0
Tuesday 22 Jun 2021 20:49

پاکستان سے تازہ ہوا کا جھونکا

پاکستان سے تازہ ہوا کا جھونکا
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان نے ایک خصوصی ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں فوجی کارروائی کے لئے پاکستان کی زمین استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم امریکا کو افغانستان میں فوجی کارروائی کے لئے پاکستان میں اڈے دیں۔ اس انٹرویو کے دوران وزیراعظم سے سوال کیا گیا تھا کہ "کیا پاکستان امریکی حکومت کو سی آئی اے کے ذریعے افغانستان میں القاعدہ، داعش یا طالبان کے خلاف کراس بارڈر اینٹی ٹیرر مشن جاری رکھنے کی اجازت دے گا؟" صحافی جوناتھن سوان کے لئے اس سوال کے جواب میں وزیراعظم کی طرف سے جو بغیر کسی لگی لپٹی کے ؛"ہرگز نہیں؛" کا جواب اس قدر حیران کن تھا کہ صجافی کو ضمنی سوال میں پوچھنا پڑا کہ "کیا آپ سنجیدگی سے یہ  سب کچھ کہہ رہے ہیں۔؟"

پاکستانی وزیراعظم کے اس بیان کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک آرٹیکل  لکھ کر اس میں امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور امریکہ کو خطے کے بہت سے مسائل کا ذمہ دار بھی ٹھرا دیا۔ اس مضمون میں پاکستان کے وزیراعظم نے افغانستان میں امریکہ کی بیس سالہ موجودگی کو دنیا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کی اہم وجہ قرار دیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے اپنے ایک مقالے میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں دو عشروں کی امریکی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ کی اس جنگ نے بلاشبہ پاکستان کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے  سربراہ عمران خان نے ایک بار پھر سرزمین پاکستان پر امریکہ کو  فوجی اڈے دیئے جانے اور افغانستان سے مربوط کسی بھی فوجی مہم جوئی میں مشارکت کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے لکھا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی اقدام سے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، ستر ہزار سے زائد پاکستانی مارے گئے ہیں اور ڈیڑھ سو ارب کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے درمیان، عمران خان کا یہ بیان اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان گہرے اختلافات اور پاکستان کی تشویش کی نشاندھی کرتا ہے۔  وزیراعظم عمران خان نے افغانستان سے امریکہ کے غیر ذمہ دارانہ انخلا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین فوجی مشینری کے باوجود امریکہ  بیس برس تک جاری رہنے والی جنگ افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے تو وہ ہماری سرزمین پر ایک فوجی اڈہ حاصل کرکے اس ناکامی کا بھلا کیسے ازالہ کرسکتا ہے۔ پاکستان کی افغان پالیسی کی سنجیدگی کے حوالے سے یہ سوال مختلف فورمز پر مختلف صورتوں میں اٹھایا جا رہا ہے۔ تاہم اس کا کوئی حتمی جواب دستیاب نہیں۔ اس دوران پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان الزامات کا تبادلہ بھی تند و تیزی سے جاری ہے۔

پینٹاگون کے حکام نے اپنے تازہ ترین دعوؤں میں ایک بار پھر کہا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کی صورت میں دہشت گرد عناصر دو سال کے اندر مغرب کے خلاف حملوں کے لئے آمادہ ہو جائیں گے اور القاعدہ اور داعش دہشت گرد گروہ کے عناصر مغرب میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی تیاری کر لیں گے۔ امریکی وزیر جنگ لوئیڈ آسٹن اور جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف مارک میلی نے امریکہ کی فوجی مداخلت کی توجیہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر افغانستان سے فوجی انخلا کا عمل مکمل ہونے پر اس ملک میں اندرونی خانہ جنگی اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جک سالیوان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی سفارت خانوں پر طالبان گروہ کے حملوں کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس سے قبل امریکہ کے نائب وزیر دفاع رونالڈ مولٹری نے امریکی کانگریس سے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان گروہ کی پیش قدمی اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہ کے از سرنو منظم ہونے کی صورت میں امریکی فوجی افغانستان میں دوبارہ واپس جانے کے لئے تیار ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے اس قسم کے بیانات افغانستان سے غیر مشروط انخلا پر مبنی ان کے دعوے کے بارے میں ماضی سے کہیں زیادہ شکوک و شبہات کو جنم دے رہے ہیں۔ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا تاخیر کے ساتھ، تاہم ذلت آمیز انخلا، عمل میں آ رہا ہے، وہ بھی ایسی صورت میں کہ اس ملک میں امریکہ کی بیس سال کی فوجی موجودگی کا نتیجہ افغانستان میں قتل عام و غارتگری، خون خرابے، دہشت گردی کے فروغ اور منشیات کی پیداوار میں ماضی سے کہیں زیادہ اضافے کے سوا اور کچھ نہیں نکلا ہے، جس نے اس ملک کو مکمل طور پر تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دو ہزار ایک میں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف مہم اور اس ملک میں قیام امن نیز منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ روکنے کے بہانے بری طرح سے جارحیت کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس ملک کی نہ صرف اقتصادی تنصیبات تباہ و برباد ہوگئیں بلکہ قتل و غارتگری اور دہشت گردی کا بازار بھی گرم ہوگیا۔ اس کے علاوہ منشیات کی پیداوار و اس کی اسمگلنگ میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیا اور یہ ایسی صورت میں ہے کہ افغان حکام اور عوام ہمیشہ سے ہی اپنے ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا پرزور مطالبہ کرتے رہے۔

افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے بعد اس ملک کے مستقبل کے بارے میں کوئی فوری پیشگوئی قبل از وقت ہے، لیکن پاکستان کا اس سے متاثر ہونا یقینی امر ہے۔ اس صورت حال میں پاکستانی وزیراعظم کا حالیہ دبنگ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس موقف کی تائید امریکی پالیسیوں کے خلاف کسی مسلمان حکمران کی ہمت و حوصلے کی تائید ہے۔ کاش دوسرے مسلمان حکمران بھی آزادی و خود مختاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واشنگٹن سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں۔ عمران خان کے اس موقف کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، البتہ عمران خان کے بعض مخالفین عمران خان پر یہ الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ عمران خان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ وہ کسی بھی وقت یو ٹرن لے سکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 939506
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش