7
Sunday 6 Jun 2021 20:33

پاکستان کی جیو اکنامکس خارجہ پالیسی کا لٹمس ٹیسٹ

پاکستان کی جیو اکنامکس خارجہ پالیسی کا لٹمس ٹیسٹ
تحریر: محمد سلمان مہدی

جب سے عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے تحت پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط حکومت بنی ہے، تب سے پاکستان میں تبدیلی کی بھنبھناہٹ مسلسل سنائی دیتی ہے۔ یہ الگ بات کہ زمینی حقائق پاکستان میں تبدیلی کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ اس حکومت کے دور میں فرقہ پرست انتہاء پسند بیانیہ ریاستی سرپرستی میں ایک نئے انداز میں پھلتا پھولتا نظر آرہا ہے۔ بین الاقوامی رائج اصطلاح میں اسے مذہبی انتہاء پسندی، متشدد انتہاء پسندی اور امتیازی پالیسی کہا جاتا ہے۔ ملک کے اندر جو مائنڈ سیٹ غالب ہے، خارجہ پالیسی میں بھی اسی کا عکس نظر آتا ہے۔ ایک جملے میں کہیں تو سعودی عرب کی آئیڈیالوجی، سعودی بادشاہت کے بیانیہ پر پاکستان کا جعلی لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے۔ زمینی حقائق کی روشنی میں پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ پالیسی سے متعلق فی الحال اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھنا چاہتی۔ بس اتنا ضرور ہے کہ جب کبھی پاکستان کے دانشور، صحافی اور سیاسی شعور رکھنے والے عوام و خواص کی طرف سے دباؤ محسوس کیا جاتا ہے تو سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے یہ جعلی تاثر پھیلایا جاتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔ یہ جعلی تاثر بھی پھیلایا جاتا ہے کہ پاکستان ایک نئی خارجہ پالیسی کے ساتھ نئی سمت میں سفر کر رہا ہے۔ تاحال عمل سے یہ دعویٰ ثابت ہوتا دکھائی نہیں دے رہا! کیونکہ تاحال ماضی کی غلطیوں ہی کو دہرایا جا رہا ہے۔

اس ضمن میں قول و فعل کا تضاد اپنا ناقابل نظر انداز بھاری بھر کم وجود رکھتا ہے۔ ملاحظہ فرمایئے کہ ریاست پاکستان میں طاقت کے مراکز کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سویلین حکومت اور عسکری قیادت ایک ہی پیج پر ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا فوکس اب جیو پولیٹکس کی بجائے جیو اکنامکس ہے۔ اب جبکہ دعویٰ یہ ہے کہ سویلین عسکری قیادت متفق ہیں۔ دعویٰ یہ بھی ہے کہ اقتصادی شعبے کو ترجیح و فوقیت حاصل ہے تو اس کا عملی اظہار کہاں ہے!؟  اس کے اثرات و ثمرات کہاں ہیں!؟ یوں تو کئی مثالیں موجود ہیں لیکن چند زندہ اور تازہ مثالیں اڑوس پڑوس ہی میں ہیں، ان پر نگاہ کی جاسکتی ہے۔ ریاست پاکستان نے حالیہ لڑائی میں آرمینیا کے مقابلے میں آذربائیجان کا ساتھ دیا تھا۔ کیا یہ ساتھ دینا جانبداری کو ثابت کرتا ہے یا غیر جانبداری کو!؟ یقیناً ریاست پاکستان جانبدار رہی تو کیا اس سے اقتصادی فوائد حاصل ہوئے!؟ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی اقتصادیات کو آذربائیجان اور ترکی کا ساتھ دینے سے کتنے بلین ڈالر کا فائدہ ہوا!؟ آذربائیجان کی بھارت کے ساتھ تجارت زیادہ ہے، پاکستان کے ساتھ تجارت کا حجم بہت کم ہے۔ کیوں کم ہے!؟ امریکا، یورپ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وغیرہ کی مثالیں بھی موجود ہیں کہ ان سے تعلقات کے نتیجے میں ہی افغانستان کی وہ پالیسی بنی کہ جس کے ناقابل تلافی نقصانات پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔ کاسٹ بینیفٹ اینالیسس تو یہ بتاتا ہے کہ یہ تعلقات نقصان کے سودے کے علاوہ کچھ نہیں۔

تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے سویلین اور عسکری حکام اب عراق کے دورے بھی کرنے لگے ہیں۔ کیا ان دوروں کا مقصد اقتصادی تعلقات میں توسیع ہے!؟ کوئی پوچھنے والا ہے یا کوئی بتانے والا ہے کہ آذربائیجان، ترکی اور عراق سے تجارتی تعلقات کا راستہ کہاں سے گزرتا ہے!؟ پہلے نقشہ اٹھایئے اور اچھی طرح جانچ لیجیے! پاکستان اور ان تین ملکوں کے درمیان صرف ایک ہی ملک درمیان میں واقع ہے اور اس کا نام ہے ایران! اب ایران کے ساتھ پاکستان کی سالانہ تجارت کے اعداد و شمار بھی دیکھ لیں۔ یہ اعداد و شمار یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، تجارتی پالیسی، داخلی پالیسی، ثقافتی پالیسی پر سعودی امریکی بلاک کا ایسا منحوس سایہ ہے کہ جو کبھی پاکستان کو اقتصادی خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہونے دے سکتا! یہ اسی منحوس سایہ کا اثر ہے کہ زمینی راستے سے پاکستان درست طور پر نہ تو ترکی سے منسلک ہے۔ نہ ہی عراق سے اور نہ ہی آذربائیجان، ترکمانستان اور کیسپیئن سمندر سے۔ سعودی امریکی بلاک کی وجہ سے ریاست پاکستان کے تعلقات کی بنیاد اقتصاد پر کبھی نہیں رہی۔ اگر ان تعلقات کا مقصود و مطلوب اقتصادی تعلقات میں توسیع ہوتا تو ریاست پاکستان کی پالیسی میں ایران کو اہمیت حاصل ہوتی۔ کیا یہ ایک نیوکلیئر اسلامی ریاست کے شایان شان ہے کہ اس کا سپہ سالار ریٹائرمنٹ کے بعد ان عیاش شیوخ و شاہ کی ملازمت کرے!؟ تادم تحریر پاکستان کے سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف سعودی حکومت کے ملازم ہیں۔ بات کہیں اور نہ نکل جائے، پلٹتے ہیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ عراق کی طرف۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے عراقی وزیر خارجہ کی درخواست پر عراق کا دورہ کیا۔ وہاں بہت سی روایتی کھوکھلی باتیں کیں۔ انہی میں سے ایک پاکستانی زائرین کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ جناب شاہ محمود قریشی صاحب کو معلوم ہو کہ عراق میں پاکستانی زائرین کو سہولت دینا بنیادی طور پر عراقی حکومت کی ذمے داری ہے۔ شاہ جی آپ تفتان بارڈر پر زائرین کی تذلیل اور توہین نہ ہو، اسے ممکن بنانے کے لیے اپنا عملی کردار ادا کریں۔ اگر آپ وزیر خارجہ ہیں تو وزیر داخلہ سے کہہ دیں۔ اپنی حکومت سے کہیں۔ سویلین اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے تو تفتان بارڈر کراسنگ پر پاکستانی زائرین اور طلباء کے ساتھ جو متعصبانہ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس کے ذمے دار بھی یہ دونوں ہی ہیں۔ یاد رہے کہ قابل احترام مرجع تقلید جناب آیت اللہ شیخ بشیر حسین نجفی صاحب بھی پاکستانی ہی ہیں۔ پاکستان کے سویلین اور عسکری حکام ان سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں۔ آیت اللہ بشیر نجفی صاحب کی خدمت میں ہماری مودبانہ گزارش یہ ہے کہ جب بھی پاکستانی حکام میں سے کوئی ان کے پاس آئے تو اس ملاقات کا رسمی بیان آپ کی طرف سے جاری ہو اور اس میں پاکستانی زائرین، طلاب اور تاجروں کو زمینی سرحدی راستوں پر متعلقہ پاکستانی حکام کی جانب سے تنگ کرنے کی مذمت و مخالفت اور ان کی تذلیل و توہین نہ کرنے کا رسمی مطالبہ بھی شامل ہو۔ ریاست پاکستان سعودی عرب کے ایجنڈا پر پاکستان کے شیعہ شہریوں سمیت ہر اس آدمی کو تنگ کرنے میں مصروف ہے کہ جو سعودی عرب کی مداخلت کا مخالف ہے۔ پاکستان کی آزادی اور خود مختاری ایک طویل عرصے سے سعودی عرب کی بادشاہت نے یرغمال بنا رکھی ہے۔

سعودی مداخلت اور بالادستی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ریاست کے خائن اور ففتھ کالم حکام کو نہ نظریہ پاکستان کی حقانیت پر ایمان ہے اور نہ ہی بانی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے افکار اور نظریات پر! جنرل ضیاء کے دور میں سعودی عرب نے ایک منظم انداز میں امریکی مغربی زایونسٹ بلاک کے ایجنڈا پر کام کرتے ہوئے پاکستان اور پاکستانیوں کو استعمال کیا۔ یہ اسی سرپرستی کا نتیجہ ہے کہ کافر کافر کا نعرہ پاکستان پر مسلط کیا گیا۔ یوں سب سے پہلے کافر کافر کے نعرے کی زد پر پاکستانی کے بانی قائد اعظم کو لایا گیا اور ساتھ ہی میں علامہ اقبال کو بھی۔ ریاست پاکستان کے اندر ففتھ کالم خائنوں کی موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ خود جی ایچ کیو کے اندر دہشت گردوں نے حملے کیے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ریاست کی رٹ ختم ہوچکی تھی اور اسکے ذمے دار وہی کافر کافر کے نعرے لگانے اور لگوانے والے تھے۔ بلوچستان کے علیحدگی پسند ہوں یا مذہبی انتہاء پسند دونوں کا اصل سرپرست امریکی سعودی زایونسٹ بلاک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست پاکستان نے ہمیشہ مائنس ایران اقتصادی پالیسی کو ترجیح دی۔ مائنس ایران سعودی نواز پاکستانی خارجہ پالیسی کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ ایران نے پاکستان کی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک گیس پائپ لائن منصوبہ پر عمل کیا۔ اسی منصوبے کے تحت پاکستان بھی گیس خریدتا اور پائپ لائن بھارت تک جاتی۔ لیکن ریاست پاکستان نے بھارت کو براستہ پاکستان ایرانی گیس پائپ لائن کی مخالفت کردی، جبکہ ترکمانستان کی گیس پائپ لائن جو افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتی ہے، اسے بھارت تک جانے کی اجازت ہے، یعنی چار ملکی تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ۔

چونکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا کی ڈکٹیشن ہے تو اس منصوبے میں بھارت کی شمولیت پر ریاست پاکستان نے کوئی اعتراض نہیں کیا! اسی طرح افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ زمینی راستے سے واہگہ بارڈر تک اجازت ہے، لیکن ایران کی گیس پائپ لائن پاکستان کی صوبہ بلوچستان سے ملحق سرحد تک ایرانی حدود میں آنے کے بعد بھی پاکستان اس پائپ لائن سے گیس پاکستان کی حدود میں نہیں لا رہا۔ حالانکہ پاکستان کو بدترین انرجی بحران کا سامنا ہے، لیکن امریکی سعودی اماراتی ڈکٹیشن کے آگے سرتسلیم خم کرچکا ہے۔ کیا یہ جیو اکنامکس ہے!؟ یا وہی جیو پولیٹکس ہے!؟ یہ محض چند مثالیں ہیں، ورنہ متعدد دیگر عملی مثالیں بھی موجود ہیں۔ پاکستان کی جیو اکنامکس خارجہ پالیسی کا لٹمس ٹیسٹ ایران سے تعلقات ہیں۔ ایران محض ایک ملک نہیں بلکہ پاکستان کو زمینی راستے سے بذریعہ ترکی و آذربائیجان یورپ سے ملانے والا واحد ملک ہے۔ اسی طرح نہ صرف عراق بلکہ شام و فلسطین تک زمینی راستے سے پاکستان کے لیے جو گذرگاہ ہے، وہ بھی ایران ہے۔ ایران ہی وہ مملکت ہے، جو پاکستان کو کیسپیئن سمندر کے ذریعے دیگر کئی ممالک سے منسلک کرسکتی ہے! یعنی صرف ایک ملک جو پاکستان کو بیک وقت چار اہم ممالک سے زمینی راستے سے ملاتا ہے، وہ ایران ہے۔ ان میں چوتھا ملک ترکمانستان ہے۔ یعنی افغانستان کا متبادل برائے پاکستان ایران بھی ہوسکتا ہے۔ مشہور کہاوت بھی ہے کہ پڑوسی تبدیل نہیں کیے جاسکتے! اور اب تو چائنا اور ایران کے درمیان پچیس سالہ معاہدہ طے پاچکا! پاکستان کسی نئی خارجہ پالیسی کے ساتھ میدان میں اترا ہے، یہ ثابت کرنے کے لیے زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ پے در پے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جیو اکنامکس خارجہ پالیسی کا لٹمس ٹیسٹ ایران سے تعلقات ہیں، باقی سب افسانہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 936626
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش