0
Wednesday 5 May 2021 10:35

ترکی کی چومکھی لڑائی یا کئی کشتیوں پر سواری

ترکی کی چومکھی لڑائی یا کئی کشتیوں پر سواری
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ترکی خطے میں اپنا اثرونفوذ بڑھانے کے لیے آئے روز مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انقرہ نے اپنی ایک نئی مہم جوئی اور بلند پروازوں کے تحت شمالی عراق میں فوجی اڈے بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ترکی اس سے پہلے بھی کام شام کے شمالی علاقوں میں کرچکا ہے۔ ترکی کے وزیر داخلہ نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ ہم عراق کے شمالی علاقے یعنی عراق کی سرحد کے اندر فوجی اڈہ بنانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے شمالی عراق میں فوجی اڈے بنانے کا اعلان کرکے گویا شام کی طرح عراق میں بھی فوجی مداخلت کا اعلان کیا ہے۔ ترکی اس سے پہلے "پی کے کے" تنظیم کے مقابلے کے نام پر عراق کے شمالی علاقوں میں فوجی مداخلت کرچکا ہے۔ ترکی "پی کے کے" پر حملہ کرکے عراق کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کرتا ہے، جس پر عراق کی طرف سے مذمت کی جاتی ہے۔ حال ہی مین ترکی نے عراقی سرحدوں کی اندر جو جملے کیے ہیں، اس پر عراقی صدر سمیت اہم حکام نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

عراق کے صدر برہم صالح نے ایک بیان میں ترکی کے حملے کو عراق کے اقتدار اعلیٰ اور ارضی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے حق ہمسائیگی کی اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ عراقی صدر نے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عراقی کابینہ نے بھی ترکی کے حالیہ حملوں پر کڑی نقطہ چینی کرتے ہوئِے ترکی کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ دریں اثناء عراق کی سکیورٹی اور دفاع کے اعلیٰ کمیشن نے بغداد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عراقی وزارت خارجہ ترکی کے خلاف اقوام متحدہ میں باقاعدہ تحریری شکایت ارسال کرے۔ دوسری طرف پارلیمنٹ کے اراکین کی ایک بڑی تعداد نے وزیراعظم مصطفیٰ کاظمی سے مطالبہ کیا ہے کہ ترکی کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات معطل کر دیئے جائیں۔ ان تمام مطالبات کے باوجود عراقی وزیراعظم مصطفیٰ کاظمی کی طرف سے کوئی موثر اقدامات انجام دینے کی خبریں سامنے نہیں آئی ہیں۔

عراق کے وزیراعظم کے اس کمزور ردعمل پر عراقی پارلیمنٹ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ترکی کے یہ اقدامات بعض عراقی حکام کی ملی بھگت سے انجام پا رہے ہیں۔ عراق کی پارلیمانی جماعت "الحکمہ" کے سربراہ عمار حکیم نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا ہے کہ عراق کے عوام نے گذشتہ چند عشروں میں اپنے اقتدار اور وقار کے لیے مقابلہ کیا اور قربانیاں بھی دی ہیں، ہم اپنے ملک کی ارضی سالمیت کی ہر طرح کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں۔ حکومت بغداد اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور تمام ممالک بالخصوص ترکی ہماری ارضی سالمیت اور اقتدار اعلیٰ کا احترام کرے۔ عراقی پارلیمنٹ اور مختلف جماعتوں کی طرف سے بھرپور احتجاج کے باوجود ترکی کی طرف سے حملوں اور فوجی اڈوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہنا اس بات نشاندہی کر رہا ہے کہ ترکی اور عراق کی حکومتوں کے درمیان کسی نہ کسی طرح کا کوئی خفیہ معاہدہ موجود ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کردستان نیشنل الائنس کے ایک رہنماء نے کچھ عرصہ پہلے دعویٰ کیا تھا کہ عراق کے دو شہروں اربیل اور دھوک میں ترکی کے پچاس اڈے موجود ہیں اور ان اڈوں سے عراقی علاقوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ جن میں عراقی شہری ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان خلافت عثمانیہ کے احیاء کا خواب لے کر ترکی کی خارجہ اور داخلہ سیاست کو آگے بڑھا رہے ہیں، لیکن کیا زمینی حقائق اس کے مطابق ہیں، اس پر طویل بحث کی جا سکتی ہے۔ ترکی شام و عراق و لیبیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں ہاتھ پائوں مار رہا ہے، لیکن اب اس نے اپنے دہن سے بڑا لقمہ لیتے ہوئے افغانستان میں بھی اپنا کردار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ افغان مسئلے کے حل کے لیے استنبول میں ہونے والا اجلاس اگرچہ ملتوی ہوگیا ہے، لیکن رمضان المبارک کے بعد اس کے دوبارہ انعقاد کے امکانات موجود ہیں۔ افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکہ جن مشکلات سے دوچار اور جن سے محروم ہوسکتا ہے، اس کے ازالہ کے لیے امریکہ پاکستان اور تاجکستان وغیرہ سے فوجی اڈے مانگ رہا ہے۔ اسی طرح ترکی کو سامنے رکھ کر افغانستان کے اسٹریٹجک علاقے سے فائدہ اٹھانے کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔

امریکہ اور ترکی کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر گٹھ جوڑ پختگی کی طرف جا رہا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے غیر متوقع طور پر آرمینیائی قتل عام کے مسئلے کو سامنے لاتے ہوئے ترکی کو اس نسل کشی کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ آرمینیائی شہیریوں کے قتل عام کا مسئلہ ترکی کی ایک بڑی کمزروی رہا ہے اور وہ اس مسئلے میں بہت زیادہ حساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی نے اس مسئلے پر امریکی موقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ سرخپوشوں اور سیاہ فاموں کے قتل و غلامی کے ذمہ دار کسی دوسرے کو نسل کشی کا طعنہ کیسے دے سکتے ہیں۔ بہرحال ترکی خارجہ سیاست میں چاہے وہ شام کا مسئلہ ہو، عراق کا حالیہ بحران ہو یا افغانستان کا منصوبہ، ان میں امریکی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ترکی ایک طرف امریکہ اور یورپ کو خوش رکھنا چاہتا ہے تو دوسری طرف روس سے اپنے تعلقات کو بھی بہتر رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ ترکی مشرق و مغرب کی طاقتوں کا اتحادی بن کر امت مسلمہ کی قیادت کا بھی خواب دیکھ رہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کئی کشتیوں کا سوار ترکی ساحل منزل پر پہنچتا ہے یا دو کشتیوں کے سوار کی طرح سیاسی سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 930869
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش