0
Monday 7 Jun 2021 14:00

ایک قوم، ایک نصاب اور فرقہ پرستی

ایک قوم، ایک نصاب اور فرقہ پرستی
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

زندگی کا ایک بڑا حصہ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے اور بعد میں انہی میں تدریس کرتے گذرا ہے۔ سب سے اہم تعارف طالب علم اور استاد ہونا ہی خیال کرتا ہوں۔ نصاب تعلیم وہ متن ہے جس میں زندہ قومیں اپنی طرز زندگی کو نسل ِنو کو منتقل کرتی ہیں۔ تعلیمی ادارے وہ مقامات ہیں، جہاں پر عمل تعلیم ہوتا ہے۔ نصاب کی صورت میں دیا گیا نصب العین استاد اور تعلیمی ادارے کے ذریعے تعلیمی نظام کے سب سے اہم حصے یعنی طالب علم کو منتقل کیا جاتا ہے۔ کافی عرصے سے یہ کوشش جاری ہے کہ پوری قوم میں ذہنی ہم آہنگی اور یگانگت پیدا کرنے کے لیے ایک نصاب کا ہونا  اہم ہی نہیں ضروری ہے۔ اگر ہم ایک ہی وقت میں چھ الگ الگ قومیں تیار نہیں کرنا چاہتے تو ہم انتظامی طور پر تعلیم کا نظام صوبوں کے حوالے کر بھی دیں، پھر بھی نصاب میں ایک مرکزیت کا ہونا ضروری ہے۔ ہمارا نصاب تعلیم کئی طرح کے مسائل کا شکار ہے۔ ہر مضمون کے اپنے اپنے مسائل ہیں، مثلاً سائنس کے مضامین دہائیوں پرانے ہیں۔ اب وہ سائنسی نظریات ہی متروک ہوچکے ہیں، جن کو پڑھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہوتا ہے۔ طالب علم جب مقابلے کی دنیا میں پہنچتا ہے تو اسے یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو وہ پڑھ کر آیا ہے، وہ نظریات ہی متروک ہوچکے ہیں اور دنیا اب بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ اس طرح وسائل کا ضیاع ہوتا ہے اور نسل نو بھی تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ اس وقت تو ہر سہ ماہی میں دنیا اپنے نصاب تعلیم کا جائزہ لیتی ہے، تاکہ جدید ترین معلومات طلاب کو دی جائیں۔

اسلامیات، تاریخ اور معاشرتی علوم کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا تعلق مذہب سے ہے۔ ایسے میں کچھ لوگ پاکستان کو یک رنگ دکھانے کے چکر میں یہاں موجود مسالک کی رنگا رنگی اور تنوع کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہا کہ چند ایک ہی فکر کے لوگ مل کر نصاب بنا دیتے تھے اور تمام مسالک کے بچوں کو وہ پڑھایا جاتا تھا۔ ان بنانے والوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ دیگر مسالک کے مسلمات کے خلاف ان کو مطالب پڑھا رہے ہیں۔ مثلاً نماز کا طریقہ ایک مسلک کے مطابق دے دیا جاتا تھا، اسی طرح نبی اکرمﷺ کی ذات گرامی حق کے حوالے سے سیرت میں بہت کچھ ایسا تھا، جو اتفاقی نہیں تھا۔ اسی طرح بعض ایسی متنازع شخصیات کو  ہیرو بنایا گیا تھا، جن کی وجہ سے مسلک سے بلند ہو کر ایک قوم کی اہانت ہوتی تھی۔ مثلاً محمد بن قاسم کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جسے سندھ کے لوگوں نے کبھی قبول نہیں کیا اور محبِ اہلبیت ایک طبقہ اس زمانے میں اسے محبان اہلبیت پر ستم ڈھانے والا سمجھتا  ہے۔ ایسے میں سندھی اور محب اہلبیت طالب علموں کے لیے اسے ایک ہیرو کے طور پر پڑھنا بہت تکلیف دہ امر تھا۔

اسی طرح پرانے نصاب کی خرابی اور نئے نصاب کے لیے ایک بڑا چیلنج سیرت طیبہ اور اسلامی تعلیمات کے وہ واقعات و تعلیمات شامل نصاب کرنا ہے، جن میں بچوں کو  دوسرے مسالک کے لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کی تربیت دی جائے۔ ایک بار کیپیٹل ٹاک میں حامد کے ساتھ شریکِ مباحثہ تھا، اس میں اس مسئلہ کی نشاندہی کی تھی کہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، ہم نے اسلامی تربیت کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ ہمارا نصاب غیر مسلموں اور دیگر نظریات و آراء کے لوگوں کے ساتھ تعلقات نہیں سکھاتا، جس سے ہمارا طالب علم معاشرے میں ایڈجسٹ نہیں ہو پاتا۔ چند روز پہلے  چیئرمین اسلامی نظریانی کونسل سے ایک ملاقات میں اسی موضوع پر ایک مکالمہ ہوا، جس میں اور علمائے کرام بھی شریک تھے۔ اس پر اتفاق رائے پایا گیا کہ غلبہ کی نفسیات کا حامل نصاب مسائل پیدا کرتا ہے۔ قارئین کرام ایک بات تو طے ہے کہ بارڈرز سے باہر جا کر لڑنے کا دور اب ختم ہوچکا ہے اور اگر لڑنے والا ذہن تیار کیا جا رہا ہے تو وہ یقیناً موقع پاتے ہی ملک کے اندر فساد برپا کرے گا۔

کافی عرصے سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ موجودہ نصاب کو تبدیل کیا جائے، یہ موجودہ دور کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے ذریعے سے نہ تو قائد کا ماڈل جوان تیار ہو رہا ہے، نہ ہی اقبال کا شاہین بن رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ نصاب کو تبدیل کیا جائے۔ موجودہ حکومت نے ایک نصاب پر کافی تندی سے کام شروع کرایا۔ اس میں سب سے زیادہ مسئلہ اسلامیات اور تاریخ سے متعلقہ نصاب میں تھا، ایک بات پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا گیا کہ بچے کی سکولنگ کے دوران اسے مکمل ترجمہ قرآن پڑھایا جائے گا۔ اس حوالے سے مسلم لیگ کے دور حکومت میں ایچ ای سی کے زیراہتمام ایک ترجمہ قرآن کمیٹی کام کر رہی ہے، جس نے کافی حد تک اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ ویسے یہ بہت اچھا فیصلہ ہے، کیونکہ بہت جعلی مولوی اسلام کے نام پر نہ جانے کیا کیا قوم کو فروخت کرتے رہتے تھے، اب ایسا نہیں ہوسکے گا۔ ایسے مولوی اس وقت سے ڈریں، جب ان کے سامنے بیٹھا ہر جوان مکمل ترجمہ قرآن پڑھا ہوا ہوگا۔ اس نصابی کمیٹی نے اتفاق رائے سے چھٹی سے آٹھویں تک کی اسلامیات کی کتابوں کے نصاب پر اتفاق کیا ہے۔ اس میں بہت سے جعلی اور فرضی واقعات کو نکال دیا گیا ہے، جو باہمی تعصبت اور فرقہ واریت کی بنیاد بن رہے تھے۔ اسی طرح اس میں بہت سے اچھے موضوعات کو شامل کیا گیا ہے، جس سے طالب علم ایک مفید شہری بھی بنے گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامیات پڑھانے والے کی تربیت ایسے کی جائے کہ وہ فرقہ واریت پھیلانے والا نہ ہو، ورنہ نصاب میں تبدیلی کا کماحقہ فائدہ نہ ہوسکے گا۔
خبر کا کوڈ : 936765
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش