0
Sunday 9 May 2021 09:38

سعودی عرب کی تنہائی اور پاکستان

سعودی عرب کی تنہائی اور پاکستان
تحریر: تصور حسین شہزاد

وزیراعظم پاکستان عمران خان سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔ جدہ پہنچنے پر محمد بن سلمان نے خود آکر ان کا استقبال کیا گیا مگر ایسا استقبال نہیں ہوا، جو ٹرمپ کا، یا مودی کا کیا گیا تھا۔ لیکن اس استقبال میں بہرحال کہہ سکتے ہیں کہ تھوڑی بہت گرم جوشی موجود تھی، لیکن یہ گرم جوشی پہلے جیسی نہیں تھی۔ تاہم یہ اُمید پیدا ہوگئی ہے کہ پاکستان کو خطے میں کوئی نیا ٹاسک ملنے والا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے دباو کے حوالے سے جو سردمہری آگئی تھی، اس میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔ پاک سعودیہ قربت کا کریڈٹ امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی جاتا ہے، جس نے دونوں کو لفٹ نہیں کروائی اور دونوں اسی امریکی رویئے کے باعث باہم قریب ہوگئے ہیں۔

خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور مبصرین اس دورے کو بھارت کے مفاد میں بھی سمجھ رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان نے مودی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو انڈیا کے قریب لائیں گے اور روز روز کے جھگڑے ختم کرکے آگے بڑھنے کا پلان تیار کیا جائے گا۔ بھارت کیساتھ پاکستان کا سیز فائر کا جو معاہدہ رواں سال فروری میں ہوا تھا، وہ بھی اسی سعودی دباو کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا ہے اور اس کی پوری پوری قیمت بھی ادا کی ہے۔ اب جو تبدیلی آرہی ہے، اس کی قیمت کیا ہوگی، یہ ابھی واضح نہیں ہوسکا۔ پاک سعودی عرب تعلقات میں اگر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی پیشرفت کی جاتی ہے تو اس کا فائدہ کی بجائے نقصان ہوگا۔ بھارتی شاطر قوم ہیں اور ہمیشہ ڈبل گیم کرتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی اسی ڈبل گیم کے باعث پاکستان اور کشمیری قیادت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ وزیراعظم کے دورے سے قبل آرمی چیف سعودی عرب پہنچے۔ انہوں نے سعودی حکام سے ملاقاتیں بھی کیں اور وزیراعظم کے دورے کیلئے فضا بنانے میں کردار ادا کیا۔ بعض سعودی حکام نے بھی اس دورے کو ‘‘مفید’’ قرار دیا ہے اور ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیانات بھی کچھ اسی قسم کے سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں پاکستان پر بہت سے معاملات میں سعودی عرب کا دباو تھا، اس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ سرفہرست تھا، پھر یمن میں فوج بھیجنے کا مطالبہ اور تیسرا مطالبہ انڈیا کیساتھ تعلقات بہتر کرنے کیلئے زور تھا۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان ماضی کی تمام تلخیاں بُھلا کر انڈیا کیساتھ اپنے معاملات مکمل طور پر ٹھیک کر لے۔ جہاں تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہے تو خود وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباو تھا، لیکن پاکستان نے اس دباو کو قبول نہیں کیا۔

یمن کے معاملے میں سعودی عرب چاہتا تھا کہ پاکستانی فوج محاذ پر پہنچے مگر پاکستان نے یمن جنگ میں کودنے کے بجائے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی۔ اس پر سعودی حکومت کافی سیخ پا ہوئی تھی اور پاکستان کو دیا جانیوالا قرض مقررہ مدت سے قبل ہی مانگ لیا۔ وہ تو بھلا ہو چین کا جس نے اس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور قرض کی پہلی قسط پاکستان کو فراہم کر دی، جو پاکستان نے سعودی عرب کو دی۔ اب تک کُل تین قسطوں میں سے دو قسطیں سعودی عرب کو ادا کی جا چکی ہیں۔ اس سے پہلے پاک سعودی تعلقات مزید خراب ہوتے، خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ ٹرمپ اقتدار سے جاتا رہا اور جو بائیڈن نے زمام اقتدار سنبھال لی۔ بائیڈن کے تعلقات سعودی عرب کیساتھ اچھے نہیں اور وہ پاکستان کو بھی زیادہ اچھا دوست نہیں سمجھتا۔ اس صورتحال میں پاکستان اور سعودی عرب دونوں کو موقع مل گیا کہ امریکہ مداخلت کے بغیر اپنے مستقبل کے فیصلے کریں۔

اُدھر یمن کے معاملے پر مبصرین کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے سعودی عرب کو کچھ یقین دہانیاں کروائی ہیں کہ سعودی عرب کی جغرافیائی سالمیت کو نقصان پہنچا تو پاکستان سعودی عرب کیساتھ کھڑا ہوگا، جبکہ سعودی عرب خود یمنیوں کو بات چیت کی میز پر آنے کی پیشکش کرچکا ہے۔ اُدھر انڈیا اور پاکستان کے درمیان فروری میں جو سیز فائر ہوا تھا، اس میں پاکستان نے کشمیری قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا بلکہ پاکستان کی بھی کسی پارٹی کو اس حوالے سے پوچھا تک نہیں گیا۔ حتیٰ پاکستانی دفتر خارجہ بھی اس معاملے میں لاعلم رہا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سیز فائر بیرونی دباو پر اور فوری کیا گیا۔ اس معاہدے میں مودی نے وعدہ کیا تھا کہ کسی کشمیری رہنماء کو نقصان نہیں پہنچائے گا لیکن مودی نے اپنا یہ وعدہ توڑ دیا۔ چند روز قبل تحریک حریت کشمیر کے رہنماء محمد اشرف صحرائی کو دوران حراست شہید کر دیا گیا۔ اس سے کشمیریوں میں بددلی پھیلی ہوئی ہے۔

اب ماحول ایسا بن گیا ہے کہ بھارت براہ راست آل پارٹیز حریت کانفرنس سے مذاکرات کرے گا، اگر حریت کانفرنس مذاکرات کیلئے رضامند ہو جاتی ہے تو پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ اعتراض کرسکے، کیونکہ پاکستان نے سیز فائر کا معاہدہ کرتے ہوئے حریت قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ پاکستان نے موقف اختیار کر رکھا تھا کہ جب تک انڈیا آرٹیکل 370 ختم نہیں کرتا، انڈیا کیساتھ ہم مذاکرات نہیں کریں گے، مگر پاکستان نے اس معاملے پر یوٹرن لے لیا اور سیز فائر کا معاہدہ کر لیا۔ اب اس صورتحال
کا فائدہ انڈیا اُٹھائے گا۔ انڈیا نے نہایت چالاکی کیساتھ پاکستان اور کشمیری قیادت میں غلط فہمیاں پیدا کر دی ہیں۔ یہ غلط فہمیاں اس لئے پیدا ہوئی ہیں کہ پاکستان نے بیرونی دباو پر انڈیا کیساتھ معاہدہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے ایران کیساتھ بھی تعلقات بہتر کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اب پاکستان کیساتھ بھی معاملات سیٹل ہو رہے ہیں۔ لیکن وزیراعظم اور آرمی چیف اس بات کا خیال رکھیں کہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں۔ اگر ایسا کیا گیا تو ہمیں فائدہ نہیں نقصان ہوگا۔

یمن کے معاملے میں سعودی عرب کا دم ٹوٹ چکا ہے، یمنیوں نے سعودیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں، سعودی حوثیوں کی جانب سے آئے روز کے میزائل حملوں سے پریشان ہیں، امریکہ کی بھی اس معاملے میں کافی سبکی ہوئی ہے کہ اس کا دفاعی نظام اس معاملے میں ناکام ہوا ہے۔ سعودی عرب ڈونلڈ ٹرمپ کی رخصتی کے بعد اس وقت خطے میں خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ پاکستان اگر اس وقت سمجھداری کا مظاہرہ کرے تو سعودی عرب کی اس تنہائی سے پورا پورا فائدہ اُٹھا کر کشمیر کا مسئلہ حل کروا سکتا ہے اور اگر پاکستان نے کشمیر سے دستبردار ہو کر بھارت کیساتھ کوئی تعلقات قائم کئے تو اس کے نتائج وہی نکلیں گے، جو ہم افغان جنگ کے بعد دہشتگردی کی شکل میں بھگت چکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 931618
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش