0
Monday 21 Jun 2021 12:24

ایران کا انتخاب مغرب کے منہ پہ طمانچہ

ایران کا انتخاب مغرب کے منہ پہ طمانچہ
تحریر: ارشاد حسین ناصر

ایک ایسے وقت میں جب امریکہ پاکستان و ایران کے ہمسائے ملک افغانستان سے فوجی انخلاء مکمل کرنے میں لگا ہوا ہے، افغان طالبان ایک بار پھر کابل پر قبضے کے خواب دیکھ رہے ہیں، لگ بھگ چوبیس صوبوں پر اپنے جھنڈے لہرا چکے ہیں اور اپنے کنٹرول میں کرچکے ہیں، ایران کے ہمسائے عراق میں بھی امریکہ کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور امریکی انخلاء ایک عوامی مطالبہ بن چکا ہے۔ بالخصوص شہید جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد اس ملک میں بھی امریکی مفادات کو آئے روز نشانہ بنایا جاتا ہے اور مزاحمت عراق نے امریکہ کا جینا حرام کر دیا ہے۔ شام میں ایران کا اتحادی بشار الاسد ایک بار پھر عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوچکا ہے، فلسطین اور غزہ میں حالیہ جنگ میں اسرائیل کو شدید ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ فلسطینی مجاہدین نے اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے کئے ہیں اور اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے۔ نیتن یاہو اقتدار سے محروم کیا جا چکا ہے، لبنان میں مقاومت اسلامی تمام تر مشکلات اور عالمی سازشوں کے باوجود اپنے جوبن پر ہے، جس نے شام سے لیکر عراق تک اور یمن سے لیکر بیت المقدس تک اپنا کردار ادا کیا ہے۔

دوسری طرف یمنی مجاہدین نے اپنی مزاحمت اور مظلومیت سے آل سعود اور ان کے اتحادیوں، جن میں امریکہ و اسرائیل بھی شامل ہیں، رسوا کر دیا ہے۔ اس منظر نامے میں جب ہر سو استعمار اور اس کے اتحادیوں کو ناکامی، رسوائی اور شکستوں کا سامنا ہے، جمہوری اسلامی ایران میں طلوع ہونے والی اک نئی سحر نے مزید مایوس کرکے رکھ دیاہے۔ امریکہ اور اس کے لے پالکوں کی بہت ہی زیادہ کوشش اور خواہش تھی کہ ایران کے تیرہویں صدارتی الیکشن میں ایسا امیدوار آجائے، جو موجودہ حکمرانوں کا تسلسل ہو، کم از کم اس سے مذاکرات کے چکر میں کچھ لے اور کچھ دے والا معاملہ کر لیا جائے۔ چونکہ سابق امریکی صدر ڈونڈ ٹرمپ نے آتے ہیں ایران سے فائیو پلس ون معاہدہ سے یکطرفہ طور پہ نکل جانے کا اعلان کیا تھا اور نئی امریکی پابندیاں بھی لگائی تھیں، جو ایرانی عوام کی امریکہ سے نفرت میں اضافہ کا باعث ہوئیں، موجودہ صدر اور ان کی ٹیم شاید یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے پیشرو سے یہ غلطی ہوئی تھی، جس کا ازالہ اب ممکن نہیں۔

ایران میں ہوئے حالیہ الیکشن میں عوام نے آیة اللہ ابراہیم رئیسی کو اگلے چار سال کیلئے صدر منتخب کر لیا ہے۔ نومنتخب ایرانی صدر آقائے ابراہیم رئیسی پر امریکہ نے پہلے ہی پابندیاں لگا رکھی ہیں، جو سراسر غیر قانونی و غیر اخلاقی ہیں۔ گذشتہ تینتالیس برس سے امریکہ نے ایران اور اس کی نامور شخصیات پر اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں، جن میں ہر دور میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کو ترقی سے روکنا ہے، اسے اپنے شکنجے میں کسنا  ہے، اسے عربوں کی طرح اپنا مطیع و فرمانبردار بنانا ہے، تاکہ اس کا بغل بچہ اسرائیل اس خطے میں کھل کھیلے، مگر ایران نے ان پابندیوں کا مقابلہ کیا ہے، اپنی غیرت و حمیت کا سودا نہیں کیا، اپنے استقلال و آزادی پر آنچ نہیں آنے دی۔ ہاں اگر کسی بھی دور میں مذاکرات کئے ہیں تو اپنی شرائط پر معاہدہ کیا ہے، نہ کہ دشمن کی من مانی شرائط پر پائوں پڑ گیا ہو۔

اہل مغرب اور ایران میں بعض قوتوں کی کوشش تھی کہ انتخابات میں کم سے کم ٹرن آئوٹ ہو، تاکہ آقائے رئیسی منتخب نہ ہوسکیں یا کم از کم پہلے مرحلے میں کہ جس میں شرط ہے کہ منتخب ہونے والا امیدوار کل کاسٹ ووٹوں میں سے پچاس فیصد سے زیادہ حاصل کرے، اس میں انتخاب نا ہو سکے، مگر اہل ایران نے اس سازش کو ناکام بنایا ہے، باوجودیکہ ایران میں کرونا کی شدید لہر ہے، مغرب کا پراپیگنڈہ کہ اصل امیدواروں کو چھانٹی میں ہی نکال دیا گیا، جن کی نااہلی کے بعد آقائے رئیسی کا منتخب ہونا بہت حد تک واضح ہو رہا تھا، اس بنیاد پر لوگوں کا مائنڈ سیٹ بنانا کہ انتخاب کا کوئی فائدہ نہیں، ایسا پراپیگنڈہ بہت سے چینلز اور عالمی میڈیا کر رہا تھا، اس میں اس بار انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ہی انتخابات نہایت پرامن ہوئے، لوگوں نے آزادی کیساتھ رات بارہ بجے تک اور بعد ازاں رات دو بجے تک بڑھائے گئے وقت میں اپنے ووٹ کاسٹ کئے۔

اگرچہ بہت سے مقامات پہ انتخابی عمل تاخیر سے شروع کیا گیا، بعض مقامات پہ ووٹرز کی مجوزہ تعداد سے کم پرچیاں رکھی گئیں، بعض مقامات پہ ووٹرز موجود تھے تو انتخابی عمل روک دیا گیا، یہ اور اس طرح کی شکایات سامنے آئیں مگر اس کے باوجود مطلوبہ ہدف سے زیادہ کاسٹنگ ووٹس نے امریکہ اور ان کے حواریوں کے ارادوں پر پانی پھیر دیا اور آقای ابراہیم رئیسی اگلے چار سال کیلئے صدر منتخب ہوگئے۔ یاد رہے کہ ایران میں انتخابات وزارت داخلہ کے تحت ہوتے ہیں، جس نے اگر کچھ خرابیاں کی ہیں تو بعید نہیں کہ وہ جان بوجھ کر، کر رہے تھے، اس لئے کہ انہیں اپنی شکست واضح نظر آرہی تھی۔ آقای ابراہیم رئیسی کا جمہوری اسلامی ایران کا صدر منتخب ہونا سراسر نیک فال ہے، اس لئے کہ اس انتخاب سے ایک طرف تو مقاومت اسلامی اور مزاحمتی قوتوں کو خوشی ہو رہی ہے اور وہ اس انتخاب سے بہت زیادہ مسرت و شاداں ہیں، ان کی جو مدد جمہوری اسلامی کی طرف سے ہوتی ہے، چاہے وہ اقتصادی ہو یا نظریاتی، عملی ہو یا فکری اس کا تقاضا ایسا ہی انتخاب تھا۔

لہذا مقاومت اسلامی و مزاحمت اسلامی، چاہے ان کا تعلق عراق سے ہو یا افغانستان سے، شام سے ہو یا لبنان سے، فلسطین سے ہو یا نائیجیریا سے، یمن سے ہو یا حجاز سے، پاکستان سے ہو یا کشمیر سے، ہر جگہ اس انتخاب سے اطمینان کا پیغام مل رہا ہے جبکہ اس کے مقابل دشمن کے خیمہ میں اس سے ہلچل مچی ہوئی ہے، خیمہ دشمن امریکہ کا ہو یا اسرائیل کا، آل سعود کا ہو یا کسی بھی تکفیری و استعماری قوت کا، اس میں آقای ابراہیم رئیسی کے انتخاب سے بے چینی و اضطراب دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ آقای ابراہیم رئیسی کے بارے میں یہ لوگ آگاہ ہیں کہ انہوں نے کس طرح ایران میں کرپشن کرنے والے بڑے بڑے ناموں پر ہاتھ ڈالا ہے اور بنا کسی رو رعایت کے انصاف و عدل کے نفاذ کیلئے کردار ادا کیا ہے۔ عدل و انصاف کے بغیر معاشرہ کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا، ہمارے ملک میں اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

 وہ ایک ایسی شخصیت ہیں، جن کا ربط و تعلق مزاحمتی قوتوں اور مقاومت اسلامی سے ڈھکا چھپا نہیں، اب جب امریکہ اور اس کے اتحادی پہلے ہی شکست و ریخت کا شکار ہیں اور انہیں پے در پے ناکامیاں مل رہی ہیں اور انہیں فرار کے ماسوا کچھ نظر نہیں آرہا تو ایسے میں ایک ایسے شخص کا ایرانی صدر منتخب ہونا جو مزاحمتی قوتوں کا کھلا پشتبان ہو، ان کے خیموں میں مایوسی اور ناامیدی پھیل جانے کا ہی باعث ہوگا۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران کے نومنتخب صدر آقای ابراہیم رئیسی کی شکل میں دنیا ایران کے ایک انقلابی کردار اور شکل کو پھر سے دیکھے گی۔ ہمیں بھی ان سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ اسلام کے حقیقی چہرہ کو دنیا پر آشکار کرنے اور غیرت و حمیت اور آزادی و استقلال کے شعار کو عملی کرنے کیلئے رہبر معظم امام سید علی خامنہ ای کی رہبری و رہنمائی میں جمہوری اسلامی کو اسلام کا مضبوط مرکز بنائیں گے اور استعمار و اسلام دشمنوں کو مزید مایوسی سے دو چار کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 939266
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش