کا جرم کیا ہے؟ 

سردار تنویر حیدر کا جرم کیا ہے؟ 
تحریر: سید محمد تعجیل مہدی

سردار تنویر حیدر بلوچ کا تعلق ساہیوال کے ایک متوسط گھرانے سے ہے. کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کرنے کے بعد اسلام آباد سے صحافت میں ماسٹرز کیا. اسی دوران شیعہ طلبہ کی ملک گیر جماعت آئی ایس او پاکستان سے منسلک ہوئے اور ایک عرصہ اس میں فعال رہے۔ تعلیم کے بعد عملی زندگی میں صحافت میں قدم رکھا اور "اسلام ٹائمز" سے وابستہ ہوگئے۔ قلمی نام علی ریحان اختیار کیا۔ علم دوست اور کثیر المطالعہ شخص ہیں۔ نرم طبع، خوش اخلاق اور ہنس مکھ شخصیت کے مالک ہیں۔ سادہ لباس اور پیچیدہ گفتگو کے ساتھ دل میں گھر کر لینے کے فن سے بخوبی آگاہ ہیں۔ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ہمہ وقت ملکی صورتحال پہ کالمز لکھتے رہتے تھے اور مملکت خداداد پاکستان کو بیرونی امداد سے ہٹ کے اپنے پیروں پہ کھڑا دیکھنے کے خواہاں تھے اور ان کے اکثر کالمز میں اس چیز کا ذکر ملتا ہے۔ دنیا کے ہر موضوع پر وسیع تر دسترس رکھتے۔ خدا نے انہیں بے پناہ دانش عطا کی ہے۔ کوئی بھی موضوع ہو، اس پہ سیر حاصل گفتگو کرسکتے ہیں۔

خستہ مکان اور سفید پوشی کے باوجود آج تک ان کی زبان سے شکوہ کے الفاظ سننے کو نہیں ملے۔ ایسے محب وطن معزز بزرگ شہری کا اغواء بہت سے سوال پیدا کرتا ہے۔ چند سالوں سے پاکستان میں ملت تشیع کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی بم دھماکے تو کبھی ٹارگٹ کلنگ سے اس ملت کے دانشور اور قابل طبقے کو چن چن کے ختم کیا جا رہا۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ بانیان پاکستان کی اولادیں جنہوں نے قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا، تاکہ وہ اس میں آزادی سے رہ سکیں، یہاں غیر محفوظ ہیں۔ عرصہ دراز سے قوم کے بیٹوں کو ماورائے عدالت لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی عدالتوں سے قاتل، ڈاکو، چور اور لٹیرے تو بآسانی رہا ہو جاتے ہیں، مگر بے گناہ افراد کو کہیں دن دیہاڑے تو کہیں رات کی تاریکی میں لاپتہ کر دیا جاتا ہے اور پھر کئی سالوں تک ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا۔

کئی والدین اپنے پیاروں کو ایک نظر دیکھنے کی خواہش لیے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ سردار تنویر حیدر کو 31 مارچ 2021ء کو رات کے ڈیڑھ بجے درجنوں مسلح لوگ اغوا کرتے ہیں اور تاحال کوئی پتہ نہیں کہ کس حال میں اور کہاں ہیں۔ تین کمسن بچے اور بیوی غمناک و بے حال ہیں۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیا شیعہ ہونا اس ملک میں جرم ہے؟ عزاداری سید الشہداء کیا قانونی نقطہ نظر سے جرم ہے کیا؟ حسینی ہونے کی سزا یہ ہے کہ لاپتہ کر دیا جائے؟ تھانے میں مقدمہ تک درج نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بھی انہی کے ساتھ ہیں، جبکہ کہتے ہیں کہ انہیں علم نہیں ہے مگر ایف آئی آر کاٹنے سے بھی واضح انکار کرتے ہیں۔ ملت تشیع کے ساتھ اس رویہ کی کیا وجوہات ہیں؟ کونسی طاقتیں اس ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔؟

چیف جسٹس جو کہ بہت سے معاملات میں سوموٹو نوٹس لے لیا کرتے ہیں، انہیں یہ مظلوم طبقہ کیوں نظر نہیں آرہا؟ ہم پاکستان کے باوفا بیٹے ہیں۔ جنرل موسیٰ سے لے کر حوالدار لالک جان تک اسی ملت سے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے سینکڑوں جنازے اٹھا کر بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ہے۔ ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔ فیض احمد فیض کی ایک نظم جو حالیہ صورتحال کی عکاس ہے، آپ سب کی نظر۔
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بہت ہے ظلم کے دست بہانہ جو کے لیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں

ترے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں
غرض تصور شام و سحر میں جیتے ہیں
گرفت سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
 گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
خبر کا کوڈ : 926191
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش