0
Friday 7 May 2021 16:10

بیت المقدس کی آزادی مقدم ہے

بیت المقدس کی آزادی مقدم ہے
تحریر: آئی اے خان

فضائل و مراتب کے حوالے سے جس طرح آج کا دن (جمعۃ الوداع) اعلٰی و ارفع ہے، اس دن سے منسوب یہ مقصد اور ہدف یعنی بیت المقدس کی آزادی بھی پورے عالم اسلام کیلئے مقدم ترین ہے۔ جمعۃ الوداع سیدالایام ہے اور آزادی فلسطین کا معاملہ پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے اہم ترین ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کرہ ارض کی نصف سے زائد آبادی براہ راست اس مسئلہ سے متاثر ہے اور پوری دنیا کا امن اسی مسئلہ (آزادی فلسطین) سے وابستہ ہے۔ امام خمینی کے دیگر کارہائے نمایاں میں سے یہ کارنامہ اپنی حیثیت اور افادیت کے اعتبار سے نہایت خاص ہے کہ انہوں نے اعلٰی ترین دن کو عالم اسلام کے اعلٰی ترین مسئلہ سے جوڑ کر دونوں کی اہمیت میں دوچند اضافہ کیا۔ امام خمینی نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ (جمعۃ الوداع) کو یوم القدس قرار دیکر پورے عالم اسلام کو ایسا اجتماعی پلیٹ فارم مہیا کیا کہ جہاں سے مسلمان مکتب، مسلک، رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر اکٹھے ہوکر بیت المقدس کی آزادی، فلسطین کی آزادی کا اصولی نعرہ بلند کر سکیں۔

زمانے کے نبض شناس امام خمینی کا یہ انعام اتنا جامع ہے کہ ظاہراً جو مسئلہ ایک مخصوص علاقے سے متعلق ہے، اس کے حل کیلئے دنیا کے ہر کونے سے آواز بلند ہوتی ہے۔ آپ پوری دنیا میں اٹھنے والی آزادی کی تحریکوں کا سرسری جائزہ لیں تو کسی تحریک، مطالبے میں اتنی ہمہ گیری، جامعیت نظر نہیں آئے گی کہ جتنی بیت المقدس، فلسطین کی آزادی کے مطالبے کو میسر ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں، جمعۃ الوداع کے موقع پہ نماز جمعہ کے بعد ارض فلسطین پہ اسرائیل کے نام پہ مسلط کردہ عالمی ناانصافی کے خلاف سراپا احتجاج ہوتے ہیں۔ بیت المقدس کی آزادی، فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی نابودی کا نہ صرف نعرہ بلند کرتے ہیں بلکہ اس مقصد عظیم کیلئے اپنی توانائیاں بھی صرف کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ اب دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کا ایک ہی دن، ایک ہی مطالبہ اسرائیل اور اس کی پشت پناہ قوتوں کیلئے تو پریشان کن ہے ہی سہی، تاہم اس کے ساتھ عالم اسلام کو تقسیم در تقسیم کرنے کی کئی سازشیں بھی یوم القدس کے طفیل انجام سے دوچار ہوتی ہیں۔

مسلمانوں کے خلاف دشمن کا سب سے کارگر وار فرقہ واریت، مسلکی نفاق و انتشار رہا ہے۔ عالم اسلام کے کئی دیرینہ مقدمات و موقف محض اسی تفریق کی نظر ہوچکے ہیں۔ امام خمینی کی حکمت نے مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کو تقسیم کرنے کی تمام راہیں فکری لحاظ سے بھی مسدود کیں اور عملی طور پر تو دنیا پہ بھی ظاہر ہے کہ اہل فلسطین اہل تشیع نہیں، اہل سنت ہیں جبکہ ان کی آزادی کا نعرہ اور جدوجہد مرکز اہلسنت سے نہیں بلکہ اہل تشیع سے جاری ہے۔ چنانچہ ایسے پروپگینڈے یا الزام کہ یوم القدس شیعہ مناتے ہیں، یا صرف سنی مناتے ہیں یا ایرانی مناتے ہیں یا ترکی مناتا ہے، دشمن نے آزمائے ضرور مگر یہ تمام ناکامی سے دوچار ہوئے۔ بلاشبہ امام خمینی نے جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دیکر عالم اسلام کے دیرینہ مسئلہ آزادی فلسطین، آزادی بیت المقدس کو اجاگر کیا، تاہم ان کے وصال کے بعد سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی قیادت میں اسی یوم القدس کو ایسے پلیٹ کے طور پر پوری دنیا میں متعارف کرایا گیا کہ جہاں سے عالم اسلام کو درپیش تمام مسائل اور مقدمات دنیا کے سامنے اجاگر کئے جا سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج یوم القدس پہ جہاں قدس کی آزادی کی بات ہوتی ہے، وہیں یمن پر کئی ملکوں کے مشترکہ دھاوے کی مذمت بھی کی جاتی ہے۔ فلسطین کی آزادی کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے تو کشمیر اور برما کے مسلمانوں کو بھی ان کے حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسی یوم القدس کی وساطت سے آج عراق، افغانستان، شام کے مسائل پہ عوامی سطح پر بات کی جاتی ہے۔ یورپ میں حجاب پر پابندی یا نبی اکرم و قرآن مجید کی بے حرمتی کے خلاف بھی بات کی جاتی ہے۔ اسلام دشمن مغربی و امریکی پالیسیوں کو جہاں ہدف تنقید بنایا جاتا ہے، وہاں عربوں کے گھٹنے ٹیکنے کی مذمت بھی ہر اہل ایمان کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ موقع دنیا بھر کے ظالموں کے خلاف اور دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت کا عالمی دن بن چکا ہے۔ پاکستان میں یوم القدس کی اہمیت اس عنوان سے کہیں زیادہ ہے کہ پاکستان اسلامی دنیا کی وہ پہلی ریاست ہے کہ جس نے اپنے قیام سے ہی اہل فلسطین کی حمایت اور ناجائز اسرائیل کے قیام کی شدید مخالفت کی ہے۔

یہاں تک کہ قیام پاکستان کی قرارداد سے قبل آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے میں اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور کی گئی تھی۔ یعنی پاکستان بنانے والوں کے نزدیک بھی قیام پاکستان سے زیادہ اسرائیل کی نابودی اور فلسطین کی آزادی مقدم تھی۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسرائیل دشمنی ہر پاکستانی کی گھٹی میں ہے۔ فلسطین کی آزادی کے معاملے میں حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام ہمیشہ ہی ایک صفحہ پہ رہے ہیں اور پاکستان کے پاسپورٹ پہ باقاعدہ درج ہے کہ یہ پاسپورٹ ماسوائے اسرائیل کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نشیب و فراز آنے کے باوجود اسرائیل پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ عہد جمہوریت یا دور آمریت کسی بھی حکومت کو اتنی جرآت نہ ہوئی کہ وہ اسرائیل پالیسی میں کوئی تبدیلی لائے اور اس کی وجہ بھی آزادی فلسطین سے پاکستان کے عوام کی وابستگی ہے۔ باوجود اس کے کہ پاکستان کو امریکہ کا کاسہ لییس سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے اور آزادی فلسطین کی تحریک کی حمایت پالیسی رول بیک کرنے کیلئے پاکستان پہ ہمیشہ ہی دباؤ رہا ہے۔ ماضی میں یہ دباؤ امریکہ و یورپ کی جانب سے رہا تو عہد حاضر میں یہی دباؤ عربوں کی جانب سے ہے۔ متعدد بار سعودی عرب، یو اے ای کی جانب سے پاکستان کو زیر دام لانے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ آج بھی جب دنیا بھر کے مسلمان تحریک آزادی فلسطین کی حمایت میں اور اسرائیل کے خلاف سراپا احتجاج ہیں تو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اعلٰی ترین وفد کے ہمراہ سعودی عرب میں موجود ہیں۔ اسلام کا قلعہ سمجھے جانے والے پاکستان کے سپہ سالار سعودی عرب کے ولی عہد سے ملاقات کر رہے ہیں۔ کاش کہ اسلامی دنیا کے ذمہ داران کے مابین ہونے والی ملاقاتوں میں دیگر معاملات کی طرح بیت المقدس کی آزادی کا مقدس مقصد بھی مقدم ہو۔
خبر کا کوڈ : 931274
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش