0
Sunday 18 Apr 2021 00:30

ساکھ کو بچانا اور شرمندگی کو چھپانا

ساکھ کو بچانا اور شرمندگی کو چھپانا
اداریہ
ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکی پالیسی کو تبدیل کرنے کے نعرے کے ساتھ وائٹ ہاؤس داخل ہونے والے نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ملک کی جانب سے گذشتہ چار برس سے جاری بین الاقوامی ایٹمی معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کی خلاف ورزیوں نیز نطنز پر انجام پانے والی تخریب کاری کی طرف کسی قسم کا کوئی اشارہ کئے بغیر کہا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیئم کی ساٹھ فیصد افزودگی ایٹمی معاہدے کے خلاف ہے۔ انھوں نے وائٹ ہاؤس میں جاپان کے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کی جانب سے یورینیئم کی ساٹھ فیصد افزودگی کی حمایت نہیں کرسکتا۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران کی جانب سے یورینیئم کی ساٹھ فیصد افزودگی مفید ثابت ہوگی۔

جوبائیڈن نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران کی جانب سے یورینیئم کی ساٹھ فیصد افزودگی سے ویانا مذاکرات میں کوئی مدد نہیں ملے گی، یہ بھی کہا کہ ویانا کے ان مذاکرات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا صحیح نہیں ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے بھی کہا ہے کہ امریکہ ایران کی جانب سے یورینیئم کی ساٹھ فیصد افزودگی جیسے بقول ان کے اشتعال انگیز اقدام کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ایک ایسے وقت جب نطنز پر تخریب کاری پر امریکی چپ سادھے رہے، اب وہ ساٹھ فیصد افزودگی پر کیوں واویلا کر رہے ہیں۔ بلا شک و شبہ امریکی حکام کے اس قسم کے بیانات کا مقصد ویانا میں جاری ایران اور گروپ چار جمع ایک کے تکنیکی مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچا کر اپنی ساکھ کو بچانا اور شرمندگی کو چھپانا ہے۔
خبر کا کوڈ : 927790
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش