1
Thursday 10 Jun 2021 21:00

ایران کی بڑھتی طاقت سے بونے خوفزدہ

ایران کی بڑھتی طاقت سے بونے خوفزدہ
تحریر: ہادی محمدی
 
خطے کی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر جاری حالات و واقعات کا جائزہ لینے سے انتہائی معنی خیز حقائق کھل کر سامنے آتے ہیں جن کی روشنی میں بعض اوقات براہ راست اور بعض اوقات بالواسطہ بعض رویوں اور اپنائی جانے والی پالیسیوں کی وضاحت بیان کی جا سکتی ہے۔ نئے امریکی صدر جو بائیڈن جو گذشتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی ویرانوں اور کھنڈروں کے وارث ہیں، نے مختلف شعبوں میں خود کو ڈونلڈ ٹرمپ سے مختلف ظاہر کرنے کی سرتوڑ کوششیں انجام دی ہیں۔ لیکن امریکہ پر حکمفرما نظام کی یکساں نوعیت ہونے کے ناطے نیز اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی صلاحیتیں اور درپیش آپشنز انتہائی محدود ہونے کے باعث، جو بائیڈن بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی ہی بہت سی پالیسیوں کو آگے بڑھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
 
جو بائیڈن خطے اور دنیا میں موجود بہت سے زمینی حقائق کا انکار نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف وہ اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے پاس امریکہ کی عالمی طاقت بہتر بنانے یا موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کیلئے بھی زیادہ وقت اور موقع نہیں ہے۔ لہذا وہ اپنے مدمقابل قوتوں کے مقابلے میں نرم جنگ کے ہتھکنڈے بھی استعمال نہیں کر سکتے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین اور روس نیز مغربی ایشیا میں ایران کے مقابلے میں اپنائی گئی پالیسیوں کو ہی جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ یوں نئی امریکی حکومت محدود آپشنز رکھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے بارے میں زیادہ امیدوار بھی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ہر گز علاقائی اور بین الاقوامی حالات اور سیاست اس انتظار میں نہیں رکے گی کہ جو بائیڈن خود کو اور اپنے اتحادیوں کو نجات دے لے۔
 
کم از کم گذشتہ دو عشروں سے مغربی ایشیا اور دنیا میں جاری حالات و واقعات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ میں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ اس کی اتحادی قوتیں بھی شدید زوال کا شکار ہوئی ہیں۔ چونکہ گذشتہ چند عشروں سے امریکہ نے پراکسی وار کی پالیسی پر گامزن ہو کر کئی بین الاقوامی تنظیموں، خطے کے بعض ممالک اور حتی دہشت گرد گروہوں کو اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر پراکسی کے طور پر استعمال کیا ہے لہذا سیاسی ناکامیوں کے باعث نہ صرف امریکہ کا وقار اور اثرورسوخ شدید مجروح ہوا ہے بلکہ اس کے ان اتحادی ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں کو بھی شدید دھچکہ پہنچا ہے۔ یوں امریکہ کی سربراہی میں پورا استعماری نظام زوال کی جانب گامزن ہے۔
 
خطے میں امریکہ کی اسٹریٹجک اتحادی طاقت ہونے کے ناطے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی شکست اور ناکامیوں کا سلسلہ 2000ء میں اس وقت شروع ہوا جب حزب اللہ لبنان نے اسے جنوبی لبنان سے ذلت آمیز انداز میں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر ڈالا۔ اس کے بعد یہ غاصب صہیونی رژیم غزہ اور لبنان کے خلاف متعدد جنگوں میں عبرتناک شکست کا مزہ چکھ چکی ہے جس کی تازہ ترین مثال غزہ کے خلاف بارہ روزہ فوجی جارحیت میں ذلت آمیز ناکامی ہے۔ ان پے در پے اور مسلسل ناکامیوں کے نتیجے میں غاصب صہیونی رژیم کا وجود خطرے میں پڑ چکا ہے اور اب وہ اپنی بقا کیلئے حالت نزاع میں ہاتھ پاوں مارنے میں مصروف ہے۔ اس وقت صہیونی معاشرہ اور حتی صہیونی فوجی اور سکیورٹی سیٹ اپ اس سوال سے روبرو ہے کہ صہیونی رژیم آئندہ چند سال تک اپنا وجود باقی رکھ سکتی ہے؟
 
امریکہ نے نائن الیون کو بہانہ بنا کر اب تک کئی بار مغربی ایشیا کا نقشہ از سر نو تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر بار اسے شدید شکست اور ناکامی کا سامنا ہوا ہے۔ نیو مڈل ایسٹ یا گریٹر مڈل ایسٹ نامی منصوبے ناکام رہے ہیں۔ امریکہ نے عراق پر فوجی جارحیت اور قبضے کے بعد وہاں اپنے ایک فوجی جرنیل کو ایڈمنسریٹر بنایا اور اسی ماڈل کو خطے کے دیگر ممالک پر لاگو کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آج عراق، افغانستان اور شام میں اپنے تمام تر مجرمانہ اقدامات پر پردہ ڈالنے کے باوجود یہاں سے بھاگنے کی سوچ رہا ہے۔ شام میں عوام ایسی حکومت کی حامی دکھائی دیتی ہے جسے گذشتہ کئی سالوں سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک آمر اور عوامی مینڈیٹ سے محروم حکومت ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے آئے ہیں۔
 
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف شدید اقتصادی پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباو پر مبنی پالیسی بھی بے نتیجہ ثابت ہونے کے بعد اب امریکی حکمرانوں نے نئے قسم کے پروپیگنڈے شروع کر دیے ہیں۔ ان میں ایرانی عوام کو صدارتی انتخابات میں شرکت نہ کرنے کی ترغیب دلانے سے لے کر ایران کے جوہری پروگرام کو فوجی مقاصد کیلئے ظاہر کرنا شامل ہیں۔ امریکی حکمران اس حقیقت کو اچھی طرح درک کر چکے ہیں کہ حالیہ جنگ میں غزہ کی عظیم فتح اور شام میں شاندار صدارتی انتخابات کے انعقاد کے بعد ایران کی طاقت اور اثرورسوخ کا پزل مکمل ہو چکا ہے اور اب خطے میں امریکہ کے اتحادی بونے شدید خوف و ہراس کا شکار ہو چکے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی اس نئی صورتحال کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں لہذا اب انہیں اپنے شدید زوال کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 937361
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش