?>?> مشرق وسطی سے امریکہ کا فوجی انخلاء اور ممکنہ نتائج - اسلام ٹائمز
1
Sunday 20 Jun 2021 17:23

مشرق وسطی سے امریکہ کا فوجی انخلاء اور ممکنہ نتائج

مشرق وسطی سے امریکہ کا فوجی انخلاء اور ممکنہ نتائج
تحریر: سید رحیم نعمتی
 
کل ہفتہ 19 جون 2021ء کے روز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک انتہائی اہم خبر کا اعلان کیا ہے۔ اس خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطی میں موجود فضائی دفاع کے اپنے میزائل سسٹمز واپس لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دو قسم کے میزائل سسٹمز ہیں جن میں پیٹریاٹ اور ٹاڈ میزائل سسٹم شامل ہیں۔ اس وقت کویت، عراق اور اردن جیسے ممالک میں امریکہ کے پیٹریاٹ میزائل سسٹم نصب ہیں جبکہ سعودی عرب میں ٹاڈ میزائل سسٹم موجود ہے۔ اس خبر کے مطابق امریکہ نے ان میزائل سسٹمز کو مشرق وسطی سے واپس لانے کے ساتھ ساتھ ان سینکڑوں امریکی فوجیوں کو بھی وطن واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جو ان میزائل سسٹمز اور ان سے مربوطہ یونٹس میں کام کرنے میں مصروف تھے۔
 
امریکی وزیر دفاع لائڈ ایسٹن تقریباً دو ہفتے پہلے سے اس فیصلے کی اطلاع سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دے چکے تھے اور انہیں آگاہ کر چکے تھے کہ امریکہ ان فوجی وسائل کو سعودی عرب سے واپس نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگرچہ امریکہ کا یہ اقدام اس بنیادی پالیسی کے تحت انجام پا رہا ہے جس کا مقصد مشرق وسطی میں فوجی موجودگی کم کرنا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ امریکی اقدام خطے میں اور عالمی سطح پر اہم نتائج اور اثرات رونما ہونے کا باعث بنے گا۔ علاقائی سطح پر اس امریکی فیصلے کا اہم ترین اثر اس کے اتحادیوں پر پڑے گا جنہوں نے اپنے تحفظ کیلئے امریکہ کی فوجی حمایت اور ان میزائل سسٹمز پر بھروسہ کر رکھا تھا۔ امریکی اتحادیوں میں سے بھی سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک سعودی عرب ہو گا۔
 
سعودی عرب نے یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں سے بچنے کیلئے سب سے زیادہ امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم پر بھروسہ کر رکھا تھا۔ چونکہ یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو خاص طور پر نشانہ بنانے میں مصروف ہیں لہذا وہاں موجود امریکی پیٹریاٹ اور ٹاڈ میزائل سسٹمز فضائی دفاع کے حوالے سے بہت اہم تصور کئے جاتے تھے۔ امریکی حکام اب تک بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ وہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم انفرااسٹرکچر کی حفاظت کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتے ہیں۔ لیکن اب اس فیصلے سے امریکی حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد واضح طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ امریکہ سعودی عرب کی حفاظت کرنے کی بجائے فضائی دفاع میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرنے والے میزائل سسٹم وہاں سے باہر نکال رہا ہے۔
 
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود امریکی حکمران بھی سعودی عرب کو یمن سے درپیش ہوائی حملوں کے خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں مغربی ایشیا میں امریکی مرکز کمان (سینٹکام) کے سربراہ جنرل کینت میکنزی نے کہا تھا کہ سعودی عرب امریکہ کی جانب سے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے کی پالیسی کے بارے میں شدید پریشان ہے۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ امریکہ سعودی حکام کی مرضی کے خلاف اور ان کی جانب سے اصرار کے باوجود مشرق وسطی میں اپنی فوجی موجودگی کم کر رہا ہے اور یہاں موجود اپنے فضائی دفاع کے میزائل سسٹمز واپس لے جا رہا ہے۔ اس کا ایک نتیجہ اس صورت میں بھی نکل سکتا ہے کہ سعودی حکمران اپنی سکیورٹی ضروریات پورا کرنے کیلئے امریکہ کے علاوہ کسی اور ملک کی طرف جھکاو پیدا کر لیں۔
 
سعودی حکمران ماضی میں روس سے ایس 400 میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کی کوشش بھی کر چکے ہیں اور 2017ء میں روسی حکام سے اس بارے میں مذاکرات بھی انجام دے چکے ہیں۔ اس وقت ایسی خبریں بھی سننے کو ملی تھیں کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک میں فوجی معاہدہ طے پا گیا ہے لیکن بعد میں امریکی حکمرانوں کے دباو پر سعودی حکمران اس ڈیل سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ اسی طرح سعودی عرب نے فرانس سے بھی میزائل ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا تھا اور روس سے پہلے فرانس سے جی ایم 200 سسٹم بھی خرید چکا تھا جس کا کام ڈرون طیاروں کو تلاش کرنا ہے۔ سعودی عرب چین سے بھی اس قسم کے فوجی وسائل خرید سکتا ہے۔
 
یوں مشرق وسطی سے امریکی فضائی دفاع کے میزائل سسٹمز نکل جانے کے بعد روس، چین اور یورپی ممالک کیلئے اپنا فوجی سازوسامان بیچنے کا موقع میسر آ جائے گا۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ یہ صورتحال اس ہدف سے تضاد رکھتی ہے جس کیلئے امریکہ مشرق وسطی میں اپنی فوجی موجودگی کم کر رہا ہے۔ پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کی فوجی موجودگی کم کرنے کا مقصد اپنی تمام تر توانائیاں چین اور روس پر مرکوز کرنا ہے۔ جبکہ مذکورہ بالا صورتحال کے نتیجے میں روس اور چین کو اپنی فوجی مصنوعات بیچنے کیلئے مشرق وسطی کی منڈی میسر ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں امریکی اثرورسوخ میں بھی واضح کمی آئے گی۔ اسی طرح خطے میں امریکہ کے روایتی اتحادی بھی اپنی سکیورٹی ضروریات کیلئے امریکہ پر بھروسہ کرنے کی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 939102
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش