0
Monday 7 Jun 2021 20:37

ایران کے صدارتی انتخاب پر ایک طائرانہ نگاہ

ایران کے صدارتی انتخاب پر ایک طائرانہ نگاہ
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

امام خمینی رہ کی بتیسویں برسی کے موقع پر قوم سے اپنے نشری خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ آئندہ صدارتی انتخابات میں عوام کی بھرپور مشارکت اور منصب صدارت پر لائق ترین شخص کا انتخاب بہت سی مشکلات اور مسائل کو حل کرسکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے سماجی انصاف کے قیام، کرپشن کے خلاف بلاتفریق اور کھلی جنگ اور ملکی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے آئندہ منتخب ہونے والے صدر کی ذمہ داریوں کے بارے میں اہم نکات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ عوام خود کو انتحابات میں شرکت اور دوسروں کو اس کی ترغیب دلانے کا پابند سمجھیں۔ آپ نے اسی طرح صدارتی امیدواروں کو بھی اس جانب متوجہ کیا کہ انتخابی مہم میں عوام کے اصلی مسائل کو اثھایا جائے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات میں عوام کی رائے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: معاشرے کا ہر فرد معاشرے اور سماج کی سرنوشت کا ذمہ دار ہے امر بالمعروف سب کی ذمہ داری ہے اور امر بالمعروف کا سب سے اہم پہلو دینی اور اسلامی حکومت کی حمایت اور پشت پناہی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: کسی بھی حکومت کو چلانے کے لئے عوام کی حمایت اور پشت پناہی ضروری ہے اور اسلامی حکومت کے لئے بھی عوام کی حمایت اور پشتپناہی لازمی ہے۔ آپ نے لوگوں کو الیکشن میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے سبھی طبقے خود بھی انتخابات میں شرکت کرنے اور اسی طرح دوسروں کو الیکشن میں حصہ لینے کی دعوت دینے کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امیدوار کے انتخاب میں بہت زیادہ غور کرنے اور امیدواروں کی کارکردگی پر توجہ دینے کی ضرورت پر تاکید کی اور کہا: صرف وعدوں اور باتوں پر اکتفا نہیں کا جا سکتا، جیسا کہ ایٹمی مذاکرات کے مسئلے میں بھی، جو اس وقت جاری ہیں، صرف باتوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور ہم نے عہدیداروں سے ہمیشہ کہا ہے کہ بات، عمل سے بنتی ہے، باتوں اور وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابی مہم کے سلسلے میں صدارتی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ عوام کے ساتھ صداقت پر مبنی پروگرام پیش کریں اور ایسے پروگرام پیش کریں، جو قابل عمل ہوں اور عوام کے اندر انقلاب اسلامی کے بارے میں مایوسی پیدا کرنے سے پرہیز کریں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنی تقریر میں الیکشن کے امیدواروں کو نصیحت کی کہ وہ ایسا کوئی وعدہ نہ کریں، جسے پورا نہ کرسکتے ہوں۔ انھوں نے امیدواروں سے ایک اہم درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہر امیدوار اپنے آپ کو سماجی انصاف کے قیام اور غریب اور امیر کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کا پابند سمجھے۔ ایران میں تیرہویں صدارتی انتخاب کے لئے گہما گہمی جاری ہے۔ صدارتی امیدواروں کے درمیان پہلا ٹی وی مباحثہ ہفتہ کے دن ایران کے معیاری وقت کے مطابق شام پانچ بجے شروع ہوا اور رات آٹھ بجے تک جاری رہا۔ یہ ٹی وی مباحثہ آئی آر آئی بی کے چینل ون اور نیوز چینل سے ایک ساتھ نشر کیا گیا۔

ایران کے صدارتی امیدواروں کے پہلے ٹی وی مباحثے میں اقتصادی اور معاشی مسائل پر بحث ہوئی۔ صدارتی امیدواروں کے درمیان دوسرا ٹی وی مباحثہ منگل آٹھ جون کو اور تیسرا اور آخری ٹی وی مباحثہ سنیچر بارہ جون کو ہوگا۔ سبھی امیدوار مختلف ذرائع سے اپنے انتخابی منشور اور آئندہ کے پروگراموں کے بارے میں عوام کو باخبر کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور پورے ملک میں انتخابی گہما گہمی زور و شور سے جاری ہے۔ ایران کے تیرہویں صدارتی امیدواروں کے درمیان اپنے اپنے انتخابی منشور کو لے ہونے والا براہ راست ٹی وی مباحثہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے ہوگا اور اس مباحثے میں صدارتی امیدوار ملک کے ثقافتی، سماجی اور سیاسی مسائل پر گفتکو اور اپنے پروگراموں کا دفاع اور ایک دوسرے کے انتخابی منشور پر تنقید کریں گے۔

اس سے قبل اس قسم کا پہلا مباحثہ ہفتے کے روز ہوا تھا، جس میں اقتصای مسائل پر بحث و گفتگو ہوئی تھی۔ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات کے ایک نامزد امیدوار سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ پوری دنیا کے ساتھ مفاہمت کا ہونا ضروری ہے، تاہم ملک کی معیشت کو کسی سمجھوتے کے لئے معطل بھی نہیں رکھا جانا چاہیئے۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں اپنی ممکنہ حکومت کی خارجہ و اقتصادی پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کو اس بنا پر معطل نہیں رکھا جا سکتا کہ کسی روز کوئی سمجھوتہ طے ہو اور کسی دن اس پر عمل ہو، اس طرح کی پالیسی درست نہیں ہوسکتی۔ ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ایران دنیا کے مختلف ملکوں کے ساتھ وسیع تعلقات کا خواہاں ہے اور یقینی طور پر پڑوسی ملکوں کو سیاسی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات کے میدان میں ترجیح حاصل ہونی چاہیئے۔ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات کے ایک اور نامزد امیدوار سعید جلیلی نے کہا ہے کہ علاقے میں پیٹرو کیمیکل کی پیداوار کی چھوٹی صنعتوں کی منڈی ایک سو پینتیس ارب ڈالر کے برابر ہے، جس پر توجہ دیئے جانے کی ‍ضرورت ہے۔

انھوں نے ایران کے ادارہ ریڈیو و ٹیلیویژن میں اپنا پروگرام ریکارڈ کرانے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتکو کرتے ہوئے کہا کہ تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکل میں ایران کی گنجائش و توانائی کے پیش نظر حکومت کے پاس علاقے کی منڈی اور پڑوسی ملکوں سے ہونے والی آمدنی کا کوئی پروگرام یا منصوبہ ہونا چاہیئے۔ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات کے ایک اور نامزد امیدوار سید امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی نے کہا ہے کہ خام مواد پیدا کرنے والے ہمارے ملک کو چھوٹی صنعتوں کے ابتدائی ضروری مواد کی فراہمی میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیئے۔ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات کے ایک اور نامزد امیدوار عبدالناصر ہمتی نے بھی کہا ہے کہ پیٹرو کیمیکل اور اسٹیل کی صنعتوں سے اندرونی منڈی کی ضروریات کے ساتھ ساتھ برآمداتی منڈیوں کا بھی تحفظ کیا جا سکتا ہے۔صدارتی انتخابات کے ایک اور نامزد امیدوار محسن رضائی نے بھی کہا ہے کہ مختلف اقوام و مختلف سیاسی گروہوں کا ہرلائق اور باصلاحیت فرد جو توانائی رکھتا ہے اور اچھے کام کرسکتا ہے، حکومت کے اقدامات اور ملک میں لائی جانے والی تبدیلیوں میں شامل ہوسکتا ہے۔

صدارتی انتخابات کے ایک اور نامزد امیدوار مہر علی زادہ نے بھی ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا ہے کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں عوام کی شمولیت اور ان کا کردار بہت اہم ہے اور وہ ملک کے جمہوری نظام کی ساکھ کو مضبوط و مستحکم بنانے اور اس کا تحفظ کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ کورونا کی وجہ سے صدارتی امیدوار جلسے اور ریلیوں سے گریز کر رہے ہیں اور اپنی انتخابی مہم قومی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مختلف ریڈیو اور ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے چلا رہے ہیں۔ آئی آر آئی بی کے چینلوں پر سبھی امیدواروں کو مساویانہ طور پر وقت دیا جا رہا ہے۔ ایران میں صدارتی انتخابات میں سات امیدوار، عدلیہ کے سربراہ سید ابراہیم رئیسی، مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی، قومتی سلامتی کونسل کے سابق سیکرٹری ڈاکٹر سعید جلیلی، امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی، علی رضا زاکانی، محسن رضائی اور محسن مہر علی زادہ میدان میں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 936818
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش