1
Tuesday 22 Jun 2021 22:26

مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوری حکمت عملی

مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوری حکمت عملی
تحریر: ہادی محمدی
 
موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے الیکشن مہم کے دوران یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی تھی کہ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتہاپسندی پر مبنی ڈاکٹرائن کی مذمت کرتے ہیں اور یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد اعتدال پسندانہ حکمت عملی اور پالیسیاں اختیار کریں گے۔ لیکن برسراقتدار آنے کے بعد جو بائیڈن نے مغربی ایشیا (مشرق وسطی) خطے میں اور عالمی سطح پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی اور پالیسیوں کو ہی نئے نعروں اور نئی اصطلاحات کے سائے میں جاری رکھا اور انتہائی محدود پیمانے پر صرف ایسے جزئی امور میں تبدیلی ایجاد کی جو یا تو براہ راست یا بالواسطہ طور پر امریکی مفادات پر منفی اثر ڈال رہے تھے یا امریکہ کی خارجہ پالیسی میں رکاوٹ کا باعث بن رہے تھے۔
 
امریکہ کی قومی سلامتی کی دستاویزات بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہیں اور ان میں چین اور روس کو امریکہ کیلئے فوری خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح چین اور روس کے خلاف دباو برقرار رکھنے کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عالمی سطح پر امریکہ کی پوزیشن کا دفاع کرنا، امریکی طاقت اور اثرورسوخ کے زوال میں تیزی کو کم کرنا اور چین اور روس کی طاقت اور اثرورسوخ میں اضافے کی شرح کو کم کرنا ہے۔ مغربی ایشیا امریکہ کی خارجہ سیاست میں ایک انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل خطہ جانا جاتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اس خطے میں شدید چیلنجز اور ناکامیوں کا شکار ہو کر کمزور ہو چکے ہیں جبکہ امریکہ، چین اور روس کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی فوجی موجودگی بھی کم کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
 
لیکن اس کے باوجود مغربی ایشیا میں نئی امریکی حکومت کی جانب سے نرم حکمت عملی اور پالیسیاں اختیار کئے جانے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے بلکہ اس کے برعکس سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈاکٹرائن جاری رکھنے یا اس سے بھی زیادہ شدت پسندانہ اور جارحانہ ہتھکنڈے بروئے کار لانے کا امکان موجود ہے۔ البتہ ایران کے مقابلے میں امریکہ کے پاس اس "زیادہ سے زیادہ دباو" سے بڑھ کر کوئی ہتھکنڈہ موجود نہیں جسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاگو کر رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ امریکی حکومت محض متکبرانہ انداز میں دھمکیاں دینے اور ایران کو مرعوب کر کے اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے گذشتہ چار ماہ سے ویانا میں جاری مذاکرات میں بھی مفاہمت کا سنہری موقع کھو دیا ہے۔
 
اگرچہ امریکہ کے بعض حکومتی عہدیداروں، اہم شخصیات اور تھنک ٹینکس کے طور پر پہچانے جانے والے تحقیقاتی اداروں نے امریکی حکومت پر ایران سے فوری طور پر معاہدہ انجام دینے پر زور دیا ہے لیکن بائیڈن حکومت نفسیاتی دباو اور سفارتی ہتھکنڈوں کے ذریعے سابقہ جوہری معاہدے میں واپسی سے گریزاں ہے۔ یاد رہے اگر امریکہ سابقہ جوہری معاہدے میں واپس آنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے وہ تمام اقدامات انجام دینا ہوں گے جن کی انجام دہی مذکورہ معاہدے میں امریکہ کیلئے ضروری قرار دی گئی تھی۔ امریکی حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ایران سے مفاہمت مشکل سے مشکل تر ہوتی جائے گی۔ لہذا اس نے خطے میں دوبارہ سے دہشت گردی کا جن بوتل سے باہر نکالنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
 
موجودہ امریکی حکومت اس منصوبے کے ذریعے ایک طرف خطے میں ایران کے بڑھتے اثرورسوخ کو روکنے کے درپے ہے جبکہ دوسری طرف خطے میں اپنے اتحادیوں خاص طور پر اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے روز افزوں زوال اور نابودی کی روک تھام کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح جو بائیڈن حکومت خطے میں اپنی فوجی موجودگی کم کر کے اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کے ذریعے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی پالیسی اختیار کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ افغانستان میں بھی مشابہہ حکمت عملی پر گامزن ہے۔ افغانستان میں امریکہ چند محدود اور اہم علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس ملک میں شدید بدامنی اور جنگی صورتحال پیدا کرنے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے۔ امریکہ افغانستان کے سیاسی میدان میں نئے کھلاڑی لا کر اس ملک کی سیاست پر قابض ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔
 
اسی طرح عراق میں بھی امریکہ مکمل طور پر شکست اور ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کے ہاتھ سے تقریباً تمام مہرے خارج ہو چکے ہیں۔ لہذا اب امریکی حکومت نے عراق میں اپنے کٹھ پتلی وزیراعظم مصطفی کاظمی کو اقتدار میں برقرار رکھنے کا کھیل شروع کر رکھا ہے۔ اس مقصد کیلئے امریکہ عراقی پارلیمنٹ سمیت تمام قانونی اداروں کو جمود کا شکار کر دینا چاہتا ہے۔ اسی طرح مذہبی فرقہ واریت کا فروغ اور قومی تعصبات کی بنیاد پر انتشار بھی امریکی ایجنڈے میں شامل ہے۔ اس بات کے قوی شواہد دیکھے گئے ہیں کہ امریکی حکومت عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی دوبارہ تشکیل کی کوششوں میں مصروف ہے۔ لیکن خطے میں امریکہ کی سب سے بڑی کمزوری مقبوضہ فلسطین میں کمزور صہیونی کابینہ ہے جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 939507
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش